اکثریت ختم‘ اپوزیشن چاہے تو حکومت گرا سکتی ہے‘ نوابزادہ افتخارخان

اکثریت ختم‘ اپوزیشن چاہے تو حکومت گرا سکتی ہے‘ نوابزادہ افتخارخان

 شاہ جمال (نمائندہ پاکستان) اپوزیشن حکومت گرانا نہیں چاہتی اور نہ ملک میں کوئی عدم استحکام چاہتی ہیں الیکٹٹڈ حکومتوں کے دور میں دہشت گردی پر قابو پایا گیا،سیلیکٹڈ حکومت کے دورمیں دہشتگردی پھر سر اٹھا رہی ہے مذاکرات اور افہام و تفہیم کی بات کرنے والوں کو غدار قرار دیا جا رہا ہے۔ان خیالات کا اظہار پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات اور ایم این اے حلقہ این اے 184نوابزادہ افتخار (بقیہ نمبر35صفحہ12پر )

احمد خان نے پیپلز پارٹی شاہ جمال کے راہ نما ملک مجاھد حسین اور ملک اختر حسین ابڑیند کی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کیا انہوں نے کہا کہ اپوزیشن باوجود انتقامی کاروائیوں کے انتہائی سنجیدگی سے آگے بڑھ رہی ہے پیپلز پارٹی آصف علی زرداری اور بلاول بھٹوزرداری کی قیادت میں پارلیمنٹ کو مضبوط اور سپریم بنا نے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے انہوں نے کہا کہ جہاں تک نمبر گیم کا تعلق ہے موجودہ حکومت صرف چار ووٹوں کی اکثریت سے معرضِ وجود میں آئی ہے اختر مینگل کے علیحدگی کے بیان کے بعد ایوان میں اکثریت کھو چکی ہے اگر اپوزیشن چاہے تو حکومت گرا سکتی ہے ہم حکومت گرانا نہیں بلکہ مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔اپوزیشن کی احتجاجی سیاست کے سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ احتجاجی سیاست کر کے ان نااہلوں اور غیر سنجیدہ حکومت کو ختم کر کے کسی قسم کا وبال اپنے سر لینے کے حق میں نہیں انہوں نے مزید کہا کہ وزیرستان کی موجودہ صورتحال پر اپنے لوگوں کے حق میں بیان دینے اور مذاکرات کی بات کر نے پر غدار غدار کے آوازے کسے جاتے ہیں پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ایسی قوتوں کو مزاکرات کی میز پر لائی قومی دھارے میں شامل کر کے ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا ماضی میں ذوالفقار علی بھٹوکی طرف سے بلوچوں کے لیئے عام معافیاں اور آصف علی زرداری کی طرف سے بلوچستان کے لیئے خصوصی پیکیجز اور گوادر سی پورٹ معاہدے چین کے ساتھ دستخط کر کے بلوچ عوام کے لیئے ترقی اور روزگار کے دروازے کھول کر ان کی محرومیوں کا ازالہ کیا جس سے نہ صرف امن وامان ہوا بلکہ پورا بلوچستان ترقی کی راہ پر گامزن ہوا ہے۔

افتخار خان

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...