’ہم بھی یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں ‘افغان صدر اشرف غنی کے اعلان کے بعد طالبان بھی میدان میں آ گئے ، پہلی مرتبہ ایسا اعلان کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

’ہم بھی یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں ‘افغان صدر اشرف غنی کے اعلان کے بعد ...
’ہم بھی یہ کام کرنے کیلئے تیار ہیں ‘افغان صدر اشرف غنی کے اعلان کے بعد طالبان بھی میدان میں آ گئے ، پہلی مرتبہ ایسا اعلان کر دیا کہ کوئی سوچ بھی نہ سکتا تھا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

کابل(ڈیلی پاکستان آن لائن ) افغانستان کے صدر اشرف غنی کی جانب سے سیزفائر کے اعلان کے بعد طالبان نے بھی پہلی بار عید الفطر کے تین دنوں میں افغان فورس کے خلاف جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان جنگجووں کی جانب سے صحافیوں کو بھیجے گئے ایک بیان میں عید الفطر کے موقع پر تین روزہ جنگ بندی کا اعلان کردیا گیا ہے۔ اس دوران مقامی طالبان کمانڈرز کو افغان فوج پر حملہ نہ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تاہم طالبان ترجمان نے واضح کیا ہے کہ جنگ کی بندی کا اعلان صرف افغان فوج کے لیے ہے غیر ملکی فوجوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

طالبان کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ تین روزہ سیز فائر کے بعد عسکری کارروائیاں دوبارہ بحال کر دی جائیں گی تاہم جنگ بندی کے دوران کسی بھی حملے کے خلاف طالبان دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں، سیز فائر کو کمزوری نہ سمجھا جائے، یہ اقدام اسلامی تہوار پر جذبہ خیر سگالی کے تحت کیا گیا ہے۔

اس سے قبل افغان صدر اشرف غنی نے بھی طالبان کے خلاف ایک ہفتے کے لیے سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔ 2001 میں امریکا کی قیادت میں افغانستان پر فوج کشی کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ طالبان نے سیزفائر کا اعلان کیا ہو۔

مزید : بین الاقوامی