’’ تین نومبر  کا ایمرجنسی  اقدام صرف اس ایک شخص کو نکالنے کیلئے تھا‘‘ بالآخر پرویزمشرف نے اعتراف کرلیا، یہ شخص نوازشریف نہیں تھا بلکہ ۔ ۔ ۔

’’ تین نومبر  کا ایمرجنسی  اقدام صرف اس ایک شخص کو نکالنے کیلئے تھا‘‘ ...
’’ تین نومبر  کا ایمرجنسی  اقدام صرف اس ایک شخص کو نکالنے کیلئے تھا‘‘ بالآخر پرویزمشرف نے اعتراف کرلیا، یہ شخص نوازشریف نہیں تھا بلکہ ۔ ۔ ۔

کراچی(ویب ڈیسک)سابق صدر پرویز مشرف نے  کہا ہے کہ تین نومبر کے اقدام کا مقصد صرف ایک آدمی (افتخار چوہدری) کو نکالنا تھا،میں نے ایک بار غلطی سے کہا کہ مجھے باہر بھجوانے میں راحیل شریف نے کردار ادا کیا۔ باہر بھجوانے کا اقدام وزیر داخلہ ، وزیر اعظم اور ن لیگی رہنماﺅں کا تھا، کاغذات نامزدگی میں تبدیلیوں کے حوالے سے نہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ اپنا فائدہ دیکھتے ہیں،یہاں ضرور کوئی ملی بھگت ہوگی کیوں کہ تمام ایم این ایز ، ایم پی ایز چاہتے ہیں کہ ان سے کچھ نہ پوچھا جائے۔

اپنے ایک انٹرویو میں پرویز مشرف نے کہاکہ پری پول دھاندلی کے میاں نواز شریف کے الزامات پر ان کا کہنا تھا نواز شریف جو بول رہے ہوتے ہیں ان کا سر اور پیر نہیں ہوتا۔پاناما آیا، ان پر اتنے کرپشن کیسز ہیں انھیں اس کا جواب دینا چاہیے ان کے خلاف کوئی سازش نہیں کررہا یہ خود سازش کرتے اور دھاندلی کرتے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں مشرف کا کہنا تھا مجھے افسوس ہوتا ہے کہ مریم اور نواز شریف اپنے آپ کو مجھ سے موازنہ کرتے ہیں۔نواز شریف پرچوری کے کیسز ہیں مجھ سے موازنہ کرتے ہیں مجھ پر جھوٹے کیس بنائے گئے ہیں۔ بے نظیر کے کیس میں مجھ پر نئی جے آئی ٹی بنائی اور میرا نام ڈلوایا گیا۔ مجھ پر لال مسجد کا کیس ہے میری حکومت میں لال مسجدآپریشن کا فیصلہ ہوا۔ بالکل صحیح فیصلہ تھا۔

انھوں نے کہاتین نومبر کی ایمرجنسی آئین شکنی نہیں تھی میں نے وزیر اعظم کی ایڈوائس پر، فوجی و سویلین سے مشاورت کے بعدایکشن لیا۔ افتخار چوہدری جو پاکستان کو تباہی کیطرف لے جارہا تھااس کے خلاف ایکشن ضروری تھا۔ ان کے خلاف کئی لوگوں کو شکایات تھیں۔

مزید : قومی /علاقائی /سندھ /کراچی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...