پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ

پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ

پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کے طور پر ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے حلف اٹھا لیا ہے، ان کی نامزدگی الیکشن کمیشن نے اپنے آئینی اختیارات کے تحت کی تھی، اس سے پہلے وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف اور پارلیمانی کمیٹی میں چونکہ نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا اس لئے یہ معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا گیا جس نے اپنے فیصلے کا اعلان کیا تو مسلم لیگ (ن) نے اس پر تحفظات ظاہر کئے، لیکن اس سے آگے کوئی ایسا پلیٹ فارم نہیں تھا، جہاں معاملے کو لے جایا جاتا، نہ کوئی عدالتی چارہ جوئی ممکن ہے، مسلم لیگ (ن) کا اعتراض اور نظر ثانی کی درخواست الیکشن کمیشن نے مسترد کردی اور کہا کہ نام کا انتخابات آئین کے تحت کیا گیا ہے۔ اس کے بعد ڈاکٹر حسن عسکری کے نام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، مسلم لیگ (ن) کو اعتراض یہ تھا کہ ڈاکٹر عسکری پارٹی کے بارے میں متعصبانہ اور مخالفانہ نقطہ نظر رکھتے ہیں جس کا اظہار وہ اپنے کالموں میں ٹویٹس میں بڑی باقاعدگی سے کرتے رہتے ہیں۔

اب جبکہ ڈاکٹر عسکری نے پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ کا منصب سنبھال لیا ہے تو ہر سیاسی جماعت ان سے یہی توقع رکھے گی کہ وہ اپنے فرائض اس انداز میں انجام دیں کہ ان پر جانبداری کا الزام نہ لگے، ابھی انہوں نے اپنی کابینہ کا انتخاب کرنا ہے جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ مختصر ہوگی، کابینہ کے نام سامنے آئیں گے تو اندازہ ہوجائے گا کہ وہ اپنے اس مختصر عہد میں کس قسم کے لوگوں کو اپنے معاون کے طور پر ساتھ رکھنا چاہیں گے، ’’جمالِ ہم نشیں‘‘ بہرحال بڑی اہمیت رکھتا ہے۔

کابینہ ڈویژن نے نگران وفاقی حکومت کے کردار و فرائض کی جو فہرست جاری کی ہے وہ اگرچہ وفاق کی رہنمائی کے لئے ہے تاہم صوبے بھی اس کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل بنا سکتے ہیں، وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں بنیادی طور پر تو نئے انتخابات کے لئے تشکیل پاتی ہیں اور ان کی اہم ترین ذمے داری یہی ہوتی ہے کہ وہ شفاف، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ انتخابات کرائیں، نگران وزیراعلیٰ نے یہ یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کسی سیاسی جماعت کو شکایت کا موقع نہیں دیں گے چونکہ ان کی نامزدگی پر مسلم لیگ (ن) کا اعتراض بھی سامنے آچکا ہے، اس لئے انہیں اپنے کردار و عمل اور اقدامات کے ذریعے کوئی ایسی بات نہیں کرنی چاہئے جس پر حرف گیری ممکن ہو، تحریک انصاف نے ان کا نام دیا تھا اس لئے ووہ تو اسے اپنی کامیابی ہی تصور کررہی ہے تاہم اب نگران وزیراعلیٰ کا امتحان بھی شروع ہوچکا ہے، اس لئے انہیں محتاط طرزِ عمل اپنانا ہوگا۔

ڈاکٹر حسن عسکری کا کہنا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن) کی رائے سنتے ہیں اور آئندہ بھی سنیں گے اور اگر مسلم لیگ (ن) نے ان کے تقرر پر اعتراض کیا ہے تو اس میں بھی انہیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی، ان کی نامزدگی کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کیا ہے، اور ہم الیکشن کمیشن کی گائیڈ لائنز پر ہی آگے بڑھیں گے، ان کا کہنا تھا کہ سب متفق ہیں کہ وقت پر عام انتخابات ہوجائیں، ان کے یہ خیالات مثبت ہیں اور امید ہے کہ وہ ایسے ہی انداز میں آگے اس طرح بڑھیں گے کہ معترضین کو بھی اپنی رائے بدلنی پڑے، چونکہ عملی اقدامات الفاظ سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں اس لئے اگر اپنے دور میں وہ ایسے اقدامات کرتے ہیں جو آزادانہ اور منصفانہ الیکشن میں ممد و معاون ثابت ہوں تو اعتراض کرنے والوں کی شکایت خود بخود بے حیثیت ثابت ہوجائیگی، تاہم اگر انہوں نے کسی بھی وجہ سے ایسے اقدامات اٹھائے جن پر حرف گیری کی گنجائش ہو تو مسلم لیگ (ن) یہی مؤقف اپنائے گی کہ ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ ان کا انتخاب درست نہیں ہے۔

یہ بات تو اپنی جگہ صحیح ہے کہ الیکشن کمیشن نے آئینی اختیارات کے تحت ہی ڈاکٹر حسن عسکری کا انتخاب کیا ہے اور جو نام کمیشن کو بھیجے گئے تھے انہی میں سے کسی ایک کا انتخاب ممکن تھا، فنی طور پر درست ہونے کے باوجود یہ بات سامنے آئی ہے کہ آئین میں نگران وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ کا جو طریقِ کار اپنایا گیا ہے اس میں فالٹ لائنز موجود ہیں، وزیراعظم کے انتخاب میں جس خوش اسلوبی سے تمام مراحل طے ہوئے اس سے آئین کی منشا بھی پوری ہوئی، وزیراعظم اور قائدِ حزب اختلاف سمیت تمام سیاسی جماعتوں نے اس پر مجموعی طور پر اطمینان ہی ظاہر کیا، شاہد خاقان عباسی کہتے تھے کہ ہم ایسا وزیراعظم لائیں گے جس پر کسی جانب سے انگلی نہیں اٹھ سکے گی، یہ بات بڑی حد تک درست ثابت ہوئی، لیکن وزرائے اعلیٰ کے انتخاب میں خاصی بدمزگی دیکھنے میں آئی، سب سے پہلے تو خیبر پختونخوا میں جو نام وزیراعلیٰ اور قائد حزب اختلاف نے طے کیا اس پر اگلے دن ہی تنازعہ سامنے آگیا، چنانچہ تحریک انصاف نے نام واپس لے لیا اور پھر اس کا فیصلہ بھی الیکشن کمیشن کو ہی کرنا پڑا، الیکشن کمیشن کا فیصلہ عام طور پر سراہا گیا، لیکن بد قسمتی سے پنجاب کے معاملے میں ایسا نہ ہوسکا، یہاں بھی تحریک انصاف اپنا نام دے کر دو دن بعد یوٹرن لے گئی جس سے ایک نیک نام بیورو کریٹ کی سبکی بھی ہوئی اور بعد میں مسلم لیگ (ن) کا منتخب کئے گئے نام پر اعتراض بھی سامنے آیا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ طریقِ کار مستقبل میں چل سکتا ہے، ہمارے خیال میں آئندہ جب کبھی نگران حکومت کے تقرر کا معاملہ درپیش ہوگا اختلاف رائے پہلے کی نسبت زیادہ ہی ہوگا۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ یہ طریقِ کار مشاورت کے ساتھ تبدیل کرلیا جائے، جو قوانین بنائے جاتے ہیں وہ جتنی بھی نیک نیتی سے بنیں اگر وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ ان میں کوئی سقم سامنے آتا ہے تو اس کا حل یہی ہے کہ اسے دور کرلیا جائے، اب تو جو ہونا تھا ہوگیا، اعتراض سامنے آنے کے باوجود عملی طور پر کوئی ازالہ ممکن نہیں ہوسکا لیکن اگر اس طریقِ کار کی وجہ سے کوئی متفقہ نام سامنے لانے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں تو اسے تبدیل کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں تاکہ آئندہ اس میں بہتری لائی جاسکے، یہ کام اگلی پارلیمنٹ کا ہے کہ وہ اس معاملے پر غور کرے اور اس قانون میں پوشیدہ خرابی دور کرے تاکہ آئندہ اس قسم کی شکایت پیدا نہ ہو جو مسلم لیگ (ن) کو ہوئی، اگرچہ سارے سٹیک ہولڈر اس ضمن میں مسلم لیگ (ن) کی رائے سے اتفاق نہیں کریں گے، لیکن آئندہ اگر کوئی بہتر طریقِ کار متعارف کرا دیا جائے تو شاید اس پر کسی کو بھی اعتراض نہ ہو۔

مزید : رائے /اداریہ