وفاقی کابینہ، احسن فیصلے

وفاقی کابینہ، احسن فیصلے

نگران وزیر اعظم ناصرالملک کی صدارت میں کابینہ کے پہلے ہی اجلاس میں عبوری دور کی حدود متعین کردی گئی ہیں جن کے مطابق حکومت انتخابات میں الیکشن کمشن کی بھرپور مدد کرے گی، اس کی ہر ضرورت کو پورا کیا جائے گا اور بین الاقوامی معاہدے وغیرہ نہیں کئے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی عبوری حکومت کا ایک اور مستحسن فیصلہ بھی سامنے آیا ہے جس کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا جائے گا، بلاشبہ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے جس سے عوام مطمئن ہوئے کہ اس سے پہلے تین چار ماہ سے پٹرولیم مصنوعات کے نرخ مسلسل تھوڑے تھوڑے کرکے بڑھائے جارہے تھے اور یکم جون سے شروع ہونے والے مہینہ کے نرخوں کی جو سمری اوگرا کی طرف سے حکومت کو بھیجی گئی اس میں 8روپے سے پندرہ روپے فی لیٹر تک اضافہ مانگا گیا تھا، جواز یہ تھا کہ عالمی مارکیٹ میں نرخ بڑھے ہیں، حالانکہ جس وقت یہ سمری بھیجی گئی اس سے پہلے ہی عالمی مارکیٹ میں نرخ گرنا شروع ہوگئے تھے وجہ یہ بتائی جارہی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب نے تیل کی پیداوار میں اضافہ کیا ہے۔یہ سمری گزشتہ ماہ کے آخری ہفتے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو بھجوائی گئی توقع یہ کی گئی کہ سابقہ حکومت اضافہ دے جائے گی لیکن اس نے بھی ایسا نہ کیا اور فیصلہ عبوری حکومت پر چھوڑ دیا اب عبوری حکومت نے بھی بوجھ اپنے کندھوں پر نہیں لیا اور قیمتیں منجمد رکھنے کا فیصلہ کیا ہے، اگرچہ عالمی منڈی کے مطابق تو نئی سمری تیار ہو کر نرخ کم کرنا چاہئیے تھے، یہ فیصلہ بھی عوام کے لئے بہتر ہی ہے اور لوگوں نے سکھ کا سانس لیا ہے۔جہاں تک کابینہ نے عبوری دور کے لئے جو حدود متعین کی ہیں وہ قابل تحسین ہیں، ایسا ہی کرنا چاہئے تھا کہ روز مرہ کے کاموں میں تعطل نہ آئے اور زیادہ توجہ شفاف الیکشن کے انعقاد پر رکھی جائے۔

مزید : رائے /اداریہ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...