عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں

عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں
عالمی جنگی قوانین کی خلاف ورزیاں

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

5جون کو ایمینسٹی انٹر نیشنل نے "War of Annihilation"کے نا م سے ایک رپورٹ جاری کی، جس میں امریکہ کے ڈیفنس سیکرٹری جیمز میٹس کے اس دعویٰ کو بیان کیا گیا ہے کہ شام کے شہر رقہ سے داعش کا کنٹرول ختم کروانے کے لئے امریکہ نے کس حد تک جنگی جرائم کئے، ان جنگی جرائم کے باعث جنگ سے پہلے رقہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کی آبادی 340,000 تھی، جو اب کم ہوکر 100,000رہ گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹر نیشنل کی اس رپورٹ کے مطابق امریکہ نے پانچ ماہ تک رقہ اور اس کے اطراف کے علاقوں کا محاصرہ کیا۔

پانچ ماہ کے مسلسل حملوں کے باعث 80 فیصد شہر مکمل طور پر مسمار ہوگیا، 11000عمارتیں، گھر بار تباہ و برباد ہوگئے۔ شہر میں رہ جانے والی آبادی خوراک، بجلی، پانی اور ادویات جیسی سہولتوں سے محروم ہوگئی۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر جانے والی آبادی واپس آنے کے قابل بھی نہیں، کیونکہ اکثر آبادی کے گھر بار مکمل طور پر تباہ و برباد ہوچکے ہیں، اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی طور پر امریکہ نے یہ دعویٰ کر رکھا ہے کہ رقہ یا شام میں اس جنگ کا بنیادی مقصد داعش کا خاتمہ ہے، مگر اس کے باوجود امریکی حملوں میں زیادہ تر شہری آبادیوں اور بستیوں کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔

امریکہ نے رقہ سے داعش کا کنٹرول ختم کر وانے کے لئے ’’شامی ڈیموکریٹک فورس‘‘ کو منظم کیا۔

اس فورس میں شامی کردش گروپ YPG کے جنگجو بڑی تعداد میں موجود تھے۔ رقہ میں شامی ڈیمو کریٹک فورس کا قبضہ کروانے کے لئے امریکی جنگی طیاروں کے ذریعے بمباری کی گئی۔ ایمنسٹی رپورٹ نے امریکی فوج کے ایک عہدیدار سارجنٹ جان وین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ 2017ء کے پانچ ماہ کے دوران امریکہ نے رقہ میں 30,000 سے زائد آرٹلری فائر داغے۔

یوں امریکہ نے صرف پانچ ماہ کے عرصے کے دوران رقہ میں اتنے آرٹلری فائرز داغے جو اس سے پہلے ویت نام کی جنگ کے دوران ہی داغے گئے تھے، اوسطاً دیکھا جائے توان پانچ ماہ کے دوران ہر گھنٹے کے ہر منٹ میں رقہ پر راکٹ، آرٹلری، ڈرون سمیت کئی جدید فوجی ہتھیاروں سے حملے کئے گئے۔ ایمنسٹی کی اس رپورٹ سے پہلے اپریل میں ایسوسی ایٹڈپریس کی رپورٹ میں یہ دعویٰ سامنے آیا کہ رقہ کے قریب ایک جگہ سے 500 لاشیں برآمد ہوئیں معائنہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ 500 بے گناہ افراد رقہ کے قریب ایک بستی میں رہتے تھے کہ امریکی حملے میں ان کی پوری بستی ہی مسمار ہوگئی اور یہ زمین بوس ہوگئے۔

شام میں جنگ کی مانیٹرنگ کرنے والے ادارہ ’’ائر وارز‘‘ کے دعویٰ کے مطابق رقہ میں امریکی بمباری سے جون 2017ء میں 1400 افراد ہلاک ہوئے، اس رپورٹ میں اس بات پر حیرت کا ظہار کیا گیا ہے کہ ایک طرف امریکہ اور اس کا تیار کیا ہوا گروپ ’’شامی ڈیموکریٹک فورس‘‘ داعش کے ساتھ مذاکرات بھی کررہا ہے کہ داعش رقہ اور اس کے اطراف کا علاقہ خالی کر دے تو مکمل طور پر جنگ بندی کر دی جائے گی، مگر دوسری طرف امریکہ مسلسل حملے بھی کر رہا ہے۔

امریکہ، شام میں داعش سے اس لئے مذاکرات کر رہا ہے، کیونکہ رقہ اور اس کے اطراف کے علاقے تیل اور گیس کے ذخائر سے مالا مال ہیں، امریکہ کو معلوم ہے کہ اگر رقہ اور اس کے مشرقی علاقوں میں داعش کو خود سے قابو میں نہ لایا گیا تو کچھ عرصے بعد شام کی فوج ایران اور روس کی مدد سے اس علاقے کا کنٹرول حاصل کر لے گی اور توانائی کی دولت سے مالا مال یہ علاقہ ایک مرتبہ پھر شام کے صدر بشارالاسد کے کنٹرول میں آجائے گا، اس لئے امریکہ جلد سے جلد جنگ یا مذاکرات کسی بھی ذریعے سے رقہ کے علاقے میں اپنا کنٹرول بر قرار ررکھنا چا ہتا ہے۔

حال ہی میں پنٹاگون کی جانب سے کانگرس کو ایک رپورٹ پیش کی گئی، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ 2017ء میں امریکی فوجی آپریشنز کے نتیجے میں عراق، شام، افغانستان اور یمن میں 499 بے گناہ افراد ہلاک ہوئے خود امریکی اور مغربی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ یہ اعداد و شمار کئی گنا کم ہیں۔ امریکی اور مغربی میڈیا کی جانب سے ملنے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2016ء اور 2017ء میں موصل (عراق) میں داعش کے خلاف جنگ میں 40000 بے گناہ افراد ہلاک ہوئے تھے اور دس لاکھ کے لگ بھگ اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔ اسی طرح یمن میں امریکی حمایت اور امداد سے سعودی عرب نے جو جنگ لڑی اس میں 13000معصوم اور بے گناہ افراد ہلاک ہوئے۔

18 لاکھ افراد اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے، اب ٹرمپ انتظامیہ براہ راست یمن میں اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کے حالات مزید خراب ہوں گے، کیونکہ ایران بھی یمن کی اس جنگ میں اپنے کردار کو مزید بڑھائے گا۔

یہ حقیقت تاریخ کے کسی بھی طالب علم سے چھپی ہوئی نہیں ہے کہ سامراج جب بھی’’امن‘‘ کا نعرہ لگاکر کسی ملک کے خلاف جنگ کرتا ہے تو اس کے اصل مقاصد کیا ہوتے ہیں، گزشتہ سال 2017ء میں امریکی سنٹرل کمانڈ کے چیف جنرل جوزف نے ہاؤس آرمڈ سروس کمیٹی میں واضح طور پر بیان دیا تھا کہ ’’امریکہ کو شام میں اس لئے دلچسپی ہے، کیونکہ توانائی کے وسائل کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ میں روس اور ایران کے عزائم پر بھی نظر رکھی جاسکے‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں یہی دعویٰ کرتے تھے کہ امریکہ اب پرائی جنگوں میں کودنے کی بجائے اپنے داخلی معاملات کو بہتر کرے گا، مگر امریکی سیاست پر ہلکی سی بھی نظر رکھنے والے کسی بھی انسان کے لئے یہ بات جاننا مشکل نہیں کہ امریکی نظام کے اندر ایسا ہونا ممکن ہی نہیں رہا کہ کوئی بھی صدر اپنے طور پر امریکہ کے سامراجی کردار کو ختم کر پائے۔

ٹرمپ کی جانب سے شام میں کی گئی مداخلت اور شام میں 2000 امریکی فوجیوں کی موجودگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ امریکہ ابھی شام میں اپنے کردار کو مزید بڑھاوا دینا چاہتا ہے۔

شام پہلے ہی اس خانہ جنگی کے باعث تباہ حالی کے دھانے تک پہنچ چکا ہے۔ شام کی خانہ جنگی سے ہونے والی تباہی پر شامی سنٹر فار پالیسی ریسرچ کی جانب سے پیش کئے گئے اعداد و شمار شام کی مخدوش صورت حال کو بیان کرنے کے لئے کا فی ہیں۔

ان اعداد و شمار کے مطابق شام کی کل آبادی کا 11.05 فیصد اس خانہ جنگی سے یا تو ہلاک ہوچکا ہے یا پھر زخمی اور معذور ہوچکا ہے۔ شام میں 2011ء میں بے روزگاری کی شرح 14.9 فیصد تھی اور اب یہ شرح 52.9 فیصد ہوچکی ہے، جبکہ غربت کی شرح 85 فیصد سے بھی بڑھ چکی ہے۔

اقوام متحدہ کے اعداد وشمار کے مطابق 50 لاکھ شامی باشندے اپنا ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے، جبکہ 60 لاکھ افراد شام کے اندر ہی مختلف علاقوں میں دربدر ہوچکے ہیں۔

سامراجی ممالک کے عزائم کے باعث دنیا 20 ویں اور اب 21ویں صدی میں بہت تباہی دیکھ چکی ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ ہے کہ سامراجی پالیسیوں سے براہ راست ایسے افراد متاثر ہو تے ہیں جن کا نہ اپنے ملک اور نہ ہی سامراجی ممالک کی پالیسیوں سے کچھ لینا دینا ہوتا ہے۔ موجودہ دور میں شام، عراق، لیبیا، یمن اور افغانستان اس کی اہم مثالیں ہیں۔

مزید : رائے /کالم