رمضان میں زکوٰۃ کیوں ضروری ہے؟

رمضان میں زکوٰۃ کیوں ضروری ہے؟
رمضان میں زکوٰۃ کیوں ضروری ہے؟

 بہے لوگ سول پوچھتے ہیں کہ سالانہ زکوٰۃ ماہِ رمضان میں ہی ادا کرنا کیوں ضروری ہے؟ ماہانہ زکوٰۃ  نکالنے کا طریقہ کیا ہے؟ اور سونا بطور تحفہ یا عیدی کی رقم پر زکوٰۃکتنی لاگو ہوتی ہے؟

 زکوٰۃ کی ایک قسم وہ ہے جو کہ آپ کی بچت پہ فرض ہوتی ہے۔ اس میں اصول یہ ہے کہ سال گزرنے کے بعد جو رقم آپ کے پاس بچے گی اس کا اڑھائی فی صد بطور زکوٰۃ ادا کرنا ہوگا۔ آپ چاہیں تو سال میں کوئی بھی دن مقرر کرسکتے ہیں۔زیادہ تر لوگ رمضان کا دن مقرر کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ  رمضان میں کسی کی مدد کرنے پر زیادہ اجر کے مستحق ہوں گے۔ فرض کر لیں رمضان کی اول تاریخ کو کسی نے منتخب کر لیا ہے تو اب وہ اس روز دیکھے گا کہ اس کے اکاؤنٹ میں کتنے پیسے ہیں؟ زیور کتنا ہے؟ کیشں کی صورت میں کتنی رقم ہے؟ وغیرہ۔ اس پہ اڑھائی فیصد زکوٰۃ ادا کر دی جاتی ہے۔ بچت پہ لاگو ہونے والی اس زکوٰۃ کی رمضان میں ادائیگی کرنا کوئی دینی مطالبہ نہیں ہے۔ یہ زکوٰۃ بعد میں بھی مستحقین کو دی جاسکتی ہے۔ البتہ حساب اسی تاریخ سے کر لینا چاہیے جو مقرر کی ہے۔

باقی زکوٰۃ کی جو دوسری قسم ہے وہ پیداوار پہ زکوٰۃ ہے۔ پیداوار جب بھی ہو گی چاہے چھ مہینے بعد کسی کی فصل کی پیدا وارہو، تین مہینے بعد کوئی انڈسٹریل پروڈکشن ہو، ہر روز یا ہر مہینے پیداوار حاصل ہو رہی ہو یا کسی کو تنخواہ مل رہی  ہو، ان سب صورتوں میں جس وقت پیداوار حاصل ہو گی  تو اس پر پانچ فیصد زکوٰۃ فرض ہے بشرطیکہ محنت اور سرمایہ دونوں آپ کا ہو۔ اگر صرف  محنت  جیسے ملازمت کی صورت میں یا صرف سرمایہ ہے  جیسے کہیں انویسٹمنٹ کی جائے تو پھر زکوٰۃ کی شرح دس فیصد ہوگی۔سونا بطور گفٹ آئے یا عیدی جمع ہو تو سال کے آخرتک  اگر یہ رقم باقی رہے تو اس پراڑھائی فی صد زکوٰۃ ہوگی بشرطیکہ یہ رقم نصاب سے زیادہ ہو۔مثلاً اگر اس سال نصاب کی رقم اڑتیس ہزار ہے اور آپ کے پاس اتنی یا اس سے زیادہ رقم موجود ہو تو آپ اس پر زکوٰۃ ادا کریں گی۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...