حکومت بڑے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ٹیکس چوروں کیخلاف شکنجہ تیار

  حکومت بڑے معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام ٹیکس چوروں کیخلاف شکنجہ تیار

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) قومی اقتصادی سروے کل بروز پیر جاری کیا جائے گا۔ رواں مالی سال میں کوئی معاشی ہدف حاصل نہ ہو سکا ۔ دنیا نیوز کے مطابق رواں سال صنعتی ترقی کا ہدف 7.6 فیصد رکھا گیا تھا۔ لائیو سٹاک کے شعبہ میں 3.8 فیصد ہدف سے زیادہ ترقی ہوئی۔ دیگرفصلوں میں شرح نمو 3.5 فیصد کے بجائے 1.9 فیصد رہی۔دستاویز کے مطابق زرعی شعبے کی ترقی 3.3 فیصدکے بجائے 0.8 فیصد رہی۔ رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح 3.3 فیصد رہی۔ صنعتی ترقی کی شرح 1.4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔دستاویزات کے مطابق پیداواری شعبے کی شرح نمو کا ہدف 7.8 فیصد رکھا گیا تھا۔ ماہی گیری میں شرح نمو 1.8 فیصد کے ہدف سے ایک فیصد کم رہی۔ جنگلات میں شرح نمو 8.5 فیصد کے بجائے 6.5 فیصد رہی۔دریں اثنامشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ کا کہنا ہے کہ آئندہ بجٹ غریب دشمن نہیں ہو گا۔ آئندہ بجٹ معیشت دوست ہو گا۔ غریبوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے۔ن کا کہنا تھا کہ ٹیکس آمدن بڑھانے کے لیے ہرممکن اقدام کریں گے، غریبوں پر ٹیکسوں اور مہنگائی کا بوجھ نہیں پڑنے دیں گے۔ نئے بجٹ میں روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں کفایت شعاری سے خرچے بچائیں گے، خسارہ کم کرنے کے لیے غیر ضروری اخراجات کم کریں گے، معیشت غیر ضروری اخراجات کی متحمل نہیں ہوسکتی۔وزارت خزانہ کے ترجمان نے بتایا ہے کہ مشیرخزانہ اور اقتصادی ٹیم نے بجٹ جائزہ مکمل کر لیا ہے اور مختلف شعبوں کے لئے فنڈز اور بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دے دی گئی ہے۔اس حوالے سے ترجمان وزارت خزانہ کا کہنا تھا کہ ایسے منصوبوں کوترجیح دی جائے گی جس سے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ مضبوط پالیسیوں سے پائیدار ترقی اور شہریوں کے بہتر مستقبل کو یقینی بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں غریبوں کے تحفط، مالیاتی ڈسپلن اور بیرونی سیکٹرمنیجمنٹ پرتوجہ مرکوزہوگی۔ وزارت خزانہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ معاشرے کے پسماندہ طبقے اورغریبوں کے تحفظ سے متعلق اقدامات آئندہ مالی سال کے بجٹ کا حصہ ہوں گے۔دوسری جانب ٹیکس جمع کرنے کے لیےپاکستان تحریک انصاف کی جانب سے کی جانے والی محنت کامیاب ہوتی نظر آنے لگی ہے جس کی وجہ ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد میں اضافہ ہے۔ تفصیلات کے مطابق اب تک 19 لاکھ 31 ہزار سے زیادہ افراد نے ریٹرنز جمع کروا دئیے ہیں۔ اضافی ٹیکس سے بچنے، کاریں اور مہنگی پراپرٹی کی خریداری کے لیے ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد بڑھنے لگی۔سال 2018ئ کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 19 لاکھ 31 ہزارسے تجاوز کرگئی، یعنی گذشتہ سال کے مقابلے میں فائلرز کی تعداد میں تقریباً 2 لاکھ افراد کا اضافہ ہوگیا۔ 2017ئ کے دوران 17 لاکھ 33 ہزار افراد نے ٹیکس ریٹرن فائل کئے تھے۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) حکام پ±را±مید ہیں کہ 30 جون تک گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 20 لاکھ سے بڑھ جائے گی۔ ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ بینک اکاو¿نٹس کے معاملے پر اسٹیٹ بینک نے رسائی سے انکار نہیں کیا بلکہ کمرشل بینکوں سے براہ راست معلومات لینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔جیونیوز سے بات کرتے ہوئے ایف بی آرکے حکام نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک کے خط سے ابہام دور ہو گیا ہے اور اب کمرشل بینکس سے ٹیکس نیٹ میں اضافے کی غرض سے تما م معلومات لینے کے احکامات جاری کیے جاسکیں گے۔ایف بی آر نے مزید بتایاکہ 5 لاکھ سے اکاو¿نٹس میں موجود رقم والے اکاو¿نٹس کی تفصیلات مانگی ہیں جب کہ بینکس کو ودہولڈنگ ٹیکس کی تفصیلات بھی جمع کروانے کے احکامات دیے گئے ہیں۔ایف بی آر کا کہنا ہے کہ معلومات خفیہ رکھی جائیں گی اور کسی کو تنگ کرنے کے بجائے سہولت فراہم کی جائے گی۔رواں ماہ جون اور آئندہ ماہ جولائی میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ اسٹیٹ بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق 8 ماہ میں مہنگائی کی شرح 2.7 فیصد بڑھ گئی ہے اور مہنگائی میں آئندہ دنوں میں اضافے کی شرح ساڑھے چھ فیصد سے ساڑھے سات فیصد رہنے کی توقع ہے۔مرکزی بینک کے مطابق معاشی تنگی کے اثرات بڑے پیمانے پر صنعتی تنزلی کا سبب بن رہے ہیں، معاشی سست روی میں اضافہ ہو رہا ہے جبکہ لاگت اور طلب کا دباﺅ مہنگائی میں اضافے کا سبب بن رہا ہے جس پر حکومت کو قابو پانے کی ضرورت ہے۔اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق مہنگائی میں اضافے کا رجحان برقرار ہے اور مالیاتی خسارے کی سطح بھی بلند ہوگی

اقتصادی سروے

اسلام آباد(آئی این پی)حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس چوروں کے خلاف بھرپور ایکشن کی تیاری کرلی۔ ایف بی آر نے بڑے ٹیکس چوروں کا ڈیٹا اکھٹا کرنا شروع کر دیا۔ایک نجی ٹی وی نے دستاویزات کے مطابق بتایا ہے کہ اگر اکانٹ میں ایک سال تک 5 لاکھ روپے پڑے رہے، 2400 سی سی گاڑی خریدی، 2 کنال کے گھر میں رہ رہے ہیں یا سال میں تین دفعہ بیرون ملک دورے کیے تو بچنا مشکل ہو جائے گا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے مراسلے میں کہا گیا ہے کہ 5 لاکھ روپے کے بینک اکاونٹس ہولڈرز کی تفصیلات طلب کی جائیں، 5 لاکھ اکانٹ میں ہونے کے باجود اگر ٹیکس گوشوارہ جمع نہیں تو ایکشن ہوگا۔ایف بی آر نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں سے بھی انڈسٹریل اور کمرشل صارفین کا ڈیٹا طلب کرلیا گیا ہے جبکہ نادرا اور ایف آئی اے بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کا ڈیٹا فراہم کریں گے۔

ٹیکس چور

مزید : صفحہ اول


loading...