حریت پسند اسیران زندان ضمیر کے قیدی ہیں :سید علی گیلانی

حریت پسند اسیران زندان ضمیر کے قیدی ہیں :سید علی گیلانی
حریت پسند اسیران زندان ضمیر کے قیدی ہیں :سید علی گیلانی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سرینگر(اے این این ) کل جماعتی حریت کانفرنس(گ) کے چیرمین سید علی گیلانی نے جموں کشمیر کے جملہ حریت پسند اسیران زندان کو ضمیر کے قیدی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ان محبوسین کی واحد خطا اپنے پیدائشی حقِ خودارادیت کا مطالبہ ہے۔

سرینگر میڈیا کے مطابق حریت رہنما نے ریاست سے باہر تہاڑ، جودھپور، بنگلور جیل خانوں کے علاوہ کوٹ بلوال، ریاسی، کٹھوعہ، ادھم،پور، مٹن، بارہ مولہ، پلوامہ اور سرینگر سینٹرل جیل میں 80برس کے معمر اور بزرگ محبوسین سمیت کم سن جوانوں کے صبرو استقلال کو خراج تحسین ادا کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری قوم کوئی جرائم پیشہ قوم نہیں ہے، جنہیں جرائم کی پاداش میں جیل خانوں میں ٹھونسا جاتا ہے بلکہ ہمارے سبھی حریت پسند محبوسین کو سیاسی انتقام گیری کے تحت جیل خانوں کے اندر حبس بے جا میں رکھا گیا ہے۔ حریت رہنما نے آر ایس ایس کے اشاروں پر ناچنے والی ریاست کی موجودہ ، متعصب اور فرقہ پرست حکومت کے علاوہ جیل حکام کی طرف سے محبوسین کو انسانیت سوز اذیتوں میں مبتلاکرتے ہوئے غیر معیاری اور مضر صحت اشیائے خوردنی سپلائی کرنے کے علاوہ انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھنے کی غیر انسانی کارروائیوں کو قیدیوں کے حقوق پر شب خون مارنے سے تعبیر کیا اور ان کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ 

حریت رہنما نے پچھلے2برسوں سے مسلسل قیدوبند کی صعوبتوں میں مبتلا سینئر حریت پسند رہنما میر حفیظ اللہ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ موصوف اس وقت تھانہ صدر اسلام آباد میں علیل حالت میں ایام اسیری گزاررہا ہے۔ میر حفیظ اللہ شوگر، پراسٹیٹ اور گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے اور ڈاکٹر صاحبان نے انہیں گردوں کا فوری طور آپریشن کرنے کی صلاح دی ہے، لیکن انتظامیہ میر حفیظ اللہ سے سیاسی انتقام لینے پر اس قدر ہٹ دھرمی اور ضد کا مظاہرہ کررہی ہے کہ انہیں لاحق بیماریوں کا علاج کرنے سے محروم رکھا جارہا ہے۔ 

مزید : قومی