ڈاکٹر انور سجاد:تم چلے گئے تو زمانے نے بہت یاد کیا

ڈاکٹر انور سجاد:تم چلے گئے تو زمانے نے بہت یاد کیا

ڈاکٹر انور سجاد پکے لاہوری اور اندرون شہر کے پیدائشی تھے، ان کا اندازِ گفتگو اور رہن، سہن بھی اسی انداز کا تھا، ان کو میانی صاحب میں سپردِخاک کر دیا گیا، خبروں کے مطابق ان کی نمازِ جنازہ میں توقع سے کم لوگ تھے، سیاسی حضرات نے بھی کوئی زیادہ توجہ نہیں دی، خود ان کی پہلی، بلکہ پیدائشی سیاسی جماعت پیپلزپارٹی نے بھی سرد مہری کا مظاہرہ کیا، اس جماعت کی طرف سے ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات منور انجم چودھری شریک ہوئے،اور انہی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا تعزیتی بیان بھی جاری کیا۔ڈاکٹر انور سجاد چونی منڈی (جسے اب چونا منڈی کہنے لگے ہیں) کے رہنے والے تھے، ان کے والد دلاور علی شاہ ڈاکٹر تھے اور کلینک بھی چونی منڈی میں کرتے، اپنے زمانے میں اندرون شہر دو ہی ڈاکٹر مشہور ترین تھے، ڈاکٹر دلاور علی شاہ اور ڈاکٹر بہادر علی شاہ جو چوہٹہ مفتی باقر میں کلینک کرتے تھے۔ڈاکٹر دلاور علی شاہ ایک متمول خاندان کے فرد تھے اور ان کا ذاتی مکان ساڑھے تین منزلہ حویلی نما تھا، انہوں نے ڈاکٹر انور سجاد کی ادبی، ثقافتی اور شوبز کی تمام سرگرمیوں اور ان کے زبردست ترقی پسندانہ نظریات کے باوجود ان کو نہ صرف ایم بی بی ایس کرایا، بلکہ برطانیہ سے سپیشلائزیشن بھی کرائی اور پھر اپنے ساتھ کلینک پر بھی بٹھایا۔ڈاکٹر انور سجاد نے اس کے باوجود اپنی ترقی پسندانہ سرگرمیاں جاری رکھیں، گزشتہ دس بارہ برس ان کے کیسے تھے اور کیسے گذرے کچھ معلوم نہیں،وہ کراچی کیسے اور کیوں گئے، جاننے والے خاموش ہیں۔ بہرحال جب کچھ عرصہ قبل وہ لاہور واپس آئے تو خبر میں بتایا گیا کہ علیل ہیں اور ان کی تنخواہ بھی بند کر دی گئی، جس کی وجہ سے وہ علاج معالجے سے بھی مجبور ہیں، کچھ توجہ دلانے سے حکومت نے یہ بحال تو کر دی،لیکن ان کے علاج کی طرف توجہ نہ دی گئی۔ بالآخر وقت آنے پر وہ خالق حقیقی سے جا ملے۔ان کی زندگی کا یہ المیہ ہی کہا جائے گا کہ ان کی غیر حاضری اور علالت کے دوران ان کو بھلا دیا گیا اور جنازہ بھی ان کی شناخت کے مطابق نہیں تھا،تاہم ان کی وفات کے بعد تحریروں کا ایک ”سونامی“ آ گیا ہے، ان کا مفہوم زیادہ تر حضرات کی طرف سے اپنی ذات کا تاثر ہے کہ کچھ حضرات نے ان کی تاریخ پیدائش(1927ء) غلط لکھ دی، حالانکہ وہ1935ء کی پیدائش تھے اور اکثر حضرات کو ان کے خاندانی پس منظر ہی کا علم نہیں۔ بہرحال ڈاکٹر انور سجاد کی ادبی، ثقافتی خدمات اور سرگرمیوں کا بہت ذکر ہو گا، ان کی سیاسی جماعت سے وابستگی بھی بتا دی گئی،لیکن جو قدر اُن کے مرنے اور تدفین کے بعد ہو رہی ہے کاش اُن کی زندگی میں ہو جاتی،وہ پختہ نظریاتی(ترقی پسند) تھے اور کبھی شرمندگی کا اظہار نہیں کیا۔ اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت فرمائے۔

مزید : رائے /اداریہ