سپریم کورٹ ،54ارب کے قرضے معاف کرانے والی222کمپنیوں سے جواب طلب

سپریم کورٹ ،54ارب کے قرضے معاف کرانے والی222کمپنیوں سے جواب طلب

اسلام آباد(سٹاف رپورٹر)54 ارب کے قرضوں سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالی222کمپنیوں سے جواب طلب کر لیا، قوم کے 54ارب کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں‘ پیسے بھی ہضم‘لینڈ کروزراورکاروبار بھی چل رہے ہیں‘ قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی اور اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے سپرد کردیں گے،چیف جسٹس،جڑواں شہروں میں پانی کی قلت پر ازخود نوٹس ، چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کر لیا گیا،موبائل کمپنی اور پنجاب حکومت کی جانب سے خاران مقتول اور زخمیوں کو دئیے جانے والا معاوضہ کی رقم متعلقہ سیشن جج کی عدالت میں جمع کرانے کی ہدایت۔تفصیلا ت کے مطابق سپریم کورٹ نے قرضے معاف کرانیوالی222کمپنیوں سے1ہفتے میں تفصیلی جواب طلب کر لیا ، چیف جسٹس ثاقب نثار نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ قوم کے 54ارب روپے کھانے کے باوجود تاحال کمپنیاں کام کررہی ہیں، پیسے بھی ہضم،لینڈ کروزراورکاروبار بھی چل رہے ہیں،قرض نادہندگان کی جائیدادیں بھی ضبط کرلی جائیں گی اور اگر قوم کے پیسے واپس نہ کیے تو معاملہ نیب کے سپرد کردیں گے سماعت 19 جون تک ملتوی کردی۔وکلاکی سماعت ملتوی کرنیکی استدعاپرچیف جسٹس کا جواب میں کہنا تھا کہ یہ اہم کیس ملتوی نہیں کرسکتا،روزانہ کی بنیاد پر کیس کی سماعت ہوگی۔وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ ایس ای سی پی کے ذریعے کمپنیز کو نوٹس دیے جائیں جس پر عدالت نے ریماکس دیئے کہ پبلک نوٹس کردیا ہے اگر کوئی نہیں آتا تو اپنے رسک پر مت آئے،جو کمپنیاں نہیں آئیں گی انکے خلاف یکطرفہ کارروائی ہوگی۔ علاوہ ازیں راولپنڈی اوراسلام آباد میں پانی کی قلت پرازخودنوٹس کی سماعت شروع ہوتے ہی عدالت نے سوال کیا کہ کیا وہ تمام لوگ موجود ہیں جن کے ٹیوب ویلز ہیں؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ جی زمرد خان، ملک ابرار، شہزادہ خان، سجاول محبوب سمیت 8 افراد عدالت میں موجود ہیں۔ملک ابرار نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ میرا نام ملک ابرار ہے میں سابق رکن قومی اسمبلی ہوں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ چھوڑیں آپ جو بھی ہیں مدعے پر آئیں انہوں نے کہا میرا کوئی ٹیوب ویل نہیں ۔چیف جسٹس نے کہا کہ ٹھیک ہے ہم،آپ نے غلط بیانی کی تو توہین عدالت کی کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ زمرد خان آپ بتائیں آپ پر الزام ہے کہ آپ کا ٹیوب ویل ہے جس پر ان کا کہنا تھا میرا کوئی ٹیوب ویل نہیں، میں سماجی کارکن کی حیثیت سے کچھ گزارشات کرنا چاہتا ہوں،راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ کے علاقے میں پانی کا شدید بحران ہے۔ میونسپل کارپوریشن کے نمائندہ نے سپریم کورٹ میں پیش ہو کر موقف اپنایا کہ آئندہ اجلاس میں ٹیوب ویل سے پانی استعمال کرنے والوں پر ٹیکس لگانے کا سوچ رہے ہیں.جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے نوٹس کے بعد ہی آپ کو کیوں یاد آتا ہے؟کتنے دن میں ٹیکس لگانے کا فیصلہ کرلیں گے؟جس پرنمائندہ میونسپل کارپوریشن نے سپریم کورٹ سے کہا کہ 15 روز کا وقت دے دیں۔سپریم کورٹ نے چیئرمین سی ڈی اے کو طلب کرتے ہوئے سی ڈی اے اور میونسپل کارپوریشن کو ہدایت کی کہ پانی کے معاملے پر مشترکہ حکمت عملی بنائیں۔ دریں اثنا خاران میں مزدوروں کے قتل سے متعلق کیس کی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ کیاموبائل کمپنی نے مزدوروں کے ورثاکومعاوضہ دیاہے جس پر وکیل نے بتایا کہ کمپنی نے65لاکھ روپے ورثاکومعاوضہ اداکردیاہے۔ اس موقعہ پر ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ حکومت پنجاب بھی ورثاء کو 65 لاکھ روپے معاوضہ دیگی جب کہ ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ بلوچستان حکومت بھی ورثاء کو 10لاکھ روپے معاوضہ دیگی جب کہ بلوچستان حکومت زخمیوں کو بھی 5 لاکھ معاوضہ دیگی۔عدالت نے حکم دیا کہ آئندہ سماعت تک معاوضہ کی رقم متعلقہ سیشن جج کوجمع کروائی جائے، سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی گئی ہے۔

جواب طلب

مزید : صفحہ اول

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...