عید اور بینک کارڈ کا بحران

عید اور بینک کارڈ کا بحران
عید اور بینک کارڈ کا بحران

  


راولپنڈی سے لاہور جاتے ہوئے تاخیر کا شکار ٹرین جب وزیر آباد گزر جانے پہ رفتار تیز کر لے تو پرانے فیشن کے مسافر ضرور کہتے ہیں کہ ”گڈی اپنی لیٹ کڈ رہی اے“۔

لیٹ نکالنے کا مطلب ہے کہ شروع میں سُست رفتاری کے سبب جو وقت ضائع ہوا اب اسپیڈ بڑھا کر اُس کا حساب برابر کر دیا جائے۔ ماہِ رمضان گزر جانے پر ابکے یہ احساس ہوا کہ لیٹ نکالنے کا استعارہ صرف مسافر گاڑیوں تک محدود نہیں بلکہ روزوں کا مہینہ بھوک پیاس کی آزمائش سے دوچار رہنے والے انسان بھی خوراک کے معاملے میں عید الفطر پہ لیٹ نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اکثر حالتوں میں یہ کوشش شعوری نوعیت کی نہیں ہوتی، نہ اِس میں عمر، صنف یا سماجی طبقے کی کوئی قید ہے۔ بس پرہیز گاری کی تیس روزہ ٹریننگ ختم ہوئی اور سب کچھ ایک ہی دن میں ہڑپ کر جانے کی جبلت غالب آ گئی۔

پنجاب کی سماجی تاریخ پہ گہرائی میں جا کر غور کرنے والے دانشور اگر چاہیں تو اِس طرزِ عمل کا تعلق پیٹ سے زیادہ نظروں کی بھوک سے جوڑ سکتے ہیں، جس کا اطلاق خوراک کے علاوہ ہمارے کئی اور رویوں پہ بھی ہوتا ہے۔ خیر، سوال پیٹ کا ہو یا نظروں کی بھوک کا، ذرا سا ماضی میں جائیں تو ہماری نفسیات میں بہت کچھ رمضان کے مہینے سے نہیں، محرومیوں کے طویل تسلسل سے جڑا ہوا ملے گا۔ اِس میں کم زرعی پیداوار سے جنم لینے والی محرومیاں بھی شامل ہیں۔ نوعمری میں سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے ایک خیری میری زمیندار نے، جو میرے دادا کے ہم عمر ہوں گے، میری اِس غلط فہمی کا ازالہ کیا کہ پنجاب کے ’چاہی اضلاع‘ میں نہری نظام سے پہلے بھی آبپاشی آسان تھی۔ ”بیٹا، ہمارے کنووں میں پانی نہیں تھا۔ انگریز کے آنے پر نہریں کھودی گئیں اور پانی کی سطح اوپر آئی“۔

اِس مکالمے کا مفہوم کئی سال بعد اُس وقت سمجھ میں آیا جب لاہور کی ایم ایم عالم روڈ کے ایک فوڈ آؤٹ لیٹ پر عین افطار کے ٹائم پہ نئی اپر مڈل کلاس کی بے تابیاں دیکھ کر مَیں ’غذائی دہشت گردی‘ کی ترکیب وضع کرنے پہ مجبور ہوا تھا۔ اِس پہ باصلاحیت صحافی اور ٹی وی پروڈیوسر ذیشان صدیق بہت محظوظ ہوئے جو مسعود حسن مرحوم کے زیرِ نگرانی پبلسز پاکستان نام کی ایڈورٹائزنگ ایجنسی میں میرے ہمکار تھے۔

ذیشان نے، جو دفتری مقاصد کے لئے دستاویزی مواد کی تحریر و ترتیب کا تجربہ بھی رکھتے ہیں، مجھے اِس منفرد اصطلاح کے جملہ حقوق محفوظ کروا لینے کا مشورہ بھی دیا تھا۔ اُس شام جب ہم روزہ کھولنے میں کا میاب ہوگئے تو پھر دیر تک اُن واقعات پہ ہنستے رہے جب کسی نہ کسی سیمینار، پریس کانفرنس یا بریفنگ میں چائے کی پیالی تک پہنچنے کے لئے سیاستدانوں، دانشوروں یا ’کھاؤ‘ ٹائپ اخبار نویسوں کے مکے کھانے پڑے تھے۔

میرے لئے تازہ عید ’غذائی دہشت گردی‘ کی کارروائیوں کا ایکشن ری پلے ثابت نہیں ہوئی۔ تھوڑی سی بد پرہیزی اگر ہوئی تو وہ میری ’نصف بہتر‘ کی طرف سے، مگر جو کچھ ہوا وہ ہر گز بلا جواز نہیں تھا۔ ایک تو پورے کے پورے روزے اور اُن سے وابستہ (مائینڈ نہ کیجئے) سونے جاگنے کا تھکا دینے والا اوقات نامہ۔ دوسرے اعتکاف کے بہانے ’اے کلاس‘ کی قیدِ تنہائی، اگرچہ ایسی سہولتوں کے ساتھ جو حالیہ روزوں کی حد تک سابق منتخبہ وزیر اعظم کو بھی حاصل نہیں تھیں۔

معتکفہ کے قیام و طعام سے لے کر، جس میں صبح و شام خالی برتن باورچی خانے میں لے جانا بھی شامل تھا، پانی، بجلی اور اے سی کی متواتر سپلائی کو یقینی بنانے میں کون کون سے بے نامی کارکن کا کتنا رول رہا؟ ’یہ گھر کی بات ہے، گھر میں رہے تو اچھا ہے‘ مگر یہ تو سوچیں کہ اعتکاف کا کشٹ کاٹنے سے ایک ماڈرن، ولایت پاس بی بی کی طبیعت پہ بوجھ تو پڑا ہوگا۔

ریکارڈ کے لئے بتاتا چلوں کہ محترمہ نے روحانی خلوت کے تقاضے پورے کرتے ہوئے گرد و پیش کے مومنین اور مومنات سے رابطے کے لئے پرچی سسٹم سے کام لیا۔ مراد ہیں رننگ ہینڈ میں لکھے گئے وہ چھوٹے چھوٹے کاغذ جو بُوٹی کے نام سے امتحانات میں انگریز کے زمانے سے نقل مارنے والے طلبہ و طالبات میں مقبول رہے ہیں۔ ”آج افطار میں سکنجبین ضرور ہونی چاہئیے“۔

”کچھ گرانی محسوس ہو رہی ہے، تندوری روٹی کی بجائے سادہ چاول بھیجئے“۔ تو کیا پیغام رسانی کے لئے ڈیجٹل ٹیکنالوجی سے کام نہ لیا گیا؟ گھریلو علمائے دین کے درمیان اِس موضوع پر اجتہاد کے امکان پہ اختلاف تھا۔ چنانچہ دعاؤں کے فائنل راوئنڈ میں صرف دو ناموں کے لئے ایس ایم ایس کا سہارا لیا گیا: ”آپ کا گریجویٹ شاگرد جو ملازمت نہ ملنے پر پریشان ہے“ اور ”دوست کی وہ بیٹی جس کی شادی میں تاخیر ہو رہی ہے“۔ پھر مفتی منیب آ گئے اور اعتکاف ختم ہو گیا۔

ٹرو سے اگلے دن بیگم کی خراب طبیعت کے اثرات بیان کرنے کے لئے اب مجھے کچھ ایسی مالی چالاکیاں منکشف کرنا ہوں گی جو عام حالات میں صرف ایف بی آر کو بتائی جا سکتی ہیں۔ جیسے یہ کہ مَیں دوہری شہریت کی بدولت پچھلے ڈیڑھ برس سے اولڈ ایج پنشنر کے طور پر ایک بار پھر برطانوی حکومت کے ’پے رول‘ پہ ہوں۔ ہے تو یہ میرا واحد مستقل ذریعہء آمدنی، لیکن ماہانہ رقم اتنی کم ہے کہ انگلستان میں خطِ غربت کی سطح کا نصف۔ دل ہی دل میں سوچ لیا تھا کہ وطنِ عزیز میں غیر ملکی انکم ڈیکلئیر کر تو دی جائے مگر مذکورہ چار پیسے اگر مقامی بینک کے توسط سے وصول کرنے کی کوشش کی تو ہوگا یہی کہ ’دو آرزو میں کٹ گئے، دو انتظار میں‘۔ لہذا اِس کی ضرورت نہیں بلکہ پیسے وہیں رہیں، بس چھوٹا موٹا خرچہ چلانے کے لئے کارڈ استعمال کر لیا۔ بات سیدھی سی ہے، مگر جوش میں نہ آئیے۔ بیوی کی بیماری اور باقی عید الفطر اِسی نکتے سے جڑی ہوئی ہے۔

نکتہ وہی پرانا اور یک سطری کہ بندہء ناچیز کے مسائل ہمیشہ سے امیرانہ ہیں اور وسائل غریبانہ۔ اِس لئے یہ نہ سمجھیں کہ پچھلے تیس سال سے میرا بینک کارڈ کوئی چھوٹا موٹا ماسٹرز یا ویزا کارڈ نہیں، یہ ہے ایمکس یا امریکن ایکسپریس کارڈ جس کا جلوہ دیکھ کر ایک دنیا کانپ جایا کرتی تھی۔ خدا معلوم ضرورت تھی یا نہیں، لیکن نئی صدی شروع ہونے سے دس سال پہلے بی بی سی اردو کے سینئر ترین ساتھی سید یاور عباس نے یہ نعمت مجھ پہ مسلط کردی۔

1942 میں انڈین آرمی میں کمیشن پانے والے میجر یاور کو، جو اگلے برس اپنی سوویں سالگرہ منانے کا ارادہ رکھتے ہیں، ایک نیا کارڈ ممبر متعارف کرانے پر اُس مشروب کی ایک پیٹی انعام میں ملی جسے ہمارے پاکستان میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔یاد رہے کہ یاور صاحب نے آزادی کے بعد بطور میجر پاکستان آرمی چھوڑ کر بی بی سی لندن کا رخ کیا تو وہ دو سال پیشتر اگست کے مہینے میں کراچی میں نتقالِ اقتدار کی تقریب کی فلم بندی کرنے کا منفرد اعزاز حاصل کر چکے تھے۔

کہانی اِس لئے لمبی ہو گئی کہ طے شدہ انتظام کے تحت امریکن ایکسپریس کارڈ کے ذریعے خریدی گئی کسی بھی چیز پہ ادائیگی میرے غیر ملکی بینک اکاؤنٹ سے ہوتی ہے۔

پر، جناب، یہ باتیں ہیں پچھلی صدی کی۔ کارڈ کے قواعد و ضوابط آج بھی وہی ہیں، لیکن امریکہ کی طرح امریکی کارڈ کا حلقہء اثر بھی روز بروز کم ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستان میں جہاں اکثر دکانیں، بڑے بڑے چین اسٹور اور فُوڈ آؤٹ لیٹ نہایت خوشی سے یہ کارڈ قبول کرلیتے تھے، اب اِس کی قبولیت کا دائرہ چند ایک ائر لائینز اور ’ٹاپ آف دی رینج‘ ہوٹلوں تک محدود ہو کر رہ گیا ہے۔ ٹاپ آف دی رینج سے کیا مراد ہے؟ یہ اندازہ یوں لگا لیجیے کہ لاہور کا فلیٹی، راولپنڈی میں فلیش مین اور بیچ لگژری کراچی اِس شمار و قطار میں نہیں۔ سو، جس دن جیب میں پیسے نہ ہوں مَیں غربت کو چھپانے کے لئے پانچ ستاروں والے ہوٹل میں کھانا کھانے پہ مجبور ہو جاتا ہوں۔

عید کی چھٹیوں میں بھی میرے مسائل امیروں والے تھے اور وسائل غریبوں والے۔ چنانچہ بھانجیوں اور بھتیجیوں کی ایک چھوٹی موٹی پلٹن کے لئے ایک بین البر اعظمی ہوٹل میں لنچ کی بکنگ کرالی۔ سب طے تھا کہ گھر سے کتنے بجے نکلا جائے، ملبوسات کس قسم کے ہوں اور کون کِس کی کار میں بیٹھے۔

مَیں ایک دن پہلے جا کر کار پارکنگ کے حالات کا بلامقصد جائزہ بھی لے آیا۔ عید کے علاوہ ایک نفسیاتی خوشی یہ تھی کہ بِل جتنا بھی ہو، ادائیگی لندن کے بینک سے ہے، اِس لئے رقم پاؤنڈوں میں سکڑی سکڑی سی لگے گی۔ بھئی، ناموافق ایکسچینج ریٹ کے باعث یہی کھانا برطانیہ میں کھاتے تو آدھی ماہانہ پنشن خرچ ہو جاتی۔ پر اللہ کو کچھ اَور ہی منظور تھا۔

بیگم صاحبہ نے اعتکاف کی لیٹ نکالنے کے لئے عید کے دن سویاں، شیر خرما، پاسٹا اور فلی منیاں زیادہ مقدار میں لے لیا۔ اگلی طبیعت خراب ہوئی تو اعتکاف والی خاتون کے احترام میں سب نے اصرار کیا کہ فائیو اسٹار لنچ منسوخ کر دیا جائے۔ یوں بیٹھے ہی بیٹھے میرے پاؤنڈوں کی لیٹ بھی نکل گئی۔

مزید : رائے /کالم


loading...