فردوس عاشق اعوان کا رانا ثناء اللہ  کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

فردوس عاشق اعوان کا رانا ثناء اللہ  کو 2 ارب روپے ہرجانے کا نوٹس

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم کی معاون خصوصی اطلاعات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے رکن قومی اسمبلی رانا ثناء اللہ کی جانب سے ’الزام‘ لگانے پر 2ارب روپے ہرجانے کا قانونی نوٹس ارسال کردیا۔قانونی نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ تردید اور معافی اس انداز میں نشر اور شائع کروائی جائے جس طرح سے جھوٹے الزامات کو نشر اور شائع کیا گیا۔معاون خصوصی کے وکیل نے قانونی نوٹس میں کہا رانا ثناء اللہ کو مطلع کیا جاتاہے کہ ان الزامات کی تردید کریں اور معافی مانگیں۔قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ معافی کے ساتھ 2 ارب روپے ہرجانہ بھی ادا کریں۔نوٹس میں مطالبہ کیا گیا کہ جھوٹی خبر پر معافی، اس کی تردید اور ہرجانہ 14 دن کے اندر ادا کیا جائے۔قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ اگر یہ دونوں اقدام نہ کیے گئے تو ہتک عزت ایکٹ 2002 کی شق 8 کے تحت ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کیوکلا قانونی چارہ جوئی کا حق رکھتے ہیں۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ ہرجانے کا نوٹس 26 مئی کو معاون خصوصی اطلاعات کے حوالے سے ’بے بنیاد اور جھوٹے بیانات‘ پر بجھوایا گیا۔نوٹس میں کہا گیا کہ فردوس عاشق اعوان دنیا بھر میں ایک قابل اور ایماندار سیاستدان کے طور پر جانی جاتی ہیں اور 10 برس تک قومی اسمبلی اور 5 مختلف وزارتوں میں وزیر کے عہدے پر فائز رہیں۔لیگل نوٹس میں موقف اختیار کیا گیا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی بطور معاون خصوصی اطلاعات اہم ذمہ داریاں ہیں۔وکیل معاون خصوصی نے نوٹس میں کہا کہ ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کا تعلق انتہائی معزز گھرانے سے ہے اور رانا ثناء اللہ کی میڈیا سے گفتگو میں موکلہ پر بے بنیاد اور جھوٹے الزامات لگائے گئے۔قانونی نوٹس میں کہا گیا کہ جھوٹے الزامات کی وجہ سے موکلہ کی دل آزاری ہوئی، شہرت کو نقصان اورساکھ مجروح ہوئی ہے۔

ہرجانہ نوٹس

مزید : صفحہ اول


loading...