”جانور بھی انسانوں کی طرح آپس میں یہ کام کرتے ہیں “ ایسی تحقیق آ گئی کہ سن کر ہی آپ دنگ رہ جائیں گے

”جانور بھی انسانوں کی طرح آپس میں یہ کام کرتے ہیں “ ایسی تحقیق آ گئی کہ سن کر ...
”جانور بھی انسانوں کی طرح آپس میں یہ کام کرتے ہیں “ ایسی تحقیق آ گئی کہ سن کر ہی آپ دنگ رہ جائیں گے

برلن(نیوز ڈیسک)ہم جانوروں کو بے زبان کہتے ہیں لیکن سائنسدانوں نے حیرتناک انکشاف کیا ہے کہ جانور تقریباً ہر وقت ایک دوسرے کیساتھ بات چیت کر رہے ہوتے ہیں اور شاید اسی طرح جیسے ہم انسان ایک دوسرے سے مخاطب ہوتے ہیں ۔ ہاتھیوں جیسے بڑے جانور ہوں یا چوہے اور چڑیا جیسے چھوٹے جانور، یہ تمام ہی آپس میں اسی طرح دو طرفہ ابلاغ کرتے ہیں جس طرح ہم انسان ایک دوسرے سے گفتگو کرتے ہیں ۔ 

دی انڈیپنڈنٹ کے مطابق انسانوں اور جانور کے ابلاغ میں ایک بڑا فرق یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ انسان باری باری بولتے یعنی ایک شخص بولتا ہے اور دوسرا اس کی بات سنتا ہے اور پھر اپنے رد عمل کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے برعکس یہ سمجھا جاتا ہے کہ جانور اور پرندے بیک وقت اور لایعنی انداز میں شور برپا کیے رکھتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ان کے درمیان بامعنی ابلاغ ممکن نہیں ۔ حالیہ تحقیق نے اس نظریے کو رد کر دیا ہے اور اس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہاتھیوں کی چنگھاڑھ ہو یا پرندوں کی چہچہاہٹ ، ان میں بھی اسی طرح ایک دوسرے کیساتھ پیغام رسانی کی جاتی ہے جس طرح ہم انسان ایک دوسرے تک اپنی بات پہنچاتے ہیں۔ 

برطانیہ اور جرمنی کے سائنسدانوں نے اس تحقیق کیلئے گزشتہ 50سالوں سے جانوروں اور خصوصاً پرندوں کی آوازوں کا مطالعہ جاری رکھا ہوا تھا۔ سائنسی جریدے ’’رائل سوسائٹی بی:بیالوجیکل سائنسز‘‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جانور اور پرندے بھی اپنے لحاظ سے باری باری بولتے ہیں لیکن ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ سب مل کر شور کر رہے ہوں۔ مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ جس طرح انسان اپنی بات ٹوکنے پر برا محسوس کرتے ہیں اسی طرح پرندوں میں بھی دیکھا گیا ہے کہ جب دوسرا پرندہ ان کی کوئی بات ٹوکے تو وہ اچھا محسوس نہیں کرتے اور اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایسی صورت میں وہ اُڑ جاتے ہیں ، یعنی اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ 50سال کی تحقیق کے باوجود ہمارے پاس جانوروں اور پرندوں کی زبان کو سمجھتے کیلئے کافی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اس ضمن مزید تحقیق کرکے کسی حد تک ہم اپنی سمجھ بوجھ کو مزید بہتر کر سکتے ہیں۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...