دو حلقوں سے کاغذات جمع کروا رہی ہوں ،حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی:مریم نواز  شریف

دو حلقوں سے کاغذات جمع کروا رہی ہوں ،حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی:مریم نواز  ...
دو حلقوں سے کاغذات جمع کروا رہی ہوں ،حتمی فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی:مریم نواز  شریف

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن)پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی رہنماء مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ میرے الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کرے گی،این اے 125اور این اے 127کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہوں، کس حلقے سے الیکشن لڑنا ہے  ابھی فی الحال فیصلہ نہیں کیا گیا۔

انہوں اپنے ٹویٹ میں پارٹی کارکنان اور ووٹرز کو آگاہ کیا تھا  کہ انہوں نے 2انتخابی حلقوں این اے 125اور این اے 127سے کاغذات نامزدگی وصول کیے ہیں جبکہ وہ  ان دونوں حلقوں کیلئے ٹکٹ لینے کیلئے درخواستیں جمع کروا رہی ہیں  تاہم مریم نواز کا کہنا تھا کہ انکے  این اے 125اور این اے 127سے  الیکشن لڑنے کا فیصلہ پارٹی قیادت کو کرنا ہے۔واضح رہے مریم نواز سے متعلق چہ مگوئیاں گردش کر رہی ہیں کہ وہ این اے 127سے الیکشن لڑیں گی بعض کارکنان کو بتایا گیا ہے کہ وہ اپنے والد نوازشریف کے انتخابی حلقے این اے 120جوکہ اب 125ہے وہاں سے الیکشن کے لئے میدان میں اتریں گی۔این اے 125میں ان کے مقابلے میں تحریک انصاف کی رہنماء ڈاکٹر یاسمین راشد کوکھڑا کیا جارہا ہے،دونوں جماعتوں کے امیدواروں میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہے۔این اے 125سابق وزیراعظم نوازشریف کا انتخابی حلقہ ہے جبکہ بیگم کلثوم نواز کا آبائی حلقہ بھی ہے۔ نوازشریف کی پاناما کیس میں سپریم کورٹ میں نااہلی کے بعد این اے 120سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی اہلیہ بیگم کلثوم نواز نے الیکشن لڑا۔انہوں نے ڈاکٹر یاسمین راشد کو بھاری ووٹوں سے شکست دی تاہم بیگم کلثوم نوازکینسر کی بیماری میں مبتلا ہونے کے باعث لندن میں زیرعلاج تھیں اور ان کی غیرموجودگی میں ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز نے چلائی، اب ایک بار پھر این اے 125میں کانٹے دار مقابلے کی توقع کی جارہی ہےجبکہ پیپلزپارٹی پنجاب میں متحرک اور منظم دکھائی نہیں دے رہی اس لئے اصل مقابلہ مسلم لیگ نون اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں کے درمیان ہی متوقع ہے جبکہ دینی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل کے امیدوار بھی اکا دکا حلقوں کو چھوڑ کر پنجاب میں اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ وہ تحریک انصاف یا مسلم لیگ نون کے لئے کوئی بڑا خطرہ بن سکیں ۔

مزید : قومی