چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکر دگی

چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکر دگی
چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی قیادت میں نیب کی شاندار کارکر دگی

  

قومی احتساب بیورو کے موجودہ چیئرمین جناب جسٹس جاوید اقبال انتہائی ایماندار قابل میرٹ اور صرف اور صرف قانون کے مطابق کام کر رہے ہیں ان کی دیانتداری اچھی شہرت پیشہ ورانہ صلاحیتوں ،ایمانداری اور قابلیت کی گواہی معاشرے کے تمام طبقوں کے افراد دیتے ہیں ۔

جناب جسٹس جاوید اقبال چیئرمین نیب کا منصب سنبھالنے کے بعدنیب کی ذمہ داریوں کو جہاں ایک چیلنج سمجھتے ہیں وہاں وہ ’’ احتساب سب کیلئے‘‘ کی پالیسی پر سختی سے عمل پیرا ہیں ۔ نیب کے افسران کا تعلق کسی سیاسی پارٹی سے نہیں ۔نیب کے افسران اپنا کام قومی فریضہ سمجھ کر سرانجام دے رہے ہیں۔

وہ ریاست کے ملازم ہیں اور بلاتفریق قانون کے مطابق اپنا کام کررہے ہیں و ہ کسی دباؤ اور سفارش کو خاطر میں نہیں لاتے اب نیب کی انکوائریاں انویسٹی گیشن قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے مکمل کی جا رہی ہیں کیونکہ جس شخص کے خلاف انکوائری یا انویسٹی گیشن ہورہی ہوتی ہے اس کا پورا خاندان انکوائری یا انوسٹی گیشن کا سامنا کرتا ہے اس کے علاوہ معاشرے میں بھی اس کی عزت پر حرف آ تا ہے حالانکہ قانون کی نظر میں جب تک کسی پر الزام ثابت نہ ہوجائے وہ شخص بے گناہ ہوتا ہے۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے انسداد بدعنوانی کی حکمت عملی اور پالیسی کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے جو اقدامات اٹھائے ہیں ان کی وجہ سے آج کا نیب ایک متحرک ادارہ بن چکا ہے اور پوری قوم کی بدعنوانی کے خاتمے کیلئے نظریں نیب پر ہیں۔

چیئرمین نیب نے مختلف شکایات کا نہ صرف نوٹس لیا بلکہ انکوائری کا بھی حکم دیا جن میں ملتان میٹرو پراجیکٹ ،پنجاب میں پبلک لمیٹیڈ 56 کمپنیوں ،پانامہ اور برٹش ورجن آئی لینڈ میں پاکستانیوں کی 435 آف شور کمپنیوں کچھی کینال کی تعمیر اور توسیع کے کام میں مبینہ بدعنوانی نجی پرائیویٹ ہاوسنگ سوساٹیوں کی طرف سے عوام کی لوٹی گئی جمع پونجی کی واپسی اشتہاری اور مفرور افراد کی گرفتاری جس کے بعد37مفرور اشتہاری ملزموں کی گرفتاری کے علاوہ سی ڈی اے آرڈی اے اور آئی سی ٹی کو کام کرنے والی غیر قانونی ہاوسنگ سوسائٹوں کی تفصیلات متعلقہ اداروں کی ویب سائٹس پر لگانے اور اخبارات میں عوام کی آگاہی کے لئے اشتہارات کی اشاعت کا عمل شامل ہے اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے ہر ماہ کی آخری جمعرات کو نیب کے دروازے عوام کیلئے کھولنے اور کھلی کچہری لگانے کا فیصلہ کیا تاکہ وہ عوام کی بدعنوانی سے متعلق شکایات خود سنیں اب تک نہ صرف 30ہزار کے قریب درخواستیں نیب کو مل چکی ہیں اور تقریبا 2500شکایت کنندگان کھلی کچہریوں میں چیئرمین نیب نہ صرف مل چکے ہیں بلکہ اب نیب کے تمام ریجنل بیوروز کے ڈی جی بھی عوام کی شکایت ہر ماہ کی آخری جمعرات کو سنتے ہیں اس کے علاوہ چیئرمین نیب نے ہیڈکوارٹرز میں10ایگزیکٹو بورڈ میٹگ کا اجلاس بلایا جس میں بہت سے شکایات کی جانچ پڑتال ،انکوائریوں اور انوسٹی گیشن کے علاوہ ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دی گئی۔ نیب نے وزیر اعلی پنجاب،وزیراعلی سندھ اور وزیراعلی کے پی کے کو مختلف مقدمات کی انکوائری کے سلسلہ میں نیب میںآئے بلکہ سابق رکن صوبائی اسمبلی پنجاب جواد کامران کھر کے خلاف شکایت کی جانچ ہڑتال رکن صوبائی صوبائی اسمبلی پنجاب سردار احمد علی دریشک کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ذمہ داران کے خلاف انکوائری بلوچستان کے وزیر محکمہ جنگلات عبیداللہ جان بابت کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال سندھ کے سیکرٹری صحت ڈاکٹر افضل اللہ پیچو کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال بلوچستان کے سابق ایڈیشنل آئی جی اور موجودہ آئی جی ریلوے ڈاکٹر مجیب الرحمان کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال گوادر انڈسٹریل اسٹیٹ ڈویلپمنٹ اتھارٹی جیڈا کے خلاف انکوائری پاکستان اسٹیل مل کی بربادی اور قوم کے اربوں روپے کی ضائع کا نوٹس لیتے ہوئے انکوائری پی آئی اے کے طیارے کی کوڑیوں فروخت کی۔ قومی اسمبلی کے رکن کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف شکایت کی جانچ پڑتال عاصمہ ارباب عالمگیر ،ارباب عالمگیر اور بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ نواب اسلم رئیسانی کے خلاف تحقیقات قانون کے مطابق مکمل کرنے کا حکم دیا نیب کے جعلی افسر بن کر عوام کو لوٹنے والے 4 دھوکہ بازوں امجد علی، محمد عثمان، نوید حسین اور نیاز بٹ کو چیئرمین نیب کے حکم پر نہ صرف گرفتار کرنے کے علاوہ ان سے لوٹی گئی رقم برآمد کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ جناب جسٹس جاوید اقبال نے بھارتی سرحد سے مبینہ طور پر 800 میٹر دور 44 ایکڑ زمین پر ناروال سپورٹس سٹی بنانے اور اس پر مبینہ طو ر پرقواعد و ضوابط اور سیکورٹی خدشات کے باوجود قوم کے تقریباََ 6 ارب روپے خرچ کرنے کی میڈیا رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے شکایت کی جانچ پڑتال کا حکم دیا۔مزید برآں سابق ڈی جی پاکستان سپورٹس بورڈ اختر نواز گنجیراور وفاقی وزیر ریاض پیرزادہ کے خلاف بھی جانچ پڑتال کا ڈی جی نیب راولپنڈی کو حکم دیا۔ نیب نے بدعنوان عناصر کو گرفتار کرنے اور ان سے لوٹی گئی رقم بر آمد کرکے قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے پالیسی کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا مالیاتی کمپنیوں میں دھوکہ دہی‘ ہاؤسنگ اور کوآپریٹو کمپنیوں ‘ بینک فراڈ بنک نادہندہ گان ‘ سرکاری ملازمتوں اور پرائیویٹ اشخاص کے سرکاری فنڈ میں خرد برد اور اختیارات سے تجاوز کے مقدمات کی تفتیش کرنا ہے ۔ نیب کو 2018ء میں اسی عرصے کے دوران 2017ء کے مقابلے میں دوگنا شکایات موصول ہوئیں ۔

نیب نے ادارہ جاتی احتساب کا نظام وضع کیا ہے‘ اب تک 85 افسران کو سزائیں دی گئیں ہیں جن میں 23 افسران کو مستحق سزائیں دی گئی اور انہیں ملازمت سے برخاست کردیاگیا ہے جبکہ 34 افسران کو نرم سزائیں دی گئی ہیں۔

نیب سارک ممالک کیلئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتا ہے ‘ پاکستان سارک انٹی کرپشن فورم کا پہلا چیئرمین ہے ‘ نیب نے بد عنوانی کے خاتمہ کیلئے چین کے ساتھ مفاہمت کی یاداشت پر دستخط کئے ہیں۔اس کے علاوہ نیب نوجوانوں کو بدعنوانی کے برے اثرات سے آگاہ کرنے کیلئے ملک بھر کے سکولوں ‘ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کردار سازی کی 50 ہزار سے زائد انجمنیں تشکیل دی جاچکی ہیں۔

نیب نے وفاقی اور صوبائی اداروں میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ دینے کیلئے متعلقہ قوانین اور ریگولیٹری قواعد و ضوابط کا جائزہ لے کر ان کی خامیاں دور کرنے کیلئے پری وینشن کمیٹیاں قائم کی ہیں‘ وفاقی سطح پر یہ پر ی وینشن کمیٹیاں سی ڈی اے ‘ وزارت مذہبی امور ‘ ایف بی آر ‘ پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ ( پی آئی ڈی ) جبکہ صوبائی سطح پر محکمہ صحت ‘ تعلیم ‘ ریونیو ‘ ہاؤسنگ اور کوآپرٹیو میں قائم کی گئی ہیں جبکہ وزارت مذہبی امور میں نیب کی قائم کی گئی پری وینشن کمیٹی نے حج انتظامات کو بہتر بنانے اور حاجیوں کے مسائل کے حل کیلئے جو سفارشات تیارکیں ان پر وزارت مذہبی امور نے عملدرآمد کیا۔

نیب کے مقدمات میں سزا کی شرخ 77 فیصد ہے جو وائٹ کالر کرائم کے خلاف کسی بھی ادارے کی بہترین کارکردگی ہے ۔نیب کو اپنا کام قانون کے مطابق کرنا ہے اور یہ کام نیب کرتا رہے گا۔

چیئرمین نیب نے تمام افسران کو ہدایت کی تھی کہ نیب بدعنوان عناصر کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی کرکے خصوصاََ اشتہاری اور مفرور ملزمان کی گرفتاری کیلئے تمام اقدامات اٹھائے جائیں۔

ان کے احکامات کی روشنی میں اب تک 226 افراد کو گرفتار ، 872 شکایات کی جانچ پڑتال، 403 انکوائریاں اور82 انوسٹی گیشن کی منظوری دی جبکہ 230 بدعنوانی کے ریفرنس متعلقہ احتساب عدالت میں دائر کئے گئے ہیں جن میں سے39 افراد کو متعلقہ احتساب عدالت نے قانون کے مطابق سزا سنائی۔ نیب کسی کے ساتھ امتیازی سلوک پر یقین نہیں رکھتا۔

جس نے مبینہ طو پربدعنوانی کی ہے اس کے خلاف قانون کے مطابق بلا تفریق کاروائی عمل میں لائی جائے گی کیونکہ نیب کی پالیسی فیس (Face) نہیں بلکہ کیس (Case) کو دیکھنے کی ہے۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے اپنے منصب کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے ’’احتساب سب کیلئے‘‘ کا عزم کیا تھا اس پر زیروٹالیرنس اور خود احتسابی کی پالیسی کے ذریعے سختی سے عمل کیاجارہا ہے۔

چیئرمین نیب جناب جسٹس جاوید اقبال نے قوم سے ملک سے بدعنوانی کے خاتمے کیلئے سنجیدہ کاوشیں کرنے اور زیروٹالیرنس کی پالیسی اپنائی ہے اس پر نہ صرف چیئرمین نیب خود عمل کررہے ہیں بلکہ نیب کے تمام افسران بھی اس پر عمل کررہے ہیں۔

جو پاکستان کے بہتر مستقبل اور ملک کو کرپشن فری ملک بنانے کی جانب صیح اور بروقت قد م ہے ۔جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہے اور چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کی شاندار کارکردگی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

مزید : رائے /کالم