وزیراعظم کرکٹ بورڈ میںسابق کھلاڑیوں کولائیں سعید اجمل

وزیراعظم کرکٹ بورڈ میںسابق کھلاڑیوں کولائیں سعید اجمل

لاہور( سپورٹس رپورٹر)سابق آف سپنر سعید اجمل نے کہاکہ پی سی بی میں بھی مرضی کے لوگ لائے جاتے ہیں،حکومت کہتی ہے کہ برآمدات بڑھائیں گے لیکن کرکٹ کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والوں کو انگلینڈ سے درآمد کیا جا رہا ہے، قومی ٹیم کیلیے گورے کوچز کو ترجیح دی جاتی ہے جو پیسہ کما کر چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کو 3سال کے کنٹریکٹ دیے جاتے ہیں،اگر جلد رخصت کرو تو اپنے واجبات کی ایک پائی نہیں چھوڑتے،اپنے عظیم کرکٹرز جاوید میانداد اور وسیم باری کو ایک ایک ماہ کے معاہدوں پر رکھا گیا، مکی آرتھر اور گرانٹ فلاور میں ایسی کون سی قابلیت ہے جو ماجد خان، آصف اقبال اور جاوید میانداد میں نہیں۔سعید اجمل نے کہا کہ سزا اور جزا کا نظام لائے بغیر کرکٹ تو کیا کوئی نظام بھی نہیں سدھر سکتا،پی سی بی میں بھی مرضی کے لوگ لائے جاتے ہیں،حکومت کہتی ہے کہ برآمدات بڑھائیں گے لیکن کرکٹ کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والوں کو انگلینڈ سے درآمد کیا جا رہا ہے، قومی ٹیم کیلیے گورے کوچز کو ترجیح دی جاتی ہے جو پیسہ کما کر چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کو 3سال کے کنٹریکٹ دیے جاتے ہیں،اگر جلد رخصت کرو تو اپنے واجبات کی ایک پائی نہیں چھوڑتے،اپنے عظیم کرکٹرز جاوید میانداد اور وسیم باری کو ایک ایک ماہ کے معاہدوں پر رکھا گیا، مکی آرتھر اور گرانٹ فلاور میں ایسی کون سی قابلیت ہے جو ماجد خان، آصف اقبال اور جاوید میانداد میں نہیں۔

، پاکستان ٹیم کے ہیڈ کوچ بڑے کھلاڑی ہوتے تو 25 ٹیسٹ تو کھیل جاتے، گرانٹ فلاور اتنے ہی تجربہ کار ہوتے تو اپنی ٹیم کی رینکنگ ہی بہتر بنالیتے۔ایک سوال پر سعید اجمل نے کہا کہ پلاننگ میں خامیوں اور مسائل کے باوجود ہماری دعائیں پاکستان ٹیم کے ساتھ ہیں، گرین شرٹس ناقابل یقین کارکردگی کیلیے مشہور ہیں،دن اچھا ہو تو کسی بھی ٹیم کو ہراسکتے ہیں، ہارنے پر آئیں تو زمبابوے سے بھی ہار جائیں۔انھوں نے کہا کہ ڈپارٹمنٹل کرکٹ سے کھلاڑیوں کا روزگار وابستہ ہے، معاشی تحفظ نہیں ہوگا تو کلب کرکٹ بھی ختم ہوجائے گی۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکیوں کو 3سال کے کنٹریکٹ دیے جاتے ہیں،اگر جلد رخصت کرو تو اپنے واجبات کی ایک پائی نہیں چھوڑتے،اپنے عظیم کرکٹرز جاوید میانداد اور وسیم باری کو ایک ایک ماہ کے معاہدوں پر رکھا گیا۔

مزید : کھیل اور کھلاڑی


loading...