نقارخانے میں طوطی کی آواز، ہائے،بجلی والے!

نقارخانے میں طوطی کی آواز، ہائے،بجلی والے!
نقارخانے میں طوطی کی آواز، ہائے،بجلی والے!

ہم سب گھر والے ایک چھوٹی سی پارلیمنٹ بنا کر غور کررہے ہیں کہ حکومتیں اور محکمے ہم عوام سے کس جرم کا بدلہ لے رہے ہیں، صاحبزادی نے بتایا اور احتجاج کیا کہ صبح بارہ بجے یکایک بجلی آف ہوئی اور سواتین بجے واپس تشریف لائی، اس عرصہ میں یو، پی، ایس جواب دے گیا، گھر میں موجود بہو اور ہمارا ننھا پوتا پریشان اور پسینے سے بدحال رہے۔

صاحبزادے عاصم کا کہنا تھا، میں نے بجلی بل اور میٹر کی حالیہ ریڈنگ کا موازنہ کرلیا ہے، اس حساب سے تو بل درست لگتا ہے، اب سوال صرف یہ ہے کہ اتنا زیادہ بل اور اتنے زیادہ یونٹوں کا استعمال کیسے ہوگیا، جواباً صاحبزادی نے پھر احتجاج کیا ہمارا تو اے سی بھی سات آٹھ گھنٹے سے زیادہ نہیں چلتا کہ افطار کے وقت آن کرتے ہیں، سحری کھاتے ہی ابو اسے بند کردیتے ہیں، اگلے روز تک باقی سارا وقت پنکھے پر گزارہ کرنا ہوتا ہے، اب عاصم نے یہ تفصیل بھی بتادی کہ ہمسایوں کے بل ساڑھے چھ ہزار اور ڈھائی ہزار روپے آئے ہیں، ان کے بھی اے، سی چلتے اور ہم سے زیادہ وقت کے لئے چلتے ہیں۔

اس پارلیمنٹ کا ایجنڈا کیا بلکہ تحریک التوا یہ تھی کہ بجلی کم تر استعمال کرنے اور اوپر نیچے کے الگ الگ میٹر ہونے کے باوجود مجموعی طور پر قریباً 24ہزار روپے کے بل آگئے ہیں، اوپر والے میٹر کا آٹھ ہزار سے زیادہ اور نیچے والے کا چودہ ہزار ایک سو کچھ روپے آیا ہے، یہ پارلیمنٹ اب یہ بھی غور کررہی تھی، اس صورت حال نے بہت بڑا مسئلہ پیدا کردیا اب فیصلہ کیا جائے کہ آئندہ اے، سی چلے یا بند کردیا جائے، اس پر ہونے والی بحث مکمل ہی نہ ہوسکی کہ وقت اختتام کو پہنچا اور سب کو نماز کے لئے اٹھنا پڑا۔

وجہ اس اجلاس کی یہ تھی کہ لیسکو کا بل ڈسٹری بیوٹر ایک رات قبل پورا دن گزرنے کے بعد بل پھینک کر گیا تھا اور اس پر ادائیگی کے لئے آخری تاریخ 8جون(آج) تھی، دوسری صورت میں قریباً آٹھ آٹھ سو روپے جرمانہ ہو جانا تھا، چنانچہ اس مسئلہ پر بھی بات ہوئی، تو یہ بھی سامنے آگیا کہ لیسکو ریوینیو آفس جاکر شکائت کی گئی، (کیونکہ فون سننا گوارا نہیں کیا جاتا) جواب ملا، بل ڈسٹری بیوشن ٹھیکیدار تبدیل ہوا، بل پھینکنے والے نئے ہیں، جلد ٹھیک ہو جائے گا عرض کی حضور! یہ نیا سلسلہ نہیں، دیر سے چلا آرہا ہے کہ بل بہت ہو اور مہلت صرف ایک روز کی تو عام درجے کا شہری اس کی ادائیگی کس طرح ممکن بنائے گا کہ اکثر بینک آئی، ٹی، سسٹم فیل ہونے کا بہانہ کرکے بل وصول کرنے سے گریز کرتے ہیں، یوں زیادہ بل اور بل پھینکنے کی تاریخ نے اس مجلس کو سجانے میں ’’تعاون‘‘ کیا تھا اور اس کی بدولت بہت تفصیلی گفتگو ہوئی اور حل دریافت نہ ہوسکا کہ محکمہ کے پاس ہر ایسے غلط کام کا عذر یا جواز موجود ہے، حالانکہ یہ صرف بلوں کے ساتھ ایسا نہیں بلکہ بجلی والے تو تواتر سے ہی ایسے دکھ دیتے چلے آرہے ہیں۔

ابھی رواں ہفتے کی ابتدا میں شدید گرمی کے باعث خلاء( ویکیوم) بن جانے کی وجہ سے آندھی آئی اور بارش ہوئی تو پورا شہر ہی تاریکی میں ڈوب گیا اور پھر شہریوں کا جو حشر ہوا، اللہ ہی جانتا ہے کہ لیسکو کے دفاتر نے لینڈ لائن والے ٹیلیفونوں کے ریسیور الگ کردیئے اور موبائل بند کردیئے یا مصروف والی آپشن پر لگا دیئے یوں معلومات لینے کے لئے بھی رابطہ ممکن نہ رہا، اگر خدانخواستہ کوئی موبائل نمبر مل جاتا تو کال کاٹ دی جاتی تھی، یوں پورے شہر کے بیشتر علاقوں میں افطار بھی موبائل کی روشنی کے ذریعے ہوئی کہ یو، پی، ایس بھی ایک سے دو گھنٹے تک ہی کام آتے ہیں۔

یہ سلسلہ یہاں کم از کم تین روز تک رہا اور اب پھر سے اچانک بجلی کے جانے آنے کا سلسلہ چل رہا ہے اب ذرا سستی بجلی پر بھی نظر ڈال لیں، تو آپ کو علم ہوگا کہ پہلے تین سو منٹ پر صارف سے گیارہ روپے یونٹ کے حساب سے قیمت لی جاتی ہے، 300 سے 700یونٹ تک یہ نرخ بڑھ کر چودہ روپے فی یونٹ ہو جاتا ہے جبکہ سات سو سے زیادہ والے یونٹ کا نرخ سولہ روپے فی یونٹ ہے، اس پر مستزاد یہ کہ دعویٰ بجلی سستی کرنے اور گیارہ ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرنے کا ہے۔

شہریوں کے ساتھ یہ سلوک اس بار نہیں ہوا، بلکہ ہمیشہ سے ہوتا آیا ہے اور یہ مظلوم مخلوق پھر ووٹ دینے کو تیار ہو جاتی ہے، اب جو کچھ ہمارے ساتھ ہوا اور جو ہو رہا ہے اس کی بدولت تو ووٹ کسی کا نہیں اور اپنا بنتا ہے اور وہ اپنا یوں ہوسکتا تھا کہ بیلٹ پیپر پر ایک خانہ ناپسند کا ہوتا کہ ووٹر اگر کسی کو بھی ووٹ نہ دینا چاہئے تو اس خانے میں نشان لگا سکے، اس سے یہ بھی اندازہ ہو جاتا کہ ناپسند کرنے والوں کی تعداد کتنی ہے، شاید اس وجہ سے بھی کسی ’’عوامی نمائندے‘‘ کو عوام کا خیال نہیں آتا ہم نے اپنا دکھ رو دیا، اس پر یہ تحریر بھی لکھی ہے، ہمیں یہ بھی یقین ہے کہ بقول منور مرزا اس نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے۔

مزید : رائے /کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...