طلاق کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بڑی وجہ منفی رویے ہیں ‘ تمام مسالک کے علماءکا متفقہ فیصلہ سامنے آگیا

طلاق کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بڑی وجہ منفی رویے ہیں ‘ تمام مسالک کے علماءکا ...
طلاق کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بڑی وجہ منفی رویے ہیں ‘ تمام مسالک کے علماءکا متفقہ فیصلہ سامنے آگیا

  


لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)صبر اور تحمل مزاجی ایک ایسا عمل ہے جس سے ہم بہت بڑے انتشار سے بچ سکتے ہیں‘ چھوٹی چھوٹی باتوں کو رائی کا پہاڑ بنانے کے بجائے حکمت و دانائی سے معاملات حل کئے جاسکتے ہیں۔ اخلاقیات کے بارے میں قرآن پاک میں بھی ارشادات فرمائے گئے ہیں جو ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔

نجی ٹی وی چینل ’’ جیو تیز ‘‘ کی رمضان ٹرانسمیشن ”اسلام اورمیری زندگی “بعنوان ”ہمارے رویے اور چھوٹی چھوٹی خامیاں“ کے موضوع پرتمام مسالک کے معروف علماءکرام جن میں علامہ حافظ عاکف سعید امیر تنظیم اسلامی ،علامہ ڈاکٹر محمد امین جنرل سیکرٹیری ملی مجلس شرعی ، مولانا ڈاکٹر علی اکبر الازہری اورمولاناسید وقار الحسنین نقوی شامل تھے۔پروگرام کے میزبان ”محمد ضیا ءالحق نقشبندی “نے علماءکا متفقہ فیصلہ پڑھتے ہوئے کہا کہ معاشرے میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت کی روش معاشرے کو تباہی کی طرف لے کر جارہی ہے ‘ جس کی بہتری کیلئے ہم سب کو مل کر کردار ہونا ہوگا ‘ اگر ہمارے رویے ایسے ہی تلخ اور عدم برداشت پر معمور رہے تو پھر اس معاشرے کو تباہ ہونے سے کوئی نہیں بچاسکے گا۔انہوں نے کہاکہ سوشل میڈیا کے بے ہنگم استعمال نے ہمارے معاشرتی رویوں پر بھی گہرے اور منفی اثرات ڈالے ہیں‘ انہوں نے کہاکہ حدیث پاک میں سیرت و اخلاق میں بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ معاشرے میں عدم برداشت کی وجوہات کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے‘ ہم انتشار کا شکار رہے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔ مسائل کے حل کیلئے ضروری ہے کہ ہر فرد اپنے رویے میں مثبت تبدیلی لے کرآئے‘ ذہنوں میں منفی خیالات جنم دینے کی بجائے مثبت خیالات کو فروغ دیں۔ کسی پر تنقید کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ ہم اپنے گریبان میں جھانکیں ‘ تاکہ دوسرے کو مورد الزام ٹھہرانے سے پہلے حقائق جانے جاسکیں۔ علماءکرام نے متفقہ طور پر کہاکہ طلاق کے بڑھتے ہوئے رحجان کی بڑی وجہ منفی رویے ہیں ‘ خاندانی نظام کو بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی باتوں کو معاف کرنا اور بڑی بڑی باتوں کا جواب دینے کے بجائے معاف کرنا شروع کردیں‘ ہماری سوسائٹی کو بے لگام میڈیا نے تباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے۔ والدین اپنی اولادوں کو سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کرنے سے روکیں۔اس موقع پر علماءکرام نے ایک مشترکہ اعلامیہ پر دستخط بھی کیے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ گیارہ ماہ اچھے مسلمان بنیں تو پھر ہمیں رمضان کا مہینہ بھرپور طریقے سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کیلئے گزارناچاہئے

مزید : Ramadan News