امریکہ کی امن مذاکرات کے لئے پاکستان سے مدد کی اپیل،پاک افغان ا علیٰ سطحی رابطوں کا نیا دور آئندہ ہفتے ہوگا،آرمی چیف کا دورہ کابل بھی متوقع

امریکہ کی امن مذاکرات کے لئے پاکستان سے مدد کی اپیل،پاک افغان ا علیٰ سطحی ...
امریکہ کی امن مذاکرات کے لئے پاکستان سے مدد کی اپیل،پاک افغان ا علیٰ سطحی رابطوں کا نیا دور آئندہ ہفتے ہوگا،آرمی چیف کا دورہ کابل بھی متوقع

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)  پاکستان اور افغانستان کے مابین حالیہ مہینوں میں کئی ایک اعلی سطح کے رابطے ہوئے جنہیں دوطرفہ تعلقات میں بہتری کے ساتھ ساتھ افغانستان میں قیام امن کی کوششوں کے لیے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے،دوسری طرف امریکہ نے بھی افغان حکومت اور طالبان امن مذاکرات کے لئے  پاکستان سے مدد کی تصدیق کردی ہے،اس حوالے سے گذشتہ ہفتے نائب امریکی صدر اور وزیر خارجہ نے پاکستان کی سویلین اور فوجی قیادت سے بات چیت کرتے ہوئے پاکستان کو اپنا کردار ادا کرنے کی درخواست کی ہے ۔

ملکی و غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق آئندہ ہفتے ایک اعلیٰ  سطح افغان وفد اسلام آباد کا دورہ کرے گا جب کہ پاکستان کی بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا دورہ کابل بھی متوقع ہے،باضابطہ طور پر اس بارے میں ابھی تک کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا تاہم اسلام آباد اور کابل کے درمیان یہ رابطے ایک ایسے وقت ہو رہے ہیں جب افغان حکومت کی طرف سے عید الفطر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کے اعلان کے بعد افغان طالبان نے عید پر تین روز کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کے خلاف اپنی عسکری کارروائیاں روکنے کا اعلان کیا ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں اس عارضی جنگ بندی کے لیے امریکہ اور پاکستان نے مل کر اپنا کردار ادا کیا ہے  جبکہ امریکی خبر رساں ادارے ’’وائس آف امریکہ ‘‘ نے  اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ’’ امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ اس نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ طالبان شورش کے سلسلے میں براہ راست مذاکرات میں افغان حکومت کی مدد کرے،امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں اعلیٰ سطح پر پگھلاؤ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب واشنگٹن ،اسلام آباد کے لیے تمام فوجی معاونت معطل اور دونوں ملک ایک دوسرے کے سفارت کاروں پر سفری پابندیوں کا اطلاق کر چکے ہیں۔دوسری طرف امریکہ کے محکمہ خارجہ کی ایک بریفنگ کے دوران پاکستان کے کردار کے بارے میں پوچھنے پر محکمہ خارجہ کے اعلی عہدیدار نے اسکا براہ راست جواب دینے کی بجائے کہا کہ یہ افغان حکومت کا اقدام ہے جو افغان عوام کی خواہش کی ترجمانی کر رہی ہے اور یقینا ہمیں امید ہے کہ طالبان اور دیگر تنظیمیں یا ایسے ممالک بھی محدود دورانیے کی جنگ بندی کی برابر حمایت کریں گے جن کا طالبان پر کسی قدر اثر و رسوخ ہے۔

یاد رہے کہ طالبان نے عید الفطر کے موقع پر تین دن کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے تاہم اس کا اطلاق غیر ملکی افواج پر نہیں ہو گا ،دوسری جانب جنگ بندی کے اعلان سے چند گھنٹے پہلے افغان طالبان نے ملک کے مختلف حصوں میں افغان سیکیورٹی فورسز پر حملے کرتے ہوئے کم از کم 65 اہلکار ہلاک کر دیئے ہیں۔

واضح رہے کہ افغان صدر اشرف غنی کی طرف سے طالبان کو عارضی جنگ بندی کی پیش کش سے پہلے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل باجوہ سے فون پر ہونے والی بات چیت میں پاکستان امریکہ تعلقات اور افغانستان میں سیاسی مفاہمت اور دیگر امور پر گفتگو کی تھی۔سلامتی کے امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ امریکہ افغانستان کے مسئلہ کو سیاسی طور پر حل کرنے کے لیے ان کے بقول پاکستان کے کردار کو اہم خیال کرتا ہے۔ تاہم، یہ اسی صورت ممکن ہے جب اسلام آباد اور کابل کے درمیان مکمل اعتماد بحال ہو۔بقول ان کے، "ابھی حال میں افغانستان سے بھی یہ کوشش ہے کہ پاکستان سے تعلقات کو بہتر کیا جائے اور آپ نے دیکھا ہوں گا کہ مختلف وفود کا تبادلہ ہو رہا ہے اور یا جو آئندہ دنوں میں آئیں گے اور پاکستانی فوج کے سربراہ افغانستان جا رہے ہیں یہ تمام چیزیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ پاکستان افغانستان سے اچھے تعلقات چاہتا تھا اب افغانستان بھی اس کا مثبت ردعمل دے رہا ہے۔ "واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے قومی سلامتی مشیر حنیف اتمر کی سربراہی میں پاکستان کا دورہ کرنے والے وفد نے پاکستانی عہدیداروں سے افغانستان پاکستان ایکشن پلان برائے امن و استحکام پر عملدرآمد اور دیگر امور کے حوالے سے بات چیت کی تھی

مزید : اہم خبریں /قومی /بین الاقوامی