پہلے مرد بے وفائی کرتے تھے لیکن اب ایسا کرنے والی بیویوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ اب۔۔۔ سائنسدانوں نے انتہائی شرمناک انکشاف کردیا

پہلے مرد بے وفائی کرتے تھے لیکن اب ایسا کرنے والی بیویوں کی تعداد میں بے حد ...
پہلے مرد بے وفائی کرتے تھے لیکن اب ایسا کرنے والی بیویوں کی تعداد میں بے حد اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ اب۔۔۔ سائنسدانوں نے انتہائی شرمناک انکشاف کردیا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک)عام تاثر ہے کہ مرد ہی زیادہ اپنی بیویوں سے بے وفائی کرتے ہیں لیکن نئی تحقیق میں سائنسدانوں نے ایسا انکشاف کر دیا ہے کہ سن کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ میل آن لائن کے مطابق سائنسدانوں نے بتایا ہے کہ پہلے مرد زیادہ بے وفائی کرتے تھے لیکن بیویوں کے بے وفائی کرنے کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جس کی وجہ ہمارا جدید طرزِ زندگی ہے۔ زندگی میں جدت کے ساتھ ساتھ مردوخواتین کی جنسی عادات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ یہ تبدیلی خواتین میں زیادہ ہے اور اب وہ پہلے سے زیادہ بے وفائی کرنے لگی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جدید طرزِ زندگی میں اب انہیں زیادہ سماجی و جنسی آزادی حاصل ہوتی جا رہی ہے۔ 1993ءمیں کیے گئے ایک سروے میں 11فیصد خواتین نے شوہر سے بے وفائی کا اعتراف کیا تھا جبکہ 2018ءمیں 21فیصد نے قبول کیا ہے کہ وہ اپنے شوہروں سے بے وفائی کر رہی ہیں۔

سائنسدانوں کا کہنا تھا کہ ”خواتین کو سماجی و جنسی آزادی ملنے کے ساتھ ساتھ اب وہ مالی اعتبار سے بھی پہلے کی نسبت زیادہ خودمختار ہو چکی ہیں اور یہ ان کے بے وفائی کرنے کی شرح میں اضافے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ جب وہ کام کرنے کے لیے گھر سے باہرنکلتی ہیں تو انہیں بے وفائی کرنے کے مواقع بھی زیادہ میسر آتے ہیں اور مالی طور پر خودمختار ہونے کی وجہ سے ان کے ذہن میں اپنے شوہر سے متعلق وہ خطرات بھی نہیں ہوتے جو شوہر کی آمدن پر انحصار کرنے والی خاتون کو لاحق ہوتے ہیں۔“تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ کینیتھ پاﺅل روزنبرگ کا کہنا تھا کہ ”ہماری تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ زیادہ پڑھی لکھی اور اچھی آمدن کمانے والی خواتین میں بے وفائی کی شرح دیگر خواتین کی نسبت کئی گنا زیادہ ہے۔خاص طور پر وہ خواتین جو یونیورسٹی تک تعلیم حاصل کرتی ہیں اور وہ خواتین جن کی آمدنی ان کے شوہروں سے زیادہ ہو،ان دونوں قسم کی خواتین کے شوہر سے بے وفائی کرنے کے امکانات سب سے زیادہ ہوتے ہیں۔“

مزید : ڈیلی بائیٹس /بین الاقوامی