این اے 147اور 148میں ارائیوں کے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کریں گے

این اے 147اور 148میں ارائیوں کے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کریں گے

 ساہیوال ( محمد الطاف الرحمن ) ساہیوال میں برادری ازم ہمیشہ نظریاتی ازم جوبن پر رہا ہے،اوکاڑہ میں دریائے راوی کے ساتھ مخصوص برادریوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں جن میں ربیرے،کھگے،بشیرے کاٹھے مردانے ،بگھیلے،لنگڑیال شامل ہیں ۔ آرائیں برادری یہاں پنجاب کے تمام اضلاع سے زیادہ ہے اور انتخابات پر اثر ڈالتی ہے اسکے علاوہ کمیر کے علاقہ میں ڈھکو،گادھی اور بلوچ بھی بڑی تعداد میں ہیں ۔ این اے 147جس میں ساہیوال کے شہری علاقے اور متعدد دیہات شامل ہیں مسلم لیگ (ن) کا گڑھ رہا ہے اور ن لیگ کی طرف سے اس بار بھی پیرسید عمران احمد شاہ ہی امیدوار ہیں ۔ان کا مقابلہ کر نے کے لئے پیپلز پارٹی کی طرف سے رانا عامر شہزاد طاہر، تحریک انصاف کے چو ہدری نو ریز شکور ،پاکستان مسلم لیگ (ق) کے حافظ خالد محمود ڈوگر میدان میں ہیں۔متحدہ مجلس عمل ابھی تک کئی امیدوار فائنل نہیں کر سکی ۔ این اے 148سے ن لیگ کے چو ہدری محمد اشرف ،ملک رمضان اور پیر احسان الحق ادریس امیدوار ہیں دیکھیں ٹکٹ کسی ملتا ہے ۔ان کے مد مقابل پیپلز پارٹی کے مہر غلام فرید کاٹھیا ،تحریک انصاف کے محمد یار ڈھکو اور (ق) لیگ کے رانا طارق جا وید مد مقابل ہونگے ۔ این اے 149چیچہ وطنی سے مسلم لیگ (ن) نے سابقہ ایم این اے چو ہدری محمد طفیل جٹ کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے ان کے مد مقابل تحریک انصاف کی طرف سے رائے حسن نواز خاں کے بھتیجے رائے مر تضیٰ اقبال انتہائی مظبوط امیدوار ہیں ۔پیپلز پارٹی شاید بیگم شہناز جا وید کو امیدوار بنائے گی ۔تمام سیاسی پنڈت اس بات پر متفق ہیں کہ اس بار ضلع ساہیوال میں پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف میں گھمسان کارن پڑے گا ۔میاں نواز شریف اورا ن کی فیملی کے خلاف مقدمات کے فیصلے بھی الیکشن پر اثر انداز ہونگے ۔ این اے 147,148میں ارائیوں کے ووٹ فیصلہ کن کردار ادا کریں گے ۔ PP-196سے پیر ولایت شاہ کھگہ کے بیٹے پیر خضر حیات شاہ کھگہ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار ہیں ان کا مقابلہ پیر مظہر شاہ کھگہ پیپلز پارٹی کی طرف سے کر سکتے ہیں ۔ تحریک انصاف ابھی تک اس حلقہ سے کوئی امیدوار سامنے نہیں لائی ۔PP-197سے مسلم لیگ (ن) کے ملک ندیم کامران مظبوط امیدوار ہیں جبکہ ان کا مقابلہ شیخ محمد چوہان،رانا آفتاب احمد خاں،چو ہدری صغیر انجم،شکیل خان نیازی تحریک انصاف کی طرف سے ایک امیدوار میدان میں اتریں گے جبکہ چو ہدری شفقت جاوید ا ور نعیم نثار پیپلز پارٹی سے ایک امیدوار میدان میں اترے گا جبکہ اسی حلقہ سے متحدہ مجلس عمل اور لبیک یا رسول اللہ کے علاوہ متعدد آزاد امیدوار بھی میدان میں اتریں گے۔PP-198سے ملک ارشد مسلم لیگ(ن) کے امیدوار ہیں ان کے مد مقابل فیصل جلال ڈھکو پی ٹی آئی کے مظبوط امیدوار ہو سکتے ہیں جبکہ ایک اور امیدوار جس نے ن کے پلیٹ فارم سے ٹکٹ کے لئے اپلائی کیا ہے ،چو ہدری آصف بھی میدان میں اترے ہیں۔ PP-199میں مسلم لیگ (ن) کی طرف سے نوید اسلم لو دھی یا ان کی بیگم عا ئشہ لو دھی امیدوار ہونگی ۔ان کامقابلہ تحریک انصاف کے چو ہدری محمد عمر اسحاق کے ساتھ متوقع ہے ۔PP-200میں بھی کانٹے دار دنگل وحید اصغر ڈوگر اور مسلم لیگ (ن) کے محمد ایوب کے در میان ہوگا۔ PP-201سے تحریک انصاف کے رائے مر تضیٰ اقبال اس بار بھی امیدوار ہونگے ۔مسلم لیگ (ن) نے چو ہدری حنیف جٹ کو میدان میں اتارنے کا فیصلہ کیا ہے اس حلقہ میں گھمسان کارن پڑے گا ۔PP-202سے نعمان لنگڑیال تحریک انصاف پلیٹ فارم سے یا پھر آزاد حیثیت سے انتخاب لڑ سکتے ہیں ۔مسلم لیگ (ن) کے اس حلقہ سے پہلے چو ہدری ارشد جٹ امیدوار ہو سکتے ہیں چو ہدری سعید گجر ،میجر(ر) غلام سرور امیدوار ہو سکتے ہیں حتمی فیصلے تو پارٹی ٹکٹوں کے اجراء کے بعد ہی ہونگے ۔ پیپلز پارٹی کسی حلقہ میں اتنی فعال نظر نہیں آتی ۔مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے لئے الیکشن 2018انتہائی مشکل ٹاسک ہوگا جس کی پیشنگوئی کر نا ممکن نہیں ہے۔

مزید : صفحہ اول