ہائے رسول بخش پلیجو

ہائے رسول بخش پلیجو
ہائے رسول بخش پلیجو

  

رسول بخش پلیجو ہمارے درمیان نہیں رہے، جْنگ شاہی کے گاؤں مْنگر خان پلیجو میں جنم لینے والے رسول بخش پلیجو آج اس دنیا سے چلے گئے مگر وہ آنے والے زمانوں میں اپنے افکار، نظریات، رجحانات، اپنی سوچ، اپنے طرزِ عمل، اپنے سیاسی اور سماجی رویوں، اپنے علم اور دانش کے ساتھ زندہ رہیں گے۔ وہ علم سوچتے تھے، وہ علم بولتے تھے، وہ سماج کی تہہ در تہہ پرتوں کی تاریخی جدلیت کا شعور رکھتے تھے، وہ جدلیاتی مادیت کے بہترین شارح تھے۔

وہ لطیفیات کے عالم تھے، شاہ عبداللطیف بھٹائی اور بابا بلھے شاہ کی شاعری کے عصری شعور اور تحت الشعور کا ریاضیاتی علم رکھتے تھے، وہ ہر سیاسی اور سماجی سوال کو حل کرتے ہوئے سائنسی اور فلسفیانہ توجیہات کیلئے دنیا کے نامور فلسفیوں اور سماجی سائنسدانوں کے ساتھ ساتھ اپنی سرزمین کے نابغہ روزگار شاعروں اور دانشوروں کے حوالے بھی دیتے تھے۔

وہ بلا کے مقرر تھے، وہ اپنے علم، اپنی دانش اور اپنے اندازِ بیان سے ایک سماں باندھ دیتے تھے، وہ اپنی گفتگو کے دوران علم کا ایک حصار بنا لیتے اور پھر اپنے سامعین کو علم کے اس حصار سے باہر نہ نکلنے دیتے، پلیجو صاحب کا حافظہ غضب کا تھا، وہ جب کسی شاعر، فلسفی، ادیب، اسکالر کا حوالہ دیتے تو کتاب، صفحہ اور سطر کے ساتھ حوالہ دیتے۔ وہ سندھی، سرائیکی، پنجابی، بنگالی، عربی، فارسی اور بلوچی شاعری کے مستقل قاری تھے، وہ پاکستان کی متعدد مقامی زبانوں کے علاوہ بعض دیگر علاقوں کی زبانیں روانی سے بولتے تھے، انہیں عربی، فارسی، بنگالی اور ہندی زبانوں کے سینکڑوں اشعار ازبر تھے، وہ سندھی کے نثری اور شعری ادب کے بہترین دور کے سکہ بند ادیب تھے، انہوں نے سندھی ادب میں اپنی تنقیدی کتاب "اندھا اوندھا ویج" کے ذریعے سندھی کے ترقی پسندانہ اور رجعت پسندانہ ادب کے درمیان ایک حد فاصل قائم کردی۔ جس ادب کو انہوں نے عوام دشمن کہہ کر مسترد کر دیا اسے عوام اور عوام دوست قارئین میں پذیرائی نہ مل سکی اور جس ادب کو انہوں عوام دوست کہہ کر قبول کیااسے قبولیت عام حاصل ہوئی۔

ادب کی دنیا میں وہ شیخ ایاز، رشید بھٹی، ابراہیم جویو، شمشیر الحیدری، آغا سلیم، نجم عباسی، ایاز قادری، جمال ابڑو، ابراہیم منشی، تاجل بیوس، عبدالرحمن نقاش اور بعض دیگر قلمکاروں کے ہمعصر بھی تھے اور ہم مجلس بھی تھے، وہ شیخ ایاز کی شاعری اور رشید بھٹی کے نثری ادب کو سب سے زیادہ پسند کرتے تھے۔

سیاست کے بارے میں ان کا نقطہ نظر اس مذہبی رویے کے مصداق ہوا کرتا تھا کہ ’’دین کے اندر پورے کے پورے داخل ہو جاو‘‘وہ فرد کی سیاست کی بجائے خاندان کی سیاست کے قائل تھے۔ وہ اور ان پارٹی کے تمام لوگ اپنے تمام اہل خانہ، بیوی بچوں، بھائی بہنوں اور عزیزواقارب کے ساتھ پارٹی میں شامل ہوتے، جب جنرل ضیا کے مارشل لاء کے خلاف ایم آر ڈی کی تحریک چلی تو پلیجو صاحب کی عوامی تحریک کے لیڈروں اور کارکنوں نے اپنے بیوی بچوں سمیت پورے خاندانوں کی گرفتاریاں پیش کیں، یوں سندھ کے سینکڑوں سیاسی خاندان پورے اہل خانہ سمیت جیلوں میں قید تھے۔

بڑی عمر کے بوڑھے ،بوڑھیاں اور کمسن بچے بچیاں اور نوجوان مرد اور عورتیں سب تھانوں ، زندانوں اور بندی خانوں کے اسیر تھے۔ رسول بخش پلیجو ہمارے عہد کی ایک عہد ساز شخصیت تھے، ہماری زندگی بھر کی خوش نصیبیوں اور بد نصیبیوں میں یہی ایک بڑی خوش نصیبی ہے کہ ہم رسول بخش پلیجو کے دور میں پیدا ہوئے، ہم اْن کے مجلس نشین رہے، ہم نے ان گنت بار انہیں دیکھا، ان گنت بار انہیں سنا، ان گنت بار ان سے گفتگو کی، بہت دفعہ ان کی مجلس میں ہنسے، بارہا ان کے ساتھ بیٹھ کر روئے بھی، ان کے ساتھ اتفاق کیا، ان کے ساتھ اختلاف بھی کیا، ہم ملتے تو مستقل ملتے، نہ ملتے تو برسوں نہ ملتے، ہماری ملاقاتوں میں بہت فاصلے ہوئے مگر ہمارے دلوں میں کبھی فاصلے نہ ہوئے، ہم نے شاگرد ہونے کے رشتے کو نبھانے کی کوشش کی، انہوں نے استاد کا رشتہ ہمیشہ برقرار رکھا، میں ان کا نہایت نالائق شاگرد تھا، وہ ہمارے عہد کے ایک بے مثال نابغہ روزگار استاد تھے، پلیجو صاحب فوت ہوگئے، پلیجو صاحب ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

مزید : رائے /کالم