خالصتان تحریک سے ریفرنڈم2020ء تک

خالصتان تحریک سے ریفرنڈم2020ء تک
خالصتان تحریک سے ریفرنڈم2020ء تک

  


35برس قبل جون میں سکھوں کے مقدس مقام میں پناہ گزیں مزاحمت کاروں کے خلاف آپریشن بلو سٹار کے نام سے کارروائی کی گئی جس میں 700 فوجی اور بیس ہزار سکھ مارے گئے۔ بھارتی فوج کا یہ آپریشن کامیاب رہا، لیکن اس کے نتیجے میں جنم لینے والی نفرت کا الاؤچار دہائیوں بعد بھی بجھایا نہیں جا سکا۔ سکھوں کے قتل عام نے جنوبی ایشیا کی سیاست، معاشرت، معیشت، مذہب اور عسکریت پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔

1984ء کا سال سکھوں پر قیامت بن کر گزرا۔ انتہا پسند ہندو لیڈر اندرا گاندھی کے حکم پر سکھوں کے مقدس ترین مقام ہری سنگھ گوردوارا (گولڈن ٹیمپل) پر ہزاروں بھارتی فوجیوں نے پوری قوت سے حملہ کیا۔

ٹینکوں اور توپوں کا بھی بھرپور استعمال کیا گیا۔ اس وقت وہاں 100 سے 150 کے قریب مزاحمت کار موجود تھے، لیکن اس آپریشن میں ہزاروں کی تعداد میں آئے بے گناہ سکھ زائرین کو نہایت بے رحمی سے قتل کر دیا گیا۔ صدیوں پرانے اور تاریخی گولڈن ٹیمپل کو تباہ کر دیا گیا اور سکھوں کی مذہبی مقدس ترین عمارت ”اکل تخت“ کو ملیامیٹ کر دیا گیا۔ یہ ایک ایسا نقصان ہے جس کا ازالہ ممکن ہی نہیں۔ یہ زخم ہر سکھ کے دل پر لگا جس کے نتیجے میں اندرا گاندھی کو اس کے دو سکھ باڈی گارڈز نے گولیاں مار کرموت کے گھاٹ اتار دیا۔

اندرا گاندھی کا قتل سکھوں کے لئے ایک اور قیامت لے کر آیا۔ پورے ملک میں سکھ کش فسادات پھوٹ پڑے اور ہندوؤں نے ہزاروں سکھوں کو موت کے گھاٹا اتار دیا۔ اس ظلم کو ہندو حکومت کی مکمل سرکاری سرپرستی حاصل رہی۔ حالت یہ ہوگئی کہ بھارت میں جگہ جگہ نالیاں اور گٹر بند ہوگئے جب کھولے گئے تو وہ سکھوں کی لاشوں سے اٹے پڑے تھے۔

سکھ بنیادی طور پر ایک بہادر قوم ہے۔ اس ظلم عظیم کے بعد وہ دبنے کے بجائے ہندوؤں کے سامنے تن کر کھڑے ہوگئے اور خالصتان کی تحریک نے نیا جنم لیا اور اپنی الگ ریاست بنانے کی کوششیں پہلے سے بھی تیز کر دیں،کینیڈا، امریکا اور یورپ میں آباد سکھوں نے خالصتان کے کرنسی نوٹ بھی جاری کئے۔ وینکوور (کینیڈا) کے سرجن سنگھہ گِل نے تو خالصتان کے پاسپورٹ بھی جاری کردئیے۔ سرجن سنگھہ گِل نے جو نوٹ جاری کئے ان کے ذریعے چندہ بھی جمع کیا گیا۔ ان نوٹوں پر دربار صاحب (گولڈن ٹیمپل) سنت جرنیل سنگھہ بھنڈراں والے، جنرل شو بیگ سنگھہ، بندہ بہادر سنگھہ، جگجیت سنگھہ چوہان، اکالی پھْلا سنگھہ اور دوسرے سکھہ ہیروز کی تصویریں تھیں۔

دنیا میں سبھی کچھ آپس میں اس قدر جڑا ہوا ہے کہ کوئی بھی شدت پسندانہ عمل اس عمل کے مخالفوں کو جنم دے دیتا ہے۔ آج دنیا میں کوئی بھی ریاست ایک برادری کے لوگوں کا ملک نہیں رہی ہے، چنانچہ علیحدگی پسندی کی چاہے کوئی بھی شکل ہو اس کی وجہ سے سبھی خطرے کی زد میں آ جاتے ہیں، لہٰذا بھارتی حکومت کو بھی دوسروں پر الزامات لگانے کی بجائے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ اپنی اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے۔ اگر بھارت یہ سمجھتا ہے کہ دوسروں پر الزام لگانے سے اپنے ہاں جاری شورش کو ختم کر دے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔

ایک عرصہ سے سکھ قوم بھارت کے ساتھ برسرپیکار ہے۔ نئی دہلی سرکار اس تحریک کو دبانے کے لئے کئی محاذوں پر کام کررہا ہے اس نے پنجاب میں کچھ سکھوں کو خریدکی وہاں ایک حکومت قائم کی ہوئی ہے جو حقیقت میں بھارتی کٹھ پتلی ہے اور وہ انہی پالیسیوں کو اپنائے ہوئے ہے جودہلی سرکار کی طرف سے ان کو حکم نامے کی صورت میں ملتے ہیں۔ آج سکھ قوم نہ صرف بین الاقوامی سطح پر، بلکہ پنجاب میں خالصتان قائم کرنے کے لئے جدوجہد کررہی ہے اور ان کی حق خودارادیت کی اس جدوجہد میں بھارت میں مختلف اقلیتیں جو بھارت کے مظالم کا شکار ہیں حمایت کرتی ہیں۔

برطانیہ میں بھی مختلف ممبران پارلیمنٹ بھی اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں حال ہی میں پارلیمنٹ کی ایک بحث میں بھارت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ قید میں موجود تمام سکھوں کو رہائی دے اور جن کو پھانسی کی سزا دی گئی ہے وہ ختم کی جائے، لیکن بھارت پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا وہ طاقت کے نشے میں آج بھی سکھوں اور کشمیریوں پر مظالم ڈھا رہا ہے۔

خالصتان تحریک نے بھارت سے آزادی کے لیے 2020ء میں ریفرنڈم کا بھی اعلان کر رکھا ہے جس کے تحت آئے روز دنیا کے مختلف ممالک میں تقریبات کا انعقاد ہو تا رہتا ہے۔ سکھ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بھارت میں سکھ نوجوانوں کو گرفتار کر کے غائب کیا جا رہا ہے۔ جمہوریت کی آڑ میں ریاستی دہشت گردی زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔بھارت کی اکڑ اور غرور بہت جلد خاک میں مل جائے گا، اب خالصتان تحریک آزادی کو کوئی روک نہیں سکتا۔سکھ فار جسٹس کی جانب سے گزشتہ روز پنجاب ریفرنڈم 2020 ء کو کامیاب بنانے کے لیئے نیویارک میں ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کی جس میں امریکہ بھر سے سکھوں کی ایک بڑی تعداد نے بھرپور شرکت کی۔

مقررین کااپنے خطاب میں کہنا تھا کہ بھارت بھول جائے کہ وہ پنجاب کو خالصتان بننے سے روک لے گا، پنجاب خالصتان بن کر رہے گا، اگلے سال مئی میں ہونے والا ریفرنڈم تاریخ رقم کریگا۔ ارتاس سنگھ پنوں نے کہا کہ نریندر مودی دنیا کاسب سے بڑا دہشت گرد ہے لیکن افسوس بڑی طاقتوں نے حقائق سے آنکھیں چرا رکھی ہیں۔

بی جے پی اور آر ایس ایس ہندو طالبان ہیں، آج بھارت میں انتہا پسندی تیزی کے ساتھ بڑھ رہی ہے، دنیا دیکھے گی کہ خالصتان اور کشمیر کے علاوہ ناگالینڈ اور دیگر ریاستیں بھی اسی طرح بھارت سے آزاد ہونگی جس طرح سوویت یونین کا شیرازہ بکھرا تھا۔ ڈاکٹر برسیت سنگھ نے کہا کہ بھارتی فورسز نے ڈیڑھ لاکھ سے زائد سکھوں کی نسل کشی کی ہم بھارت سے اپنے ایک ایک جوان کے خون کا بدلہ لینگے۔ ڈاکٹر امرجیت سنگھ نے اپنے جوشیلے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کے لان میں دنیا کے 193 ممالک کے جھنڈے لہرا رہے ہیں لیکن وہ دن دور نہیں جب وہاں خالصتان اور کشمیر کے جھنڈے بھی لہرائے جائیں گے۔

مزید : رائے /کالم


loading...