خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ 285ارب روپے خرچ ہوتا ہے، زرعی ماہرین

خوردنی تیل کی درآمد پر سالانہ 285ارب روپے خرچ ہوتا ہے، زرعی ماہرین

لاہور(نیوز رپورٹر) پنجاب میں کسان پیکج کے تحت 50 ہزار ایکڑ رقبہ پر کینولہ جبکہ 2 لاکھ ایکڑ رقبہ پر سورج مکھی کی کاشت کا ہدف حاصل کیا گیا۔زرعی ماہرین نے کہا کہ بڑھتی ہوئی ملکی آبادی کی وجہ سے خوردنی تیل کی ضروریات کو پورا کرنا ایک چیلنج ہے۔محکمہ زراعت پنجاب کے ذرائع کے مطابق پاکستان زرعی ملک ہونے کے باوجود ہر سال خوردنی تیل کی درآمد پر تقریباً 285 ارب روپے کا قیمتی زرمبادلہ خرچ کرتا ہے۔اس وقت ہم اپنی ضروریات کا صرف 14 فیصد خوردنی تیل خود پیدا کرتے ہیں جبکہ 86 فیصد ہمیں درآمد کرنا پڑتا ہے۔قومی خبر ایجنسی کو دستیاب اعدادوشمار کے مطابق سورج مکھی کی کاشت کیلئے کل ہدف کا تقریباً90فیصد یعنی 1لاکھ78ہزار ایکڑ صرف جنوبی پنجاب کے تین ڈویژنز کیلئے مقرر کیا گیا تھا۔ خادم پنجاب کسان پیکیج کے تحت تیلدار اجناس(سورج مکھی اور کینولہ) کی کاشت پر بذریعہ واؤچرز 5 ہزار روپے فی ایکڑ سبسڈی فراہم کی گئی۔ رجسٹرڈ کسانوں کوسورج مکھی کی کاشت پر 10 ایکڑ تک سبسڈی فراہم کی گئی۔

مزید : کامرس


loading...