نگران وزیراعلیٰ پر اعتراض اور شفاف انتخابات

نگران وزیراعلیٰ پر اعتراض اور شفاف انتخابات
نگران وزیراعلیٰ پر اعتراض اور شفاف انتخابات

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

یہ سب عوام کو بے وقوف بنانے کی کوششیں ہیں کہ فلاں وزیر اعلیٰ کی موجودگی میں انتخابات شفاف نہیں ہوسکتے، اتنے بڑے انتظامی ڈھانچے میں اگر ایک شخص یوٹرن لے کر دوسری سمت کو چلنے لگے تو کون پاگل ہے، جو سمجھ نہیں سکے گا کہ وہ غلط سمت میں جارہا ہے۔

مغربی جمہوریتوں میں تو وہی حکمران انتخابات کراتے ہیں، جو مدت پوری کرکے جارہے ہوتے ہیں، وہاں کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ ایک تنہا شخص چاہے وہ کتنا ہی بااختیار کیوں نہ ہو، انتخابات پر اثر انداز ہوسکتا ہے، پنجاب میں ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی بطور نگران وزیر اعلیٰ تقرری کو ابھی سے شفاف الیکشن کے خلاف سازش قرار دینے والے مسلم لیگی رہنماؤں سے ایک سوال ہے کہ ایک شخص کی کارکردگی یاعمل دیکھے بغیر آپ کیسے یہ الزام لگا سکتے ہیں، صرف یہ کہہ دینا کہ چونکہ وہ ٹی وی ٹاک شوز میں حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے تھے اور اُن کا جھکاؤ پی ٹی آئی کی طرف ہوتا تھا، اس لئے وہ الیکشن میں بھی دھاندلی کرائیں گے، پرلے درجے کی بھونڈی دلیل ہے، اُن کے خیالات اُن کی زبان سے نکلتے تھے، جو اُن کی تھی اور اس پر انہیں اختیار بھی تھا، یہاں تو معاملہ میدان کا ہے، الیکشن کمیشن ہے، میڈیا ہے، عدلیہ ہے، انتظامیہ ہے، عوام ہیں اور سب سے بڑھ کر سیاسی جماعتیں ہیں، جو ایک ایک چیز پر نظر رکھیں گی، پھر یہ کیونکر ممکن ہوگا کہ صرف ایک نگران وزیر اعلیٰ اتنا طاقتور ہوجائے کہ کسی کی نہ سنے اور من مانی کرتا رہے۔

پھر ایک وزیر اعلیٰ انتخابات کے حوالے سے من مانی کر بھی کیا سکتا ہے، کیا وہ عوام کو مجبور کرسکتا ہے کہ ووٹ اس کے کہنے پر ڈالے جائیں، وہ پولنگ اسٹیشنوں کے اندر اپنے بندے بٹھا سکتا ہے کہ من پسند لوگوں کو ووٹ دیئے جائیں، وہ ایسا عملہ تعینات کرسکتا ہے جو جانبدار ہو، وہ نتائج کے وقت ریٹرننگ افسروں کو حکم دے سکتا ہے کہ وہ مخصوص لوگوں کو جتوائیں۔

یہ سب احمقانہ باتیں ہیں اور کسی بھی صورت میں ممکن ہی نہیں، پھر ایک شریف، بے داغ اور پڑھے لکھے وزیر اعلیٰ بننے والے شخص پر اتنی چڑھائی کیوں؟

جہاں تک میں سمجھ سکا ہوں، مسلم لیگ (ن) کے لئے ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کی تقرری سب سے بڑا مسئلہ اس لئے ہے کہ انہیں اپنے ڈھب پر چلایا نہیں جاسکتا، اُن سے خطرہ یہ ہے کہ وہ پنجاب میں تعینات انتظامیہ اور پولیس کے ان افسران کو فیلڈ پوسٹنگ سے ہٹا دیں گے، جو شہباز شریف کی دس سالہ حکمرانی میں اُن کے بہت قریب رہے ہیں اور ذاتی ملازمین کا درجہ اختیار کرچکے ہیں، وہ سال ہا سال سے وفاقی سروس میں ہونے کے باوجود پنجاب میں تعینات ہیں اور دوسرے صوبوں میں جانے کا نام نہیں لیتے۔

اب ظاہر ہے ، ان کی اکھاڑ پچھاڑ تو ہوسکتی ہے اور اصل میں صحیح اور غیر جانبدارانہ الیکشن کرانے کے لئے ایسا کرنا ضروری بھی ہے۔ کوئی سابق ڈی ایم جی یا پولیس افسر نگران وزیر اعلیٰ بنتا تو اسے سنبھالنا چنداں مشکل نہیں ہونا تھا، مگر درمیان میں آگیا ایک پروفیسر، جس کے ساتھ نہ تو بیوروکریسی کے گہرے روابط رہے ہیں اور نہ حکمرانوں کے رابطے، اب وہ تو پوری کوشش کرے گا کہ الیکشن کمیشن کے دیئے ہوئے ٹاسک کو پورا کرنے کے لئے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائے۔ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی نے بڑی اچھی بات کہی کہ جب پنجاب حکومت آگے بڑھے گی تو مسلم لیگ (ن) کو خود اندازہ ہوجائے گا کہ معاملات کس قدر شفاف اور غیر جانبدارانہ انداز میں چل رہے ہیں، ان کی اس بات پر بھروسہ کیا جانا چاہئے۔

ہمارے ہاں نگران وزیراعظم اور نگران وزرائے اعلیٰ کی تقرری کا جو طریقہ وضع کیا گیا ہے وہ کئی لحاظ سے مضحکہ خیز ہے، اس بار تو اس کی تمام مضحکہ خیزیاں کھل کر سامنے آگئی ہیں، یہ طریقہ کار تین درجوں پر مشتمل ہے، پہلا درجہ یہ ہے کہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر اسی طرح صوبوں میں وزیراعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر مل کر کسی نام پر متفق ہوجائیں، یہاں تک معاملہ کافی سادہ نظر آتا ہے کہ دو آدمی مل کر نگران وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کا فیصلہ کرلیں مگر سب نے دیکھا کہ اس پر پہلے مرحلے ہی میں اتفاق نہیں ہوا، وہ تو شکر ہے کہ کئی ملاقاتوں کے بعد نگران وزیراعظم کے لئے جسٹس (ر) ناصر الملک کے نام پر اتفاق ہوگیا، لیکن صوبوں میں تقرری کا معاملہ سوائے سندھ کے الیکشن کمیشن کے پاس گیا جو تیسرا درجہ تھا، گویا صوبوں میں پارلیمانی کمیٹیاں بھی متفقہ وزرائے اعلیٰ کا فیصلہ نہ کرسکیں، اب اگر آپ چار نام متفقہ طور پر الیکشن کمیشن کے پاس بھیج دیتے ہیں اور وہ ان میں سے ایک کو وزیراعلیٰ مقرر کردیتا ہے تو واویلا مچانے کی کیا ضرورت ہے؟ یا تو الیکشن کمیشن نے پارلیمانی کمیٹی کی طرف سے بھیجے گئے ناموں سے ہٹ کر کسی کو وزیراعلیٰ نامزد کردیا ہو، پھر تو اعتراض بنتا ہے جب بھیجے گئے ناموں میں سے ایک کا انتخاب کیا گیا ہے تو اسے پری پول رگنگ کیسے کہا جاسکتا ہے؟ پھر اگر اس روایت کو مان لیا جائے اور الیکشن کمیشن اعتراض آنے پر کوئی دوسرا نام دے دے تو یہ معاملہ کہاں جاکر رکے گا، مثلاً اگر الیکشن کمیشن ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کا نام واپس لے کر کوئی دوسرا نام فائنل کردیتا ہے تو کیا تحریک انصاف اسے مانتی؟ ایک پارٹی کے اعتراض کو قبول کرنے کے بعد الیکشن کمیشن دوسری پارٹی کے اعتراض کو کیسے رد کرتا، ایسے میں کیا نگران وزیراعلیٰ کی بیل منڈھے چڑھتی؟

یہ سامنے کی حقیقت ہے کہ مسلم لیگ (ن) شدید دباؤ میں ہے، اسے بہت سے چیلنجوں کا سامنا ہے، لوگ اسے چھوڑ کر تحریک انصاف میں شامل ہورہے ہیں، دوسری طرف مقدمات اور نیب کیسز کھل رہے ہیں، تیسری جانب وہ کارکردگی ہے جس کا ڈھنڈورا تو بہت پیٹا گیا مگر کھودا پہاڑ نکلا چوہا کے مصداق ثابت ہوئی، خاص طور پر لوڈشیڈنگ جو مسلم لیگ (ن) اپنی سب سے بڑی کامیابی گردانتی تھی ایک ڈھکوسلہ ثابت ہوئی، رمضان کے مہینے میں لوگوں کی چیخیں نکل گئی ہیں، بارہ سے چودہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ معمول کی بات ہے، اب یہ کہہ دینا کتنی بڑی ڈھٹائی ہے کہ جب تک ہم برسرِ اقتدار رہے لوڈشیڈنگ نہیں ہوئی، ہمارے جاتے ہی شروع ہوگئی ہے، تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں، بھلا یہ کوئی دلیل ہے، جب بجلی سسٹم میں شامل ہوگئی تھی پھر وہ حکومت بدلتے ہی نکل کیسے سکتی ہے، صاف ظاہر ہے کہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کو حکومتی خزانے سے ادائیگی کرکے 31 مئی 2018ء تک زائد بجلی حاصل کی گئی، جب حکومت ختم ہوئی اور کمپنیوں کے پیسے بھی پورے ہوگئے تو انہوں نے پیداوار گھٹا دی، اگر 10 ہزار میگاواٹ سسٹم میں آئی ہوتی تو سسٹم سے کیسے نکل جاتی؟ اس شعبدہ بازی کے ذریعے عوام کو چکمہ دینے کی کوشش کی گئی لیکن عوام اب اتنے بھی معصوم نہیں کہ اسے سمجھ نہ سکیں، اب مسلم لیگ (ن) لوڈشیڈنگ کا ایشو لے کر ہرگز عوام کے پاس نہیں جاسکتی، بلکہ یہ ایشو تو اب تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی اٹھائیں گی اور مسلم لیگ (ن) کو اس کا جواب دینا پڑے گا، میں اس بات کی تائید نہیں کرتا کہ مسلم لیگ (ن) انتخابات سے فرار چاہتی ہے، تاہم اس سے پہلے ایسا ماحول بنا دینا چاہتی ہے کہ جس سے ہونے والے انتخابات متنازعہ ہوکر رہ جائیں گے، میرا خیال ہے ایسا نہیں ہے، مسلم لیگ (ن) انتخابات میں حصہ لے گی اور اس کی کوشش یہ ہوگی کہ اگر مرکز میں حکومت نہیں بنتی تو نہ بنے کم از کم پنجاب حکومت پر اس کا تسلط برقرار رہے، یہ تجربہ پہلے بھی چونکہ ہوچکا ہے اور خود نواز شریف نے وزیراعلیٰ پنجاب کی حیثیت سے وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو بہت مشکل وقت دکھایا، اس لئے مسلم لیگ (ن) یہ سمجھتی ہے کہ اگر مرکز میں پی ٹی آئی مخلوط حکومت بنالیتی ہے اور عمران خان وزیراعظم بن جاتے ہیں تو پنجاب حکومت کے ذریعے انہیں زچ کرنے کا پورا اہتمام کیا جاسکتا ہے، مسلم لیگ (ن) فری ہینڈ اس لئے بھی نہیں دے گی کہ اس کی جگہ پیپلز پارٹی لے سکتی ہے اور یوں جو حکومتیں وجود میں آئیں گی انہیں یکطرفہ نہیں کہا جاسکے گا۔

مسلم لیگ (ن)کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ مثبت سیاست کرے، کسی نگران وزیراعلیٰ کے تقرر پر ایسے واویلا نہ کرے جیسے وہ کوئی نئی سیاسی جماعت ہو، وہ منجھی ہوئی سیاسی جماعت ہے، پنجاب میں کئی برسوں تک برسر اقتدار رہی ہے، جانتی ہے کہ پاکستان میں انتخابات کیسے لڑے اور جیتے جاتے ہیں؟ صوبے کا وزیراعلیٰ ایک بڑے نظام کا حصہ تو ہوتا ہے، پورا نظام نہیں ہوتا، وہ صفر کو دس نہیں کرسکتا، ہاں اگر مسلم لیگ (ن) یہ سب کچھ اس لئے کررہی ہے کہ نگران وزیراعلیٰ ڈاکٹر حسن عسکری رضوی کو دباؤ میں لاکر بڑے فیصلوں سے روکا جائے، صوبے کے انتظامی سیٹ اپ کو تبدیل نہ کرنے دیا جائے تو یہ اور بات ہے، یہ حکمتِ عملی شاید کارآمد ثابت ہو، تاہم جہاں نگران وزیراعلیٰ کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ مسلم لیگ ن کو مطمئن کریں وہاں ان کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ صاف و شفاف انتخابات کرانے کے لئے ہر اس رکاوٹ کو دور کریں جو اس مقصد کی راہ میں حائل ہوسکتی ہے، پی ٹی آئی نے مطالبہ کیا ہے کہ شہباز شریف دور کے چہیتے افسران کو ہٹایا جائے، یہ معمول کا مطالبہ ہے اور ایسا ہوتا بھی آیا ہے، لیکن ایسا کرتے ہوئے اس پہلو کو بھی پیشِ نظر رکھا جانا چاہئے کہ صوبے کے انتظامی امور خاص طور پر امن و امان متاثر نہ ہوں، یہ چھوٹے موٹے معاملات تو اپنی جگہ ہیں ہی تاہم اطمینان بخش امر یہ ہے کہ ہم درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور آئینی مدت میں انتخابات کا انعقاد ہونے جارہا ہے، اصل کامیابی یہی ہے اور سب کو مل جل کر یہ کوشش کرنی چاہئے کہ انتخابات کا مرحلہ احسن طریقے سے مکمل ہو اور ہم ایک نئی جمہوری مدت کے لئے تبدیلئ اقتدار کو ہوتا دیکھیں۔

مزید : رائے /کالم