بھارت کو مذاکرات کی ایک اور دعوت

بھارت کو مذاکرات کی ایک اور دعوت

وزیراعظم عمران خان نے ایک بار پھر بھارت کو مذاکرات کی دعوت دی ہے، یہ دعوت ایک خط کے ذریعے دی گئی ہے جو انہوں نے دوسری مرتبہ وزارتِ عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر نریندر مودی کو لکھا ہے، خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل چاہتا ہے، آگے بڑھنے کے لئے مشترکہ طور پر خطے میں امن و استحکام ضروری ہے، پاکستان خطے میں امن چاہتا ہے، مذاکرات کے ذریعے ہی دونوں ممالک کے عوام کو غربت، افلاس اور دوسرے مسائل کے گرداب سے نکالا جا سکتا ہے، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو خط لکھا ہے، جس میں مذاکرات کی دعوت کے اعادے کے ساتھ ساتھ خطے میں امن کی بات کی گئی ہے۔

مودی کی جماعت جب سے انتخابات میں دوبارہ کامیاب ہوئی ہے،وزیراعظم عمران خان کا یہ اُن سے تیسرا رابط ہے، پہلی بار انہوں نے مودی کو کامیابی پر اُس وقت ٹویٹ کیا جب23مئی کو انتخابی نتائج آئے اور مودی کی جماعت نے زبردست کامیابی حاصل کی،دوسری بار انہوں نے مودی کو اُس وقت مبارک باد دی جب وہ حلف اٹھا رہے تھے، اب جبکہ وہ منصب بھی سنبھال چکے تو وزیراعظم عمران خان نے اُنہیں سہ بارہ مبارکباد کے ساتھ ساتھ مذاکرات شروع کرنے کی ایک بار پھر دعوت دے ڈالی ہے۔ شاہ محمود قریشی کو تو جہاں بھی موقع ملتا ہے، وہ مذاکرات کی خواہش کا اعادہ کر دیتے ہیں، خط وغیرہ نہ لکھیں تو بذریعہ میڈیا ہی دعوت دے ڈالیں گے، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ یہ ساری دعوتیں اب تک مسترد ہو چکی ہیں اور ایک بھی دعوت کا جواب مثبت نہیں آیا، یہاں تک کہ بھارت نے کہہ دیا ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر بھی دونوں ممالک کے وزرائے اعظم کی ملاقات کا کوئی امکان نہیں۔

اس سے پہلے نریندر مودی نے وزارتِ عظمیٰ کی حلف برداری کی تقریب میں سارک تنظیم کے تمام رُکن ممالک کو شرکت کی دعوت دی اور جواب میں ان ممالک کے سربراہِ مملکت شریک ہوئے یا سربراہِ حکومت، پاکستان واحد ملک تھا جس کو شرکت کی دعوت ہی نہیں دی گئی،اس کے باوجود پاکستان یکطرفہ طور پر مذاکرات کی دعوت پہ دعوت دیتا چلا آ رہا ہے، ہمارے خیال میں دعوتیں تو کافی دی جا چکی ہیں کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ اب اِس سلسلے کو مزید دراز نہ کیا جائے۔ اگر بھارت مذاکرات کرنا چاہے گا یا کسی وقت ان کی ضرورت محسوس کرے گا تو ان ہی دعوتوں میں سے کسی ایک کا جواب دے کر بات آگے بڑھا لے گا، اب یہ سلسلہ یہاں رُک جائے تو اچھا ہے، کیونکہ بار بار کی دعوت سے کوئی اچھا تاثر نہیں اُبھرتا،لیکن لگتا ہے ہمارے دفتر خارجہ کو دعوتیں دینے کا شوق ہے جواب مثبت آئے یا نہ آئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ خطے کو امن کی ضرورت ہے اور مسائل کے حل کے لئے بھی یہ بنیادی ضرورت ہے۔اگر کشیدگی خطے کے افق پر سایہ فگن رہے گی اور وسائل اس کشیدگی کی نذر ہوتے رہیں گے تو خوشحالی کا خواب تو کجا، بنیادی انسانی مسائل بھی حل نہ ہوں گے، بھارت کے جنگی تیاریوں کے جنون اور اسلحے کی خریداری کے خبط ہی کا نتیجہ ہے کہ ممبئی جیسے عالمی شہرت یافتہ روشنیوں کے شہر میں لاکھوں لوگ فٹ پاتھوں پر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں ان میں وہ بھی ہیں، جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ہی جنم لیا اور پوری زندگی انہی پر بتا دی،ان کے لئے ان فٹ پاتھوں سے باہر زندگی کا کوئی تصور نہیں، فراٹے بھرتی لگژری گاڑیاں اُن کے قریب سے خاک اُڑاتی گزر جاتی ہیں، کسی کو اُن کی زندگی بدلنے کا خیال تک نہیں آتا، اور بھارتی حکومتیں تو اُن لوگوں کو مسلسل یہ پیغام دیتی رہتی ہیں کہ انہیں مالی وسائل جنگ کی بھٹی میں جھونکنے سے فرصت ملے گی تو وہ اِس جانب متوجہ ہوں گے،لیکن اسلحے کے لئے بھارتی نیتاؤں کی بھوک ختم ہو تو وہ کسی دوسری جانب دیکھیں۔

بھارت کے لئے یہ بہترین موقع ہے کہ پاکستان کا وزیراعظم اسے بار بار مذاکرات کی دعوت دیتا ہے اور کشمیر سمیت تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے حل کرنے پر آمادہ ہے،ضرورت تو اِس بات کی تھی کہ بھارت آگے بڑھ کر اس موقع سے فائدہ اٹھاتا، اور امن کے اس ہاتھ کو جھٹکنے کی بجائے مضبوطی سے تھام لیتا، لیکن معلوم نہیں اس کے ارادے کیا ہیں کیا پاکستان میں مودی کے کسی دوسرے یار کا انتظار ہے؟ پاکستان نے تو تعلقات کی بہتری کے لئے بہت سے اقدامات اٹھائے ہیں۔ کرتارپور راہداری کھولنے کے لئے پہل کاری بھی ایک ایسا ہی تاریخی قدم ہے، اس سلسلے میں تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں اور تعمیراتی کام بھی قریب الاختتام ہے،لیکن لگتا ہے خیر سگالی کا یہ یک طرفہ مظاہرہ بھی تعلقات کی بہتری کے لئے بھارت کو آمادہ نہیں کر سکا، عین ممکن ہے وہاں کے کچھ لوگ پاکستان کی بار بار کی دعوتوں کو کمزوری پر محمول کر رہے ہوں، اسی لئے ہمارے خیال میں اب یہ سلسلہ موقوف کرکے بھارتی جواب کا انتظار کرنا چاہئے۔ تاریخ میں ترلے منتوں سے مذاکرات اول تو کبھی ہوئے نہیں، ہو جائیں تو بے نتیجہ رہتے ہیں، نتیجہ نکل آئے تو پائیدار نہیں ہوتا۔

مودی ے اپنی پوری انتخابی مہم میں پاکستان کی مخالفت پر زور رکھا، کشیدگی کو انتہا پر پہنچایا یہاں تک کہ پلوامہ واقعہ کی بنیاد پر پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالاکوٹ پر فضائی حملہ بھی کر دیا اور بھارتی میڈیا نے بھارتی حکومت کے حوالے سے دعویٰ بھی کردیا کہ اس ہوائی حملے میں ”350دہشت گرد“ ہلاک کردیئے گئے، حالانکہ اگلے ہی روز جو اخباری نمائندے موقع پر گئے انہیں چند درخت تو گرے ہوئے ضرور ملے لیکن 350دہشت گردوں کی باقیات کا دور دور تک کوئی نام نشان نہ تھا، حالانکہ جہاں 350انسانی لاشیں گری ہوں وہ دور تک اپنا نشان چھوڑتی ہیں۔ خون اور اعضا بھی بکھرے ہوئے ملتے ہیں لیکن ایسا کچھ وہاں نہ تھا، بعد میں ایک ایک کرکے بھارتی رہنما تسلیم کرنے لگے کہ اس ہوائی حملے میں ہلاکتوں کا حکومت نے تو کوئی دعویٰ نہیں کیا تھا یہ سب بھارتی میڈیا کی کہانیاں تھیں۔ ایک تردید پاکستان میں دو دن تک گرفتار رہنے والے بھارئی پائلٹ ابھی نندن نے بھی کی ہے جنہوں نے اپنے ملک کے میڈیا اور اخبارات کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ہلاکتوں کے بارے میں درست رپورٹنگ نہیں کی۔

مودی نے انتخابی مہم میں جو وار ہسٹریا پیدا کیا تھا اس کا نشہ تو اترتے اترتے ہی اترے گا کیونکہ اس کی وجہ ہی سے انہیں انتخابی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس لئے وہ فوری طور پر مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے تو انہیں پاکستان دشمنی کی بنیاد پر الیکشن جتوانے والے سمجھیں گے کہ مودی نے سارا ڈرامہ الیکشن جیتنے کے لئے رچایا تھا۔ اب کامیابی حاصل کرتے ہی مذاکرات شروع کردیئے ہیں اس لئے ہمارا خیال ہے وہ ابھی ”ساز گار وقت“ کا انتظار کریں گے۔ تب تک پاکستان کو بھی دعوتوں پر وقت ضائع کرنے کی بجائے اپنی خارجہ حکمت عملیوں کے نقائص دور کرنے کی ضرورت ہے۔ مذاکرات تو کسی نہ کسی وقت ہو ہی جائیں گے، اس کے لئے زیادہ بیتابی کی ضرورت نہیں ہے۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم اپنا گھر بھی درست کریں اور بیرونی دوستوں کے ساتھ بھی اگر کہیں رخنے ہیں تو انہیں پاٹنے کی کوشش کریں۔

مزید : رائے /اداریہ