ورلڈکپ: شاہینوں کے اگلے دونوں امتحان سخت!

ورلڈکپ: شاہینوں کے اگلے دونوں امتحان سخت!
ورلڈکپ: شاہینوں کے اگلے دونوں امتحان سخت!

  


سیاست ہو رہی ہے اور ہوتی رہے گی،بلکہ اب تو جہاں کھیل میں جدت ٹیکنالوجی آئی، وہاں سیاست بھی در آئی،خصوصاً بھارت والے انتہا پسندی اور اور ہندوتوا کے فلسفے سے مڑ کر پیچھے نہیں دیکھنا چاہتے، کرکٹ میں گوتم گھمبیر کے بعد اب دھونی نے ٹوپی ڈرامہ شروع کر دیا ہے، اس نے عالمی مقابلے میں ایسے گلوز پہن کر وکٹ کیپنگ کی،جن پر بھارت کی مسلح افواج کا نشان بنا ہوا اور رنگ بھی ویسا تھا، اس پر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے نوٹس لیا تو بھارتی میڈیا نے واویلا شروع کر کے اُلٹا آئی سی سی سے معافی مانگنے کا مطالبہ کر دیا۔

بہرحال کرکٹ کونسل نے دباؤ برداشت نہیں کیا اور بھارتی بورڈ کی یہ اپیل مسترد کر دی کہ دھونی کا ذاتی معاملہ جان کر اجازت دے دی جائے۔بہرحال اسی بھارت کی کرکٹ ٹیم سے ہماری پاکستان کرکٹ ٹیم کا آئندہ اتوار مقابلہ ہو گا اس مقابلے کے لئے ٹکٹ بہت پہلے ہی بِک چکے ہوئے ہیں۔ یوں جہاں ان دونوں ٹیموں کے کھلاڑی دلِ و جان سے زور لگائیں گے وہاں تماشائیوں میں داد کا بھی زبردست مقابلہ ہو گا، ہم تو اپنی ٹیم کی کامیابی کے لئے دُعا گو ہیں۔

اسی مناسبت سے ہم نے بہتر جانا کہ ملکی سیاست کو چھوڑ کر آج عالمی کرکٹ ورلڈکپ کے ان مقابلوں ہی کا ذکر کر لیا جائے،پاکستان کی کرکٹ ٹیم اپنے پہلے ہی میچ میں کالی آندھی (ویسٹ انڈیز) سے بُری طرح ہار گئی۔پوری بیٹنگ فلاپ ہوئی اور 105رنز بنا سکی جو ویسٹ انڈیز نے تین وکٹوں کے نقصان پر پورا کر لیا، سوئے اتفاق یہ تینوں وکٹیں ہمارے محمد عامر کے حصے میں آئیں،ان کی بال میں قدرے سوئنگ بھی نظر آئی اور یوں ایک آؤٹ آف فارم ”خاص باؤلر“ کا حوصلہ بڑھا جس نے بعد میں بھی فائدہ دیا ہے،جہاں تک ویسٹ انڈیز کا تعلق ہے تو ہمیشہ سے اس کا انحصار زیادہ تر اپنی فاسٹ باؤلنگ پر رہا اور چار پانچ تک کھلائے جاتے رہے جن کو بیٹری کہا گیا،اس بار بھی وہ پوری تیاری سے آئے اور ویسٹ انڈین فاسٹ باؤلر بیٹری نے پاکستانی بیٹنگ اکھاڑی، تاہم بعد میں احساس ہوا کہ اپنی غلطیوں سے سیکھو تو مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

ٹیم پہلا میچ ہاری تو تنقید سے لعن طعن تک کے دھانے کھل گئے اور یہ تک کہا گیا کہ ان سے کوئی توقع نہیں، اس سے قبل یہ ٹیم مسلسل دس میچ ہارنے کا ریکارڈ بنا چکی ہوئی تھی۔بہرحال جذبہ جوان تو منزل آسان والی بات ہوئی۔ٹیم نے جان لڑائی اور اگلا میچ اس میزبان ٹیم سے جیت لیا جو ٹورنامنٹ کی فیورٹ اور اس سے پہلے اسی ٹیم کو ٹی20-اور ایک روزہ میچوں کی سیریز ہرا چکی تھی، اس میچ کو ہم نے بڑے غور اور شوق سے دیکھا،عرصہ بعد محسوس ہوا کہ کھلاڑی ذات سے ہٹ کر ٹیم کے لئے کھیل رہے ہیں،بلے بازوں نے شروع سے آخر تک اپنا اپنا حصہ ڈالا اور سینئر حضرات کی یہ تجویز بھی بار آور ثابت ہوئی کہ کپتان سرفراز احمد اوپر کے نمبروں پر کھیلیں۔

بہرحال ٹیل اینڈر کے کوئی بہتر سکور نہ کرنے کے باوجود ٹیم 300پلس کر گئی اور اس کے بعد باری آئی، باؤلرز کی۔اگرچہ محمد عامر کی بدقسمتی کہ جوئے روٹ کا ابتدا ہی میں اس کی باؤلنگ پر سلپ میں کیچ گیا اور بابر اعظم نے گرا دیا اور اس کا نتیجہ جوئے روٹ کی سنچری کی صورت میں نکلا اور اُس نے جوز بٹلر کے ساتھ مل کر شاہینوں کو تگنی کا ناچ نچا دیا، جوز بٹلر بھی تیز سنچری کرنے والے ہیں، تاہم پھر باؤلرز پر قدرت مہربان ہوئی۔

محمد عامر، وہاب ریاض، شاداب خان نے محنت کی اور پھل مل گیا۔ انگلش ٹیم یہ میچ14رنز سے ہار گئی اور شاہینوں کا حوصلہ بلند ہو گیا، اب تنقید کرنے والے داد کے ڈونگرے برسا رہے ہیں۔ کرکٹ ٹیم سری لنکا سے نہ کھیل سکی اور یہ آزمائش نہیں ہو پائی کہ وہی جذبہ سلامت ہے؟ اب مقابلہ پہلے آسٹریلیا اور پھر بھارت سے ہونا ہے۔

ہم نے آسٹریلیا کا ویسٹ انڈیز اور بھارت کا جنوبی افریقہ کے ساتھ میچ بال ٹو بال دیکھا اور احساس ہوا کہ یہ تینوں ٹیمیں (آسٹریلیا+ ویسٹ انڈیز+ بھارت) بہتر کمبی نیشن کے ساتھ آئی ہیں، ویسٹ انڈیز کے پاس اگرچہ بیٹنگ لائن آخری نمبروں میں کمزور ہے،لیکن اس کے پاس فاسٹ باؤلروں کی زبردست پیس بیٹری موجود ہے اور یہ باؤلر مخالف ٹیم کو آؤٹ کرنے کی صلاحیت سے مالا مال ہیں۔

آسٹریلیا کی جیت اور ویسٹ انڈیز کی شکست میں بھی حوصلے، تدبر اور حکمت عملی کا ہاتھ تھا، کہاں آسٹریلیا کے چار بہترین بلے باز ابتدا میں صرف 38رنز کے عوض آؤٹ ہو گئے اور کہاں اس کی مڈل اور ٹیل اینڈر بیٹنگ نے یہ میچ جیت لیا اور ویسٹ انڈیز کو ہرا کر رہے۔یوں احساس ہوا کہ دونوں ٹیمیں پروفیشنل سوچ رکھتی ہیں اور ان سے مقابلہ آسان نہیں۔

دوسری طرف بھارت نے زیادہ تر انحصار اپنے سپن باؤلروں پر کیا اور بیٹنگ میں روہیت شرما بہتر ہو کر سامنے آئے، بھارت نے دو فاسٹ باؤلروں اور دو ریگولر سپن باؤلروں کے ساتھ باقی آل راؤنڈر کھلائے اور جنوبی افریقہ کو شکست دے کر ثابت کیا کہ ان کی حکمت عملی درست اور کھلاڑی فارم میں ہیں۔اب ہمارے شاہینوں کو پہلے12جون کو آسٹریلیا اور پھر16جون کو بھارت سے ٹکرانا ہے۔

ہمیں یقین ہے کہ کوچز اور ٹیم مینجمنٹ نے آسٹریلیا اور بھارت کا کھیل اپنے کھلاڑیوں کو ویڈیو کے ذریعے بار بار دکھایا اور کھلاڑیوں کی خوبیوں اور کمزوریوں کے بارے میں آگاہ کیا ہو گا، اور کھلاڑیوں نے بھی سمجھ لیا ہو گا کہ یہ دونوں میچ ”ڈو آر ڈائی“ کی حیثیت رکھتے ہیں اور اپنی کمزوریوں پر قابو پا کر دوسروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا ہو گا،اللہ کرے باؤلروں کی فارم اور یادہ بہتر اور بلے بازوں کے حوصلے بلند ہو جائیں،ہم کسی کمبی نیشن کے چکر میں نہیں پڑتے اور نہ کسی تبدیلی وغیرہ کے لئے کوئی تجویز دیتے ہیں،ہم تو یہ یقین رکھتے ہیں کہ کھلاڑی اللہ پر توکل،اس کی عبادت سے ہی خود کے حوصلے بلند کریں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...