کشمیریوں کی تحریک انتفادہ

کشمیریوں کی تحریک انتفادہ
کشمیریوں کی تحریک انتفادہ

  


کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین سید علی گیلانی کا کہنا ہے کہ2016ء کے عوامی انتفادہ نے کشمیریوں کی تحریک آزادی میں ایک نئی روح پھونک دی اور یہ تحریک اب ایک فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔ کشمیریوں نے حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ کے نام نہاد ضمنی انتخابات کے مو قع پر جو مثالی بائیکاٹ کیا اس سے بھارت اور مقبوضہ علاقے میں اس کی کٹھ پتلی حکومت سخت بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکے ہیں۔

برہان وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک انتفادہ شروع کرنے کا مقصد بھارت کے غیر قانونی قبضے اور بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں کشمیریوں کے قتل عام کے خلاف بھر پور مزاحمت کرنا ہے۔

سلام ہے کشمیر کے ان غیور مسلمانوں پر کہ وہ اپنا خون پیش کرکے، جوانیاں لٹاکر، بھوک و افلاس کی صعوبتیں جھیل کر بھی ڈٹے ہوئے ہیں۔ وہ نہ تو جھکے ہیں، نہ ہی بکے ہیں۔ اگر ان شہداء کے جنازے اٹھتے ہیں تو وہ بھی پاکستانی پرچم میں لپٹے ہوئے۔

بھارت اس حقیقت کو تسلیم کرے کہ وادی کشمیرمیں موجودہ انتفادہ ایک شعوری تحریک ہے، جس کی جڑیں بہت گہری ہیں اور یہ کسی فرد یا جماعت کی پیدا کرہ تحریک نہیں۔

بھارت اپنی خفیہ ایجنسیوں اورفورسز کے ذریعے حریت قیادت کی کردار کشی کر کے کشمیریوں کو تحریک آزادی سے دور کرنا چاہتا ہے تاہم اسے معلوم ہونا چاہئے کہ کشمیریوں کا مقدمہ ہر لحاظ سے مضبو ط ہے۔ دراصل بھارت کو معلوم ہے کہ جب تک وہ اپنی ہٹ دھرمی چھوڑ کر مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تیار نہیں ہوگا کوئی بھی مخلص کشمیری اسکے بہکاوے میں آکر نام نہاد بات چیت میں شامل نہیں ہوگا۔بھارت کو معلوم ہے کہ کشمیر کی حقیقی قیادت نام نہاد مذاکرات کی پیشکش کو مسترد کر دے گی اسی لئے اس نے ہٹ دھرمی پر مبنی موقف اختیا ر کر رکھا ہے۔

ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کے لئے ریاستی دہشت گردی اور طاقت کا بے جا استعمال کر رہا ہے۔ ہندوستان کبھی بھی کشمیریوں کو حق خودارادیت کے حصول کے لئے کی جانے والی جائز جدوجہد سے نہیں روک سکتا۔مقبوضہ کشمیر میں سرچ آپریشنز کے بہانے معصوم لوگوں کو غیر قانونی طریقے سے گرفتار کیا جاتا ہے پھر ان کاقتل کیا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمشنر کی جانب سے جاری حالیہ رپورٹ بڑے واضح طریقے سے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کو بے نقاب کرتی ہے اور اس رپورٹ میں دو کالے قوانین آرمڈ فوررسز سپیشل پاور ایکٹ اینڈ پبلک سیفٹی ایکٹ کو فوری طور پر منسوخ کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔

ان قوانین کے تحت بھارتی فوج اور نیم فوجی دستوں کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں، یعنی گولیاں چلانے سے سنگین نوعیت کی پامالیوں اور خلاف ورزیوں کے سلسلے میں قانونی کارروائی سے ان کو استثنیٰ حاصل ہے اور اس قانون میں کسی بھی طرح کی ترمیم سے بھارتی حکومت نے دوٹوک الفاظ میں انکار کردیا ہے۔ قابل ِ ذکر ہے کہ گذشتہ اٹھائیس برسوں میں اس قانون کی آڑ میں مقبوضہ کشمیر میں بہت زیادہ خون بہا ہے اور اس کے علاوہ کروڑوں کی جائیداد تباہ کردی گئی ہے۔

مقبوضہ کشمیرمیں کانگرس کے سینئر لیڈر پروفیسر سیف الدین سوز کا کہناہے کہ مقبوضہ علاقے میں رائج کالا قانون آرمڈ فورسز اسپیشل پاورز ایکٹ افسپاء مہلک اور غیر مہذب قانون ہے جسے فوری طورپر منسوخ کیا جانا چاہئے،کیونکہ یہ قانون اول تو ہندوستان کو زیب ہی نہیں دیتا، کیونکہ یہ مہلک اور غیر مہذب قانون ہے دوم اس قانون کو بیشتر مواقع پر غلط طریقے سے استعمال کیا گیا ہے، کیونکہ اس قانون کے تحت فورسز کو قتل عام کی کھلی چھوٹ حاصل ہے اور وہ کسی کو جواب دہ نہیں ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں کی مسلمہ رائے ہے کہ افسپا جیسا کالاقانون بھارت کے جمہوری ملک ہونے کے دعوے پر ایک بدنما داغ ہے۔ اگر مقبوضہ علاقے میں بھارتی فورسز نے آٹھ جولائی کو مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے بعد پر امن مظاہرین پر طاقت کا وحشیانہ استعمال خاص طورپر پیلٹ گن اور براہ راست فائرنگ نہ کی ہوتی تو 56قیمتی جانوں کا زیاں نہ ہوتا اور پانچ ہزار سے زائدکشمیری زخمی اور سینکڑوں عمر بھر کے لئے معذور اور بینائی سے محروم نہ ہوتے۔

لوگوں کو اس بات کی امید تھی کہ اس قانون کے نفاذ سے کشمیری عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں ان کا احساس بھارت کو ہوگا لیکن دہلی کی طرف سے اس بارے میں جو تازہ اعلان کیا گیا ان سے لوگوں کو زبردست مایوسی ہوئی۔ ماضی میں بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں نافذ سخت فوجی قانون کو ہٹانے کے لئے فوج اور خفیہ اداروں پر مشتمل یونیفائڈ ہیڈکوارٹرس کا اہم اجلاس مقبوضہ کشمیر کے اس وقت کے وزیراعلیٰ عمرعبداللہ نے طلب کیا تھا۔

اس اجلاس میں جموں کشمیر کے مختلف خطوں میں تعینات بھارتی فوج کے پانچ کمانڈروں نے افسپا ہٹانے کے فیصلے کی مخالفت کی، لیکن سابق وزیراعلیٰ نے انہیں بتایا کہ بھارت کے وزیرداخلہ نے انہیں ایسے علاقوں سے اس قانون کا نفاذ ختم کرنے کو جائز قراردیا ہے جہاں تشدد کی سطح کم ہوگئی ہے اور فوج کا کردار باقی نہیں رہا ہے۔

مودی حکومت چاہے جتنے بھی مظالم ڈھا لے، کشمیریوں کی آزادی کی جدوجہد کو کچلا نہیں جا سکتا۔ کشمیری عوام اپنے حق خود ارادیت کی جدوجہد کر رہے ہیں اور مقبوضہ کشمیر میں ہندوستان کی غاصب فوج کے جاری مظالم بھی ان کی جدوجہد آزادی کو روک نہیں سکتے۔ کشمیری شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور ان شاء اللہ ضرور رنگ لائیں گی۔

مزید : رائے /کالم


loading...