مسلسل 17 گھنٹے تک مسافر جہاز میں ایسا کام کرتا رہا کہ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا ہی مشکل ہو جائے گا

مسلسل 17 گھنٹے تک مسافر جہاز میں ایسا کام کرتا رہا کہ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا ...
مسلسل 17 گھنٹے تک مسافر جہاز میں ایسا کام کرتا رہا کہ جان کر آپ کیلئے یقین کرنا ہی مشکل ہو جائے گا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

پرتھ(نیوز ڈیسک)جسم کو متحرک رکھنا انسانی فطرت کا حصہ بھی ہے اور ہماری جسمانی ضرورت بھی لیکن ایک طویل پرواز کے دوران ایک مسافر نے مسلسل 17گھنٹے تک اپنی سیٹ پر بے حس و حرکت براجمان رہ کر ہر کسی کو حیران کر ڈالا ہے ۔ دی ٹیلی گراف کے مطابق برطانوی شہر لندن سے آسٹریلوی شہر پرتھ کیلئے مارچ میں پہلی نان سٹاپ پرواز کا آغاز کیا گیا تو اس پرواز میں ایک ایسے مشاہدے کا انعقاد بھی کیا گیا جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ مسلسل 17گھنٹے تک سیٹ پر بیٹھے رہنے کے کیا اثرارت مرتب ہونگے ۔ اس نان سٹاپ پرواز کے آغاز کے بعد سے یونیورسٹی آف سڈنی کے تحقیق کار مسلسل بیٹھے رہنے والے مسافروں کا مشاہدہ کر رہے ہیں ۔ اس دوران ایک ایسا مسافر سامنے آیا ہے جو 17گھنٹے کی پرواز کے دوران ناصرف مسلسل اپنی سیٹ پر بیٹھا رہا بلکہ تقریباً بے حس و حرکت رہا ۔ تحقیق کار پروفیسر سٹیفن سمسن کا کہنا تھا کہ یہ مسافر بزنس کلاس میں بیٹھا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ وہ اپنے فلیٹ بیڈ میں اس قدر آرام دہ محسوس کر رہا تھا کہ اس نے ہلنے جلنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ۔ 

دوسری جانب ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ طرزعمل نارمل نہیں ہے ۔ ایک صحت مند انسان کو ایک دن میں اوسطً چار سے لے کر دس بار تک باتھ روم کا رُخ کرنا پڑتا سکتاہے، لیکن یہ شخص مسلسل 17گھنٹے تک باتھ روم نہیں گیا۔ اتنے لمبے وقت کیلئے مسلسل بے حس و حرکت رہنے سے ٹانگوں کے نچلے حصے میں خون کے لوتھڑے بن سکتے ہیں اگر کوئی خون کا لوتھڑا دوران خون کے راستے میں رکاوٹ بن جائے تو اس کا نتیجہ فوری موت کی صورت میں بھی سامنے آسکتا ہے ۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ لمبے وقت کی پرواز کے دوران آپ کو وقفے وقفے سے حرکت کرتے رہنا چاہیے اور ہر ایک گھنٹے کے دوران کم از کم ایک بار ضرور اٹھ کر چہل قدمی کرنی چاہیے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس