این اے 113 میں گدی نشینی ،دھڑا بندی اور برادری کی سیاست

این اے 113 میں گدی نشینی ،دھڑا بندی اور برادری کی سیاست

پیرمحل(میاں شاہد حسین سے) سیاسی جماعتوں کی جانب سے قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں نامزدامیدواروں کے نام بھی تقریباً فائنل کئے جا چکے ہیں۔جیسے جیسے انتخابات کی تاریخ قریب آرہی ہے ویسے ہی لوگوں میں جوش وخروش بھی بڑھتا ہوا نظر آرہا ہے۔الیکشن میں حصہ لینے والے امیدوار بھی لوگوں کی غمی اورخوشی میں اپنی شرکت کو ہرصورت یقینی بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ این اے 113میں مسلم لیگ(ن) کی جانب سے 4بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونیوالے چوہدری اسدالرحمن ،2بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہونیوالے مہرمحمد ریاض فتیانہ اور پی ٹی آئی کے امیدوار حیدر خاں کھرل مدمقابل ہیں۔ ماضی کا جائزہ لیا جائے تو مذکورہ سیاسی حلقہ مسلم لیگ(ن) کا گڑھ ثابت ہواہے ۔ایسی فضاء میں مہرمحمد ریاض فتیانہ نے 2بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہو کر ثابت کیا کہ محنت اور اچھے اخلاق کی وجہ سے کوئی مشکل کام ناممکن نہیں ہوسکتا۔ حیدرخاں کھرل کا مقابلہ 2 تجربہ کار منجھے ہوئے سیاستدانوں سے ہے۔وہ سابق وفاقی وزیر خالداحمد خاں کھرل مرحوم کے صاحبزادے ہیں۔کامیابی حاصل کرنے کے لئے مسلم لیگ(ن) کے امیدوار چوہدری اسدالرحمن نے حلقہ کی 2تحصیلوں پیرمحل اور کمالیہ میں ریکارڈ ترقیاتی کام کروائے جبکہ مہر محمد ریاض فتیانہ نے بھی 2002 ء اور2008ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد دونوں تحصیلوں میں لوگوں کی خدمت کرنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ریکارڈ ترقیاتی کام کروانے کے علاوہ انہوں نے حلقہ کے سینکڑوں نوجوانوں کو روزگار دلوانے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ حیدرخاں کھرل مدمقابل امیدواروں کے لئے کسی صورت بھی آسان حریف ثابت نہیں ہونگے ۔اگر پیپلز پارٹی نے اپنا امیدوار میدان میں نہ اتارا تو حیدرخاں کھرل کی کامیابی کے قوی امکان ہیں۔قومی اسمبلی کے امیدواروں نے اپنی عوامی رابطہ مہم کا آغاز زوروشور سے کررکھا ہے۔مذکورہ حلقہ میں گدی نشینوں ،دھڑا بندی اور ذاتیات کی سیاست نے بھی ہمیشہ کسی بھی امیدوار کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

پیر محل

مزید : صفحہ اول