عالمی کرکٹ کا میلہ جاری اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟شائقین کی بھرپور دلچسپی

عالمی کرکٹ کا میلہ جاری اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا؟شائقین کی بھرپور دلچسپی

بارہویں ورلڈ کپ کا میلہ انگلینڈ کی سر زمین پر زور و شور سے جاری ہے میگا ایونٹ میں شریک ٹیمیں ایک دوسرے کو زیر کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں ورلڈ کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں آج دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان لندن میں کھیلا جائے گا۔ اس سے قبل دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کی ٹیم ٹورنامنٹ میں اپنے دو میچز کھیل چکی ہے اور اب تک ناقابل شکست ہے جبکہ بھارت کی ٹیم نے ایک میچ کھیلا اور اس میں اس نے فتح حاصل کی ہے۔ آسٹریلیا نے پہلے میچ میں افغانستان کی ٹیم کو شکست دی جبکہ دوسرے میچ میں اس نے کالی آندھی کو مات دی تھی۔ بھارتی ٹیم نے اپنے پہلے میچ میں پروٹیز ٹیم کو شکست دیکر میگا ایونٹ کا جاندار آغاز کیا ہے۔ میچ سے قبل دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے کامیابی کے لئے بیانات دیئے ہیں اور توقع کی جارہی ہے کہ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلہ انتہائی سخت اور کانٹے دار ہوگا۔ آسٹریلوی کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر مچل سٹارک نے کہا ہے کہ وہ مکمل طور پر فٹ اور بھرپور فارم میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکی پوری کوشش ہے کہ ہر میچ میں اپنی شاندار کارکردگی کی بدولت ٹیم کی فتوحات میں اہم کردار ادا کرؤں۔ مچل سٹارک نے کہا کہ انکی خواہش ہے کہ چھٹی مرتبہ عالمی ٹائٹل جیت کر ملک و قوم کو تحفہ پیش کرؤں۔ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا اور بھارت کی ٹیموں کے درمیان میگا ایونٹ کا 14 واں میچ آج لندن میں کھیلا جائے گا۔ سٹارک نے کہا کہ میگا ایونٹ کے مسلسل دو میچ جیتنے کے بعد ٹیم کو مورال بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے خلاف میچ بہت اہم ہوگا اور پوری ٹیم کی تمام تر توجہ بھارت کے خلاف میچ پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا بھارت کا شمار دنیائے کرکٹ کی اچھی ٹیموں میں ہوتا ہے انکے خلاف میچ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پوری ٹیم نے بھرپور محنت کی ہے۔ سٹارک نے ٹیم کو خبردار کیا ہے کہ ٹائٹل کے حصول کے لئے پوری ٹیم کو نہ صرف ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیلنا ہوگا بلکہ ہر کھلاڑی کو میچ میں سو فیصد کارکردگی کا مظاہرہ بھی کرنا ہوگا۔ جبکہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سٹار وکٹ کیپر بلے باز مہندرا سنگھ دھونی نے کہا ہے کہ آسٹریلیا کو شکست دیکر میگا ایونٹ میں مسلسل دوسری کامیابی اپنے نام کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں دفاعی چیمپئنز اچھا کھیل پیش کر رہے ہیں تاہم انہوں نے کہا کہ ہماری ٹیم بھی مکمل طور پر فٹ اور بھر پور فارم میں ہے اور کینگروز کے خلاف میچ کیلئے میدان میں اترنے کو بے تاب ہے۔ دھونی نے کہا کہ میگا ایونٹ کے اپنے ابتدائی میچ میں پروٹیز کے خلاف کامیابی ٹیم کی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینگروز ٹیم اچھا کھیل پیش کر رہی ہے۔ دھونی نے کہا کہ اس ٹیم کو کوئی فرق نہیں پڑتا کے حریف کون ہے۔ انہوں نے کہا کہ حریف کوئی بھی ہو میگا ایونٹ کا ہر میچ فائنل سمجھ کر کھیلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی چیمپئن آسٹریلیا کے خلاف پوری قوت کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔ جبکہ پاکستا ن کی ٹیم بھی اس کوششوں میں ہے کہ وہ عمدہ پرفارمنس کا مظاہر ہ کرکے ورلڈ کپ کے سفر میں آگے بڑھے قومی ٹیم نے اب تک تین میچ کھیلے ہیں جن میں سے ایک میچ میں اس کو کامیابی ہوئی انگلینڈ کی ٹیم کو شاندار پرفارمنس کا مظاہرہ کرکے چت کیا جبکہ ایک میچ میں اس کوشکست کا سامنا کرنا پڑا ویسٹ انڈیز سے میچ ہارنے کے باوجود انگلینڈ کے خلاف جس طرح سے پاکستان کی ٹیم نے کم بیک کیا وہ قابل تعریف ہے مگر بدقسمتی سے سری لنکا کے خلاف ہونے والا میچ بارش کی نذر ہوگیا اور دونوں ٹیموں کو ایک ایک پوائنٹس مل گئے پاکستان کے اس وقت تین پوائنٹس ہوگئے ہیں سری لنکا کیخلاف میچ میں بارش کی وجہ سے پاکستان کی ٹیم کو نقصان اٹھانا پڑا کیونکہ اس میچ میں کامیابی حاصل کرکے وہ ٹیبل پوائنٹس پر اوپر آسکتا تھا اور کرکٹ ماہرین کے مطابق اس میچ میں پاکستان نے سری لنکا کو شکست دے ہی دینی تھی کیونکہ انگلینڈ سے میچ جیتنے کے بعد پاکستانی کھلاڑی مکمل فارم میں تھے اور ان کے حوصلے اتنے بلند تھے کہ وہ سری لنکا سے یہ میچ جیت جاتے اس کے علاوہ اب تک ان دونوں ٹیموں کا ورلڈ کپ میں ریکارڈ دیکھا جائے تو اب تک سات مرتبہ یہ دونوں ٹیمیں ایک دوسرے کاورلڈ کپ میں مقابلہ کرچکی ہیں اور ان سات کے سات میچز میں پاکستان کی ٹیم نے سری لنکا کو شکست سے دوچا ر کیا تھا اس طرح سے اس میچ میں کامیابی کے لئے پاکستان کی ٹیم ہی فیورٹ تھی پاکستان کرکٹ ٹیم میچ بارش کی نذ ر ہونے سے پریشانی کا شکار ہے تودوسری طرف شائقین کرکٹ بھی مایوسی کا شکار ہیں اس وقت پوائنٹس ٹیبل پر پاکستان کی ٹیم سری لنکا سے پیچھے ہے پاکستان کی ٹیم نے اب بارہ جون کو آسٹریلیا کیخلاف میچ کھیلنا ہے او ر اس میچ میں پاکستان کو اب ہر صورت کامیابی حاصل کرنا ہوگی پاکستان کی ٹیم نے اس کے بعد بھارت کے مدمقابل آنا ہے اس لئے پاکستان کی ٹیم کوا ب ٹف ٹیموں سے سامنا کرنا پڑے گا اور ان میچز میں پاکستان کی ٹیم کو ہر صورت کامیابی حاصل کرنا ہوگی اسی صورت میں پاکستان کی ٹیم سیمی فائنل میں جانے کے قابل ہوگی آسٹریلیا کے خلاف پاکستانی ٹیم کو اسی جو ش و جذبہ کی ضرورت ہے جس طرح سے اس نے انگلینڈ کے خلاف مظاہر ہ کیا تھا پاکستان کی ٹیم کے لئے اب اپنے ہر میچ میں کامیابی حاصل کرنا ہوگی اور اس کے لئے سخت محنت درکار ہے آسٹریلیا کیخلاف اب تک کا ورلڈ کپ میں ریکارڈ پاکستان کے لئے اتنا اچھا نہیں ہے آسٹریلوی ٹیم کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اپنے اگلے تمام میچز میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے پرعزم ہے اور سری لنکا کے خلاف میچ میں بارش کی وجہ سے ہم ایک کامیابی سے محروم ہوگئے ہیں مگر اس کے باوجودہم دلبرداشتہ نہیں ہیں اور ہم آسٹریلیا کیخلاف کامیابی حاصل کریں گے اور اس کے بعد اپنے دیگر میچز میں بھی کامیابی کے لئے پرعزم ہیں اب دیکھنایہ ہے کہ پاکستان کی ٹیم آسٹریلیا کیخلاف ہونے والے میچ کے لئے کیسی حکمت عملی تیار کرکے میدان میں اترتی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کی ٹیم اس وقت اتنی مضبوط ہے کہ مگر محنت کرے باؤلنگ او ر بیٹنگ کے ساتھ ساتھ فیلڈنگ کے شعبہ میں بھی عمدہ پرفارمنس کا مظاہرہ کرے تو وہ آسٹریلیا کی ٹیم کو شکست دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔جبکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ بولر وہاب ریاض کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے خلاف میچ میں ٹیم نے مثبت کرکٹ کھیلی، مجھے کہا گیا تھا کہ رنز کی فکر نہ کریں، وکٹ لیں۔ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کبھی کنارے لگ کر بھی رنز بن جاتے ہیں، یہ تو گیم کا حصہ ہے، انگلینڈ کیخلاف سب نے پلان پر ٹھیک طرح عمل درآمد کیا جس کی وجہ سے کامیابی ملی۔لیفٹ آرم فاسٹ بولر نے مزید کہا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس نے کافی حوصلہ افزائی کی تھی، ورلڈ کپ جیتنا تو ہر کسی کا ہی خواب ہے، ابھی ٹیم میچ بائی میچ جارہی ہے، پہلے یہ نو میچز اچھے کھیلنے ہیں پھر اگلے دو میچز اچھے کھیل کر ٹائٹل جتنے کی کوشش کریں گے۔وہاب ریاض نے کہا کہ ٹیم کو قوم کی سپورٹ اور دعاں کی ضرورت ہے، جب بھی گرانڈ میں اترتے ہیں، جیتنے کیلئے اترتے ہیں، لیکن ہار جیت کھیل کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ 2017 کے بعد دوبارہ آیا تو یوں لگ رہا تھا کہ ایک بار پھر ڈیبیو ہوگیا ہے، شروع میں بال ریورس سوئنگ نہیں ہورہا تھا۔بھارتی فاسٹ بولر جسپریت سنگھ بھمرا کے حوالے سے وہاب ریاض نے کہا کہ اگر لوگ کہہ رہے ہیں کہ بھمرا بہترین بولر بنے گا تو وہ اس توقع کے پریشر میں بھی ہوگا۔وہاب ریاض نے انگلینڈ کیخلاف میچ میں تین وکٹیں حاصل کی تھیں اور82 رنز بھی دیے تھے۔ وہاب کا کہنا تھا کہ انہیں یہی کہا گیا تھا کہ وکٹ لیں، رنز کی پروا ہ نہ کریں۔انہوں نے کہا کہ میچ میں پاکستان کے تمام بولرز نے وکٹیں لینے کی کوشش کی جبھی کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ وہاب کہتے ہیں کہ اس میچ میں انہوں نے خراب بولنگ نہیں کی کچھ رنز تو کنارے لگ کر بن گئے تھے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر ٹیم میں نہ ہوتے تو کیا کررہے ہوتے تو وہاب نے مسکرا کر کہا کہ ٹی وی پر بیٹھ کر میچ دیکھتا اور ٹیم کیلئے دعا کرتا۔ جبکہ ورلڈ کپ 1992 ء کے فاتح پاکستانی ٹیم کیلئے ایسا لگتا ہے کہ جیسے 27 سال قبل کا ایونٹ پھر سے آگیا ہو۔ ایک تو فارمیٹ بھی تاریخ میں پہلی مرتبہ 1992 ء والا ہے، اوپر سے چند دلچسپ واقعات بھی پاکستان کی تاریخ کو اس ایونٹ کے ساتھ پھر سے جوڑے جارہے ہیں۔ پاکستان اس ورلڈ کپ کا فاتح رہا تھا اور کرکٹ فینز فارمیٹ کی وجہ سے کچھ نہ کچھ مماثلت کی تلاش میں رہتے ہیں۔ایسے میں لگتا ہے کہ جیسے تاریخ خود بھی ان کی مدد کو آگئی ہے۔ اب تک پاکستان نے 3 میچ کھیلے ہیں جو ورلڈ کپ کے 9 میچز کا تہائی سفر ہے۔ اس میں پاکستان کے حوالے سے ویسے ہی نتائج، ترتیب اور پوائنٹس بن رہے ہیں۔ پہلی مماثلت یہ رہی کہ 1992 ء کے ورلڈ کپ دوسرے دن پاکستان نے ویسٹ انڈیز سے میچ کھیلا اور ہار گیا۔ عالمی کپ 2019 ء کے بھی دوسرے ہی دن پاکستان ویسٹ انڈیز سے کھیلا اور شکست سے دوچار ہوگیا۔اسکے بعد پاکستان نے تب ایونٹ کی کمزور ترین ٹیم زمبابوے کو اپنے دوسرے میں ہرایا تو اس مرتبہ ایونٹ کی فیورٹ ترین ٹیم کو دوسرے میچ میں پچھاڑ دیا۔ تیسری حیران کن مماثلت یہ رہی کہ 1992 ء میں پاکستان کا تیسرا میچ بارش کی نذر ہوگیا تھا اور انگلینڈ و پاکستان کو ایک ایک پوائنٹ ملا تھا اور 2019ء کے موجوہ ایونٹ میں بھی پاکستان کا مجموعی طور پر تیسرا میچ ہی بارش کی نذر ہوا اور اسے سری لنکا کیساتھ ایک پوائنٹ ملا۔چوتھی مماثلت یہ ہے کہ 1992 ء میں پاکستان کے 3 میچز کے بعد پوائنٹس ٹیبل پر نیوزی لینڈ 6 پوائنٹس کے ساتھ پہلے نمبر پر تھا اور اب اس ایونٹ میں بھی وہ 4 پوائنٹس کیساتھ پہلی پوزیشن پر موجود ہے۔ اسوقت بھی سری لنکا اور پاکستان کے 3،3 ہی پوائنٹس تھے اوروہ چوتھی وپانچویں پوزیشن پر تھے،اب بھی ان دونوں کے 3،3 پوائنٹس ہیں اور تیسرے و چوتھے نمبر پر موجود ہیں۔دوسری جانب جبکہ افغانستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر محمد شہزاد کو ٹخنے کی انجری نے ورلڈکپ سے آؤٹ کردیا ہے۔افغانستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر محمد شہزاد ٹخنے کی انجری کے باعث ورلڈکپ سے باہر ہوگئے ہیں، ان کی جگہ اکرم علی خیل کو 15 رکنی اسکواڈ کا حصہ بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے۔پاکستان کے خلاف وارم اپ میچ میں محمد شہزاد کو ٹخنے میں تکلیف ہوئی تھی، انجری کے باوجود محمد شہزاد نے سری لنکا اور آسٹریلیا کے خلاف میچوں میں شرکت کی جس سے تکلیف کی شدت میں اضافہ ہوا اور محمد شہزاد کو کرکٹ کے اس عالمی میلے سے باہر ہونا پڑا ہے۔ آسٹریلیا کے خلاف میچ میں وہ کھاتہ نہیں کھول پائے جب کہ سری لنکا کے خلاف صرف 7 رنز بناسکے تھے، شہزاد کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے اکرم علی خیل اب تک صرف دو میچ ہی کھیلنے کا تجربہ رکھتے ہیں۔جبکہ انگلش ایمپائر این گولڈ کا آئندہ ماہ شیڈول آئی سی سی ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ یہ ان کا بطور ایمپائر چوتھا اور آخری ورلڈ کپ ہو گا۔ گولڈ کو 18 ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچز میں انگلش ٹیم کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہے اور وہ 1983ء میں منعقدہ ورلڈ کپ میں انگلش سکواڈ کا حصہ بھی تھے۔ انہوں نے 2002ء میں ای سی بی فرسٹ کلاس ایمپائرز کو جوائن کیا تھا تاہم 2006ء میں انہوں نے انٹرنیشنل ایمپائرنگ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور آئندہ ماہ شیڈول ورلڈ کپ کے ساتھ ہی وہ اپنے 13 سالہ ایمپائرنگ کیریئر کا اختتام کریں گے۔ گولڈ اب تک 74 ٹیسٹ، 135 ون ڈے اور 37 ٹی ٹونٹی انٹرنیشنل میچز میں ایمپائرنگ کے فرائض انجام دے چکے ہیں۔

٭٭٭

مزید : ایڈیشن 1


loading...