اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اور بد بخت اولاد کا وطیرہ

اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اور بد بخت اولاد کا وطیرہ
اسلام میں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم اور بد بخت اولاد کا وطیرہ

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کا خصوصی حکم دیا گیا ہے ،سیدہ کائنات اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ ایک شخص حضوراقدس ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اس کے ساتھ ایک بڑے میاں تھے، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تیرے ساتھ یہ کون ہیں؟ عرض کیا کہ یہ میرے والد ہیں، فرمایا کہ باپ کے اکرام و احترام کا خیال رکھ، ہرگز اس کے آگے مت چلنا، اور اس سے پہلے مت بیٹھنا اور اس کا نام لے کر مت بلانا اور اس کی وجہ سے (کسی کو) گالی مت دینا۔“(درمنشور)ایک اور حدیث میں سیدنا حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ حضوراکرم ﷺنے ارشاد فرمایا کہ’’ جس کو یہ پسند ہو کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر دراز کرے اور اس کا رزق بڑھائے اس کو چاہیے کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرے اور (رشتہ داروں) کے ساتھ صلہ رحمی کرے۔(در منشور)

بد قسمت ہے وہ اولاد جو اپنے والدین کو بڑھاپے میں بے یار و مدد گا ر چھوڑ دے ،آج ہم آپ کو ایک ایسے 67سالہ پاکستانی بزرگ سے ملوا رہے ہیں جس  کو اس کے  اکلوتے بیٹے نے تھپڑمار کر گھر سے نکال دیا، یہ کروڑ پتی شخص ڈیفنس کراچی کا رہائشی ہے اور زندگی کے آخری دن درختوں کے نیچے گزارنے پر مجبور ہے۔۔۔۔

۔۔۔ویڈیو دیکھیں۔۔۔

مزید : وڈیو گیلری