آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم
آج کی تراویح میں پڑھے جانے والے قرآنِ پاک کی تفہیم

پچیسویں تراویح

سورۃ القدر۔۔۔ 97ویں سورت

یہ مکی ہے، اس کی 5آیات ہیں،(پارے کا بائیسواں رکوع) نزول کے اعتبار سے 25ویں سورت ہے۔ نام پہلی آیت کے لفظ ’’القدر‘‘ کو قرار دیا گیا۔ اکثر اہل علم کے نزدیک مدنی ہے۔ سورت میں قرآن کی قدرو قیمت اور اہمیت کو واضح کیا گیا ہے۔ شب قدر کی فضیلت بھی بیان ہوئی ہے۔

فرمایا: ’’بیشک ہم نے قرآن کو لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر یکبارگی اسی شب قدر میں اتارا جو بڑی قدرو منزلت والی رات ہے، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے کہ اس رات میں نیک عمل کرنا ہزار راتوں کے عمل سے بہتر ہے۔

’’رات سلامتی والی ہے، فجر کے طلوع ہونے تک۔‘‘

حضور انورﷺ کی امت پر یہ خاص انعام ہے کہ اس کے لئے شب قدر والی ایک رات کی عبادت ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل قرار دی گئی ہے۔

سورۃ البینہ۔۔۔ 98 ویں سورت

مدنی سورت ہے، 8آیات (23واں رکوع) نزول کے اعتبار سے نمبر 100 ہے۔ نام پہلی آیت کا لفظ ’’البینہ‘‘ قرار پایا۔ اس کے بھی مکی و مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔ ممکن ہے دو مرتبہ نازل ہوئی ہو۔

(سورۂ علق میں پہلی وحی نازل ہوئی۔ قدر میں بتایا کہ کب نازل ہوئی۔ اس سورت میں بتایا ہے کہ کتاب کے ساتھ رسول بھیجنا کیوں ضروری تھا۔)

اہل کتاب کافر اور مشرک پہلے اس بات پر متفق تھے کہ جب وہ رسول تشریف لے آئیں گے تو ہم سب ان پر ایمان لے آئیں گے، لیکن جب وہ تشریف لے آئے تو کچھ لوگ تو ایمان لائے۔ توریت اور انجیل میں ان کو یہی حکم ہوا تھا کہ وہ اللہ کی بندگی کریں اور شرک و نفاق سے دور رہ کر اور اخلاص کامل کے ساتھ اس کی بندگی کریں۔

تمام دینوں کو چھوڑیں اور خالص اسلام کے پیرو کار بن جائیں، جو لوگ ایمان لائے اور عمل صالح کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں۔ ان کا صلہ ان کے رب کے پاس جنتیں ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔

وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی اور وہ لوگ اللہ سے راضی ہیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ وہ اللہ کے فضل و کرم سے اس کی نافرمانی سے بچے اور اللہ سے ڈرتے رہے۔‘‘

سورۂ الزلزال۔۔۔99ویں سورت

مدنی سورت ہے، 8آیتیں (چوبیسواں رکوع) نزول کے اعتبار سے 93ویں سورت ہے۔ نام پہلی آیت کا لفظ ’’زلزالھا‘‘ سے ماخوذ ہے، موضوع ’’موت کے بعد کی زندگی اور حساب‘‘ ہے۔

جب قیامت آئے گی تو زمین میں سخت زلزلہ ہوگا۔ زمین پر کوئی درخت، کوئی عمارت، کوئی پہاڑ وغیرہ نہیں رہ جائے گا، ہر چیز تباہ ہو جائے گی اور زمین کے خزانے اور مردے سب باہر نکل پڑیں گے۔ روز قیامت مومن کو اس کی نیکیاں اور بدیاں دکھا کر اللہ تعالیٰ بدیوں کو بخش دے گا اور نیکیوں پر ثواب عطا فرمائے گا۔

سورۃ العادیات۔۔۔100ویں سورت

مکی سورت ہے، گیارہ آیات ہیں (پچیسواں رکوع ) نزول کے اعتبار سے 14ویں سورت ہے۔ پہلے ہی لفظ ’’العادیات‘‘ کو نام قرار دیا گیا ہے۔ مفسرین میں اس کے مکی و مدنی ہونے میں اختلاف ہے۔

انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ مکہ کے ابتدائی دور میں نازل ہوئی۔ سورت میں آخرت کے حوالے سے شعور بیدار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

غازیوں کے گھوڑوں کی قسم کہ بیشک انسان اپنے رب کا ناشکرا ہے کہ وہ اس کی نعمتوں سے مکر جاتا ہے اور وہ خود اپنے عمل سے اس بات پر گواہ ہے اور بیشک وہ مال کی محبت میں بہت قوی ہے، لیکن عبادت کمزور ہے۔

سورۃ القارعہ۔۔۔ 101ویں سورت

مکی سورت ہے ،جس کی گیارہ آیتیں ہیں (چھبیسواں رکوع ) نزول کے اعتبار سے تیئیسویں سورت ہے۔ پہلے لفظ ’’القارعہ‘‘ کو نام قرار دیا گیا۔ موضوع قیامت اور آخرت ہے۔ قارعہ، قیامت کے ناموں میں سے ایک ہے۔

اللہ پاک نے اس کا ذکر کیا ہے تاکہ انسان اپنی حقیقت کو پہچانے اور اپنے اعمال کا محاسبہ کرے۔ قیامت کے دن وہ لوگ، جن کی نیکیاں زیادہ ہوں گی۔

من مانے عیش میں ہوں گے، یعنی جنت میں مومن کی نیکیاں اچھی صورت میں لا کر میزان میں رکھی جائیں گی تو جن نیک لوگوں کی نیکیاں ان کی بدیوں سے زیادہ ہوں گی، وہ جنت حاصل کریں گے۔

سورۃ التکاثر۔۔۔ 102 ویں سورت

مکی سورت ہے، آٹھ آیات ہیں (ستائیسواں رکوع ) نزول کے اعتبار سے سولہویں سورت ہے۔ پہلی آیت کا لفظ ’’التکاثر‘‘ نام قرار پایا۔ یہ سورت پہلی بار مکہ میں نازل ہوئی (بعد میں مدینہ میں بھی)۔

حضور انورﷺ نے اس سلسلے میں فرمایا کہ مردے کے ساتھ تین چیزیں ہوتی ہیں (جن میں سے) دو واپس آ جاتی ہیں اور ایک ساتھ رہ جاتی ہے۔

(1)مال اور (2)اہل و اقارب (واپس آ جاتے ہیں) اور (3) اس کا عمل ساتھ جاتا ہے۔ بیشک اس دن تم سے تمام نعمتوں کی پرسش ہوگی ،یعنی صحت، فراغت، مال، اولاد، عیش و راحت وغیرہ۔

سورۃ العصر۔۔۔ 103ویں سورت

مکی سورت ہے، جس کی تین آیات ہیں، (اٹھائیسواں رکوع) ترتیب نزول میں تیرہویں سورت ہے۔ مختصر مگر جامع سورت۔ امام شعبیؒ کا کہنا ہے: ’’اگر اللہ تعالیٰ پورے قرآن مجید کی جگہ صرف اسی ایک سورت کو انسان کی رشدو ہدایت کے لئے نازل فرما دیئے تو یہی کافی تھی‘‘۔ صحابہ کرامؓ میں مقبول سورت تھی۔

اس سورت میں یہی تعلیم ہے کہ وہی لوگ کامیاب ہو سکتے ہیں اور خسارے سے بچ سکتے ہیں جو ایمان لائیں اور اللہ کے حکم کے مطابق عمل کریں اور ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تاکید کریں۔ ہر شخص ایک دوسرے کے لئے حق اور صبر کا مبلغ بن جائے تو ہماری تمام معاشرتی پریشانیاں دور ہو جائیں اور عدالتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ *

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...