بھرتی آفر لیٹر سے پہلے منسوخ ہوسکتی ہے بعد میں نہیں: ہائیکورٹ

بھرتی آفر لیٹر سے پہلے منسوخ ہوسکتی ہے بعد میں نہیں: ہائیکورٹ

لاہور(نامہ نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے سی ٹی ڈی میں کارپولرز کی اسامیاں منسوخ کرنے پر ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ کیا تمام کام عدالت نے کرنے ہیں؟ اگر حکم دیں تو کہتے ہیں کہ عدالتیں مداخلت کرتی ہیں۔جسٹس شاہد وحید نے بلال احمد ودیگر کی درخواست پرسماعت شروع کی تو ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر اور اے آئی جی لیگل رانا محمد الیاس پیش ہوئے، درخواست گزاروں کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی ٹی ڈی میں بھرتیوں کے لئے اپلائی کر رکھا تھا اور محکمہ کی جانب سے آفر لیٹرز بھی جاری کئے گئے مگر درخواست گزاروں کو بھرتی نہیں کیا گیا ،درخواست گزاروں کو بھرتی کرنے کاحکم دیا جائے، عدالت نے ایڈیشنل آئی جی رائے طاہر سے استفسار کیا کہ آفرزلیٹرجاری کرنے کے بعدبھرتی کیوں منسوخ کی؟ ایڈیشنل آئی جی نے بتایا کہ کچھ امیدواروں نے بھرتی کے لئے ہائیکورٹ سے رجو ع کیاتھا جس پر عدالت نے درخواست گزاروں کوبھرتی کرنے کاحکم دیا اور محکمہ نے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف انٹرکورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے ،ا نٹراکورٹ کے فیصلے تک سماعت ملتوی کی جائے۔ جسٹس شاہد وحید نے ریمارکس دیئے کہ انٹراکورٹ اپیل میں عدالتی فیصلہ معطل نہیں ہوا جس پر ایڈیشنل آئی جی نے کہا کہ ہمارے پاس اسامی کومنسوخ کرنے کاختیار ہے،عدالت نے قرار دیا کہ آفر لیٹر سے پہلے بھرتی منسوخ کرسکتے ہیں ،اب نہیں منسوخ کی جا سکتی، ایڈیشنل آئی جی رائے طاہرنے کہا کہ عدالت حکم جاری کر دے ہم اس پر عمل کریں گے ۔

مزید : صفحہ آخر