کرنل، میجر، کیپٹن، حوالدار:وطن کے جاں نثار

کرنل، میجر، کیپٹن، حوالدار:وطن کے جاں نثار
کرنل، میجر، کیپٹن، حوالدار:وطن کے جاں نثار

  


کون کہتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ختم ہو گئی ہے، جس ملک میں فوج کے چار رینکز سے تعلق رکھنے والے فوجی افسران بیک وقت دہشت گردوں کے حملے سے شہید ہو جائیں،اُس ملک کو اگر کوئی حالت ِ جنگ میں تسلیم نہیں کرتا تو وہ لازمی طور پر بے حس ہے، عقل کا اندھا ہے یا پھر دہشت گردوں کا ساتھی ہے۔

یہ اتفاق نہیں کہ اُسی چیک پوسٹ خڑ کمر کے قریب جہاں کچھ دن پہلے پی ٹی ایم کی طرف سے چوکی پر موجود اہلکاروں پر حملے کی کوشش کی گئی،جس میں محسن داوڑ اور علی وزیر بھی موجود تھے،اُس کے گردو نواح میں دہشت گردوں نے اپنی پناہ گاہیں بنا رکھی ہیں،جہاں سے وہ پاک فوج پر حملہ آور ہوتے ہیں۔

یہ بارودی سرنگ بھی انہی کی بچھائی ہوئی تھی،جسے آرمی کی گاڑی کے گزرتے ہی اڑا دیا گیا۔ اس حملے میں آرمی کے چار مختلف رینکز سے تعلق رکھنے والے افسران شہید ہوئے، جن میں لیفٹیننٹ کرنل محمد راشد، میجر معیز، کیپٹن عارف اور حوالدار ظہیر شامل ہیں۔اس سے یہ چیز بھی واضح ہوتی ہے کہ فوج میں شہادتوں کی تقسیم کسی ایک رینک کے افسروں تک محدود نہیں،بلکہ فوج کا ہر افسر و جوان شہادت کے جذبے سے سرشار دفاع وطن کے لئے اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔اس کا ایک دوسرا پہلو یہ ہے کہ وزیرستان کے علاقے میں حالات سخت کشیدہ ہیں،وہاں صرف جونیئر افسر ہی تعینات نہیں کئے گئے،بلکہ آرمی کے سینئر افسران بھی موجود ہیں تاکہ کسی بڑے معرکے کی صورت میں حملہ آوروں کو منہ توڑ جواب دیا جا سکے۔ اِس حملے کے بعد ثابت ہو گیا ہے کہ وہاں اب باقاعدہ گوریلا جنگ لڑنے والے موجود ہیں، جو طالبان سے بھی زیادہ تربیت یافتہ اور اس جنگ کے ماہر ہیں، جنہیں معلوم ہے کسے کب نشانہ بنانا ہے؟

کیا اس علاقے سے فوجی چوکیاں ختم کی جانی چاہئیں؟…… بالفرض فوجی چوکیاں موجود نہ ہوں، تو کیا اس پورے علاقے میں دہشت گردوں کا دوبارہ راج قائم نہیں ہو جائے گا۔کیا پشتون تحفظ موومنٹ یہی چاہتی ہے۔ ابھی تو چونکہ فوج کی وجہ سے وہاں امن ہے،اِس لئے پی ٹی ایم کی رال ٹپک رہی ہے اور انہیں سب برا ہی برا نظر آ رہا ہے، لیکن اگر فوج وہاں سے چلی جائے تو کیا انہیں اُسی قسم کے حالات کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا، جب اُن کے گلے کاٹے جاتے تھے، اُن کی کھوپڑیوں کو فٹ بال کی طرح ٹھڈے مار کر فضا میں اچھالا جاتا تھا۔ کیا پی ٹی ایم میں اتنی صلاحیت ہے کہ طالبان اور داعش کو وہاں آنے سے روک سکیں یا اُن کا مقصد ہی یہ ہے کہ دہشت گردوں کو وہاں آنے کی دعوت دی جائے،پھر اُن کی آڑ میں اپنے مقاصد پورے کئے جائیں۔بلاول بھٹو زرداری اور مریم نواز شریف فوجی افسروں کی شہادت پر افسوس یا تعزیت کا اظہار تو کرتے ہیں،مگر دہشت گردوں کی مذمت نہیں کرتے۔

کیا سب دیکھ نہیں رہے کہ جب سے محسن داوڑ اور علی وزیر گرفتار ہوئے ہیں، دہشت گردی بڑھ گئی ہے۔ بلوچستان اور وزیرستان میں فوج کے خلاف حملے کس بات کا اشارہ دے رہے ہیں، کیا محسن داورڑ اور علی وزیر کوئی پُرامن سیاسی جدوجہد کر رہے ہیں کہ پشتونوں کے لئے حقوق حاصل کر سکیں۔ اگر یہ پُرامن جدوجہد ہے تو اِن حملوں کے پیچھے کون ہے؟ کیا برے سے برے حالات میں کوئی محبت وطن ذی شعور پاکستانی اپنی فوج پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی حمایت کر سکتا ہے؟ اگر کسی کا خیال ہے کہ پی ٹی ایم کو مذاکرات کے ذریعے راہِ راست پر لایا جا سکتا ہے، تو وہ احمقوں کی جنت میں رہتا ہے۔

کیا پشتون تحفظ موومنٹ کو اِس لئے مذاکرات کی طرف لانا چاہئے کہ اس کے مبینہ حمائتی پاک فوج پر حملے کر رہے ہیں یا اِس لئے کہ وہ شمالی و جنوبی وزیرستان سے فوجی چوکیاں ختم کرانا چاہتی ہے۔ کل کلاں اس نے یہ دعویٰ بھی کر دیا کہ افغانستان کی سرحد کے ساتھ باڑ لگانے کا سلسلہ بند کیا جائے تو کیا ہم اس مطالبے پر بھی مذاکرات کرنا چاہیں گے تاکہ پی ٹی ایم فوجیوں پر حملے روک دے۔

ہم آج بھی حالت ِ جنگ میں ہیں۔ ہمارے حریف بدل گئے ہیں، لیکن دشمن وہی ہیں۔ امریکہ نے طالبان کے بعد اپنے نئے آلہ کار ڈھونڈ لئے ہیں، وائٹ ہاؤس کے سامنے ایسے ہی آزاد پشتونستان کے حق میں مظاہرے نہیں ہو رہے، منظور پشتین کو نیا پٹھو بنا کر امریکہ نے میدان میں اتارا ہے۔

ضرور پڑھیں: ڈالر سستا ہو گیا

مقصد یہ ہے کہ فوجی آپریشنوں کے بعد پاکستانی علاقے سے دہشت گردی کا جو خاتمہ ہوا ہے، اس کے تاثر کو زائل کیا جا سکے، کیونکہ امریکہ افغانستان میں بری طرح ناکام ہوا ہے اور اس کے خبث ِ باطن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال موجود ہے کہ افغانستان میں اس کی ناکامی کا سبب پاکستان اور اس سے بھی بڑھ کر پاکستانی فوج ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ طاقت کے ذریعے ہی نمٹنا ہو گا۔

جو لوگ افغانستان کی مثال دیتے ہیں کہ امریکہ اور افغان حکومت طالبان کے ساتھ مذاکرات کر سکتی ہے تو ہم عسکریت پسند تنظیموں کو مذاکرات میں کیوں انگیج نہیں کر سکتے؟وہ ادھ مغزے اس حقیقت کو بھول جاتے ہیں کہ پاکستان ایک متحد ملک ہے، وہ افغانستان کی طرح آدھا تیتر آدھا بٹیر نہیں، اس کے چپے چپے پر ریاست پاکستان کی عملداری ہے۔ اس کی فوج کے سامنے کسی طاقت کا چراغ نہیں جلتا، جس نے ثابت کیا ہے کہ دہشت گرد چاہے کوئی بھی ہوں، اس کے آپریشنز سب کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ویسے بھی کسی ا ٓزاد ملک میں کسی بھی گروپ کو یہ اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ اسلحہ کے زور پر اپنے مطالبات منوائے،یہاں تو قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے ہی جدوجہد کی جا سکتی ہے۔ کسی سیاسی تنظیم کا یہ وتیرا نہیں ہوتا کہ وہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مڈھ بھیڑ کرے، چوکی کو ہٹانے کی دھمکی دے۔

پی ٹی ایم والے بتائیں کہ انہوں نے محسن داوڑ اور علی وزیر گرفتاری کے خلاف کتنے مظاہرے کئے، اسلام آباد یا کراچی میں کتنے دھرنے دیئے،اس کے برعکس حقیقت یہ ہے کہ اُس کے بعد سے پاک فوج پر حملے بڑھ گئے۔ پچھلے ایک ماہ کے دوران پاک فوج کے دس افسر و جوان اِن حملوں میں شہید ہو چکے ہیں اور35سے زائد زخمی ہیں۔

ان کے پیچھے جو کوئی بھی ہے وہ جلد قانون کی گرفت میں آئے گا،کیونکہ پاکستان کی منظم فوج اور بہترین انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی ایسے شرپسندوں سے نمٹنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، مگر کیا سیاسی طور پر ہماری اشرافیہ اپنے چھوٹے چھوٹے سیاسی مفادات کے لئے اس اہم ایشو پر تقسیم رہے گی؟وزیرستان میں شہید ہونے والے افسروں کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے فوج اگر آپریشن کرتی ہے تو کیا اس پر سیاست چمکائی جائے گی؟ بلوچستان میں بلوچ لبریشن فرنٹ اور خیبرپختونخوا میں پشتون تحفظ موومنٹ کو سیاسی لبادہ پہنا کر اگر اُن کی سرگرمیوں کو نظر انداز کیا گیا تو ملک و قوم کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہو گی۔ یہاں یہ امر قابل ِ ذکر ہے کہ بلوچ عوام اور پشتونوں کی اکثریت پاکستان کے لئے جان چھڑکتی ہے۔

اُن کا جینا مرنا پاکستان کے ساتھ ہے۔ایک حادثاتی واقعہ کے نتیجے میں بننے والی پشتون تحفظ موومنٹ پہلے پہل پاکستان کے شہروں، خصوصاً کراچی میں رہنے والے پشتونوں کے حقوق کی خاطر بنائی گی تھی۔ پھر جب اسے مبینہ طور پر امریکہ نے اُچک لیا تو اس کے مطالبات ہی بدل گئے۔اب اس کا سارا فوکس قبائلی علاقوں سے پاک فوج کو نکلوانا ہے، کیونکہ امریکہ پاک فوج کو تقسیم اور کمزور کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کے سیاست دان اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات کی خاطر دانستہ یا غیر دانستہ امریکی منصوبے کا حصہ بن رہے ہیں،انہیں فوجی افسروں و جوانوں کی شہادتوں سے سبق سیکھنا چاہئے۔ یہ کوئی سیاسی مذاق نہیں ہو رہا، بلکہ قومی سلامتی کا گھمبیر معاملہ ہے، کم از کم اس ایشو پر تو سیاست نہیں ہونی چاہئے۔

مزید : رائے /کالم


loading...