ایٹمی دھماکے نواز شریف کا فیصلہ تھا

ایٹمی دھماکے نواز شریف کا فیصلہ تھا
ایٹمی دھماکے نواز شریف کا فیصلہ تھا

  

28مئی 1998ء میں پاکستان نے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے جواب میں پہلی دفعہ ایٹمی دھماکہ کیا۔ اس اہم واقعے کی یاد میں ہر سال اس تاریخ کو یوم تکبیر منایا جاتا ہے۔ اس حوالے سے پریس میں بہت کچھ لکھا گیا اور الیکٹرانک چینلز پر کئی پروگرام ہوئے۔

اس بات پر تو قومی اتفاق رائے ہے کہ ایٹمی دھماکوں سے پاکستان دنیا کی ساتویں ایٹمی قوت بن گیا اور اب کوئی دشمن اس کی طرف میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا۔

پاکستان کا ایٹمی قوت بننا کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا۔ اس سے پتہ چلا کہ اگر قوم متفق اور متحد ہو جائے تو ہم کرشمے دکھا سکتے ہیں۔ کاش اس قسم کا اتفاق رائے کچھ اور قومی مسائل پر بھی ہو جائے۔

دھماکے کی تفصیلات تو اب تاریخ کا حصہ ہیں ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھی بعد میں آنے والی تمام حکومتوں نے اس پر کام جاری رکھا اور پاک فوج کی بھی مکمل حمایت رہی۔ درمیان میں بینظیر بھٹو کے بارے میں شکوک و شبہات ظاہر کئے جاتے رہے کہ اُن کی Commitment شاید اتنی مضبوط نہیں تھی اُن پر امریکہ کا سخت دباؤ تھا، تاہم اس کے باوجود انہوں نے بھی آخرکار اِس اہم مسئلے پر قومی مؤقف کو ہی اپنائے رکھا اگرچہ وہ اپنے دونوں ادوار میں کہوٹہ نہ جاسکیں۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مندصاحب نے اِن باتوں کی تصدیق کی۔ جب دھماکہ کرنے کا وقت آیا تو ملک میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی لہٰذا اس معاملے میں فیصلہ میاں نوازشریف نے کیا، لیکن ہمارے ہاں آجکل قومی سطح پر اتنی تلخی اور تقسیم ہے کہ بہت سارے لوگ اس کا کریڈٹ نوازشریف کو دینے پر تیار نہیں، بعض لوگوں نے یہاں تک کہا ہے کہ نوازشریف تو دھماکہ کرنا ہی نہیں چاہتے تھے، کیونکہ Conspiracy Theory کے مطابق وہ تو بھارت کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔

کوئی کہتا ہے کہ مجید نظامی کے دباؤ پر نوازشریف نے دھماکے کا فیصلہ کیا، کوئی کہتا ہے کہ فوج کا دباؤ تھا۔ میں نے یہ سوال ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند کے سامنے رکھا، کیونکہ انہوں نے ہی دھماکہ کیا تھا لہٰذا اُن حالات کا اُن سے بہتر اور معتبر گواہ کوئی نہیں۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے اس واقعے کی پوری تفصیل سنائی جو خاصی معلوماتی اور دلچسپ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مجھے وزیراعظم ہاؤس بلایا گیا، نوازشریف نے اُن سے سوال کیا کہ ڈاکٹر صاحب ان حالات میں ہمیں کیا کرنا چاہئے، اس ملاقات میں تیسرے آدمی وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی تھے۔

ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ اگر ہم نے اس وقت دھماکہ نہ کیا تو ایک خود مختار ملک کی حیثیت سے ہماری پوزیشن ہمیشہ کے لئے کمزور ہو جائے گی اور بھارت ہم پر غالب رہے گا اس لئے ہمیں دھماکہ کرنا چاہئے۔اس پر نوازشریف نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب آپ نے میرے دل کی بات کی ہے۔

اس کے بعد ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں اکثریت نے دھماکہ کرنے کے حق میں رائے دی البتہ تین آدمیوں نے دھماکہ نہ کرنے کا مشورہ دیا۔وہ تینوں سویلین تھے ،تاہم ڈاکٹر صاحب نے اُن کے نام بتانا مناسب نہیں سمجھا۔

دھماکے کا فیصلہ ہو گیا تو ڈاکٹر اے کیو خان نے وزیراعظم کو خط لکھا جس میں انہوں نے تجویز کیا کہ دھماکہ وہ کریں گے اور اس لئے بم اُن کی تحویل میں دیا جائے ،تاہم وزیراعظم نے یہ تجویز منظور نہیں کی۔ ایک تجویز یہ تھی کہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند اور ڈاکٹر اے کیو خان مل کر دھماکہ کریں ،لیکن یہ تجویز اس خیال سے رد ہو گئی کہ اگر دھماکہ صحیح ہو گیا تو سارا کریڈٹ ڈاکٹر اے کیو خان لینے کی کوشش کریں گے اور اگر خدانخواستہ تجربہ فیل ہو گیا تو ڈس کریڈٹ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی ٹیم کے کھاتے میں جانے کا امکان ہے لہٰذا حتمی فیصلے کے مطابق دھماکہ ڈاکٹر ثمر مبارک مند کی ٹیم کی قیادت میں ہوا۔ ڈاکٹر ثمر مبارک مند نے بنیادی فیصلے کے لئے پورا کریڈٹ نوازشریف کو دیا۔ ایٹمی ہتھیار بنانے اور دھماکہ کرنے تک کیا کیا مشکلات پیش آئیں ، عالمی دباؤ کا کس طرح مقابلہ کیا گیا یہ ایک طویل داستان ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند کو بھرپور اعتماد ہے کہ ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار اور میزائل موجود ہیں اور ہم کسی بھی دشمن کو منٹوں میں تہس نہس کر سکتے ہیں۔ عوام کی بھی یہی رائے ہے کہ اگر ہمارے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوتے تو بھارت اب تک کسی نہ کسی بہانے پاکستان پر حملہ کر چکا ہوتا۔اب سرجیکل سٹرائیکس اور کولڈ ڈاکٹرائن کی باتیں چلتی رہتی ہیں، تاہم دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا کوئی امکان نہیں۔

ڈاکٹر صاحب نے یہ دعویٰ کیا کہ غوری میزائل ،جس کا کریڈٹ ڈاکٹر اے کیو خان لیتے ہیں دراصل ناکام تجربہ تھا ،کیونکہ جہاں بلوچستان میں یہ میزائل داغا گیا تھا وہاں اس کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ میجر جنرل ذوالفقار علی جو بعد میں واپڈا کے چیئرمین بنے اس بات کے گواہ ہیں۔

ڈاکٹر صاحب آجکل جن منصوبوں پر کام کر رہے ہیں اُن میں تھرکول پاور پراجیکٹ اور چنیوٹ شامل ہیں۔ تھرکول پراجیکٹ کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ہم نے اس منصوبے سے بجلی بنانا شروع کر دی ہے، لیکن اس کے لئے وفاقی حکومت نے فنڈنگ بند کر دی ہے صرف سٹاف کی تنخواہوں کے لئے پیسے دے گئے ہیں۔

چند سال پہلے سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف نے اعلان کیا تھا کہ چنیوٹ سے سونا نکلا ہے آج کل پریس میں اس قسم کی خبریں آ رہی ہیں کہ یہ فراڈ تھا، لیکن ڈاکٹر ثمر مبارک مند کا کہنا ہے کہ اس پراجیکٹ کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے اور دوسرے مرحلے پر کام شروع ہے اور اس سے سونے کے علاوہ بھی کئی دھاتیں نکلیں گی۔

مزید : رائے /کالم