تجارتی جنگ میں نایاب دھاتیں چین کا بڑا ہتھیار ،امریکی ہائی ٹیک انڈسٹری بند ہوسکتی ہے 

تجارتی جنگ میں نایاب دھاتیں چین کا بڑا ہتھیار ،امریکی ہائی ٹیک انڈسٹری بند ...

واشنگٹن(این این آئی)امریکی صدر ٹرمپ کی طرف سے شروع کردہ امریکا کی چین کے ساتھ تجارتی جنگ وسیع تر ہوتی جا رہی ہے، جس میں اب نایاب زمینی دھاتیں بھی ایک کلیدی ہتھیار بنتی جا رہی ہیں اور اس جنگ کے اقتصادی نتائج امریکا کے لیے تباہ کن ہو سکتے ہیں۔نایاب زمینی دھات نئیوڈِم کا مرکب نئیوڈِم آکسائیڈ جس سے کسی بھی مقناطیس کو بہت طاقت ور بنایا جا سکتا ہے،میڈیارپورٹس کے مطابق کیمیائی طور پر جو مادے نایاب زمینی دھاتیں کہلاتے ہیں، وہ دراصل اتنے نایاب بھی نہیں ہیں، جنتے سننے میں لگتے ہیں۔ اگر آپ کسی بھی اسمارٹ فون کے بارے میں سوچیں، اپنے ہیڈ فونز پہنیں یا کسی الیکٹرانک آلے کی بیٹری کی بات کریں، تو آپ دراصل نایاب زمینی دھاتوں کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہی دھاتیں ان سب مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتی ہیں۔نایاب زمینی دھاتیں کہلانے والے مادوں کی کل 17 اقسام ہیں، جن میں نیﺅڈِم، لَینتھن اور سَیر جیسے کیمیائی مادے شامل ہیں اور اہم بات یہ ہے کہ یہ سب دھاتیں ہائی ٹیکنالوجی انڈسٹری کے لیے ناگزیر ہیں۔ یہ بات چینی حکمرانوں کو بھی پتہ ہے اور وہ اسے اپنے لیے بڑی آسانی سے امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ میں ترپ کے پتے کے طور پر استعمال کر سکتے ہیں۔چینی کمیونسٹ پارٹی واشنگٹن کے ساتھ اپنی تجارتی جنگ میں اپنے موقف کے اظہار میں ایک اہم جملے کا استعمال کرنا نہ بھولی۔ یہ جملہ تھاکہ پھر نہ کہنا ہم نے تمہیں خبردار نہیں کیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ چینی حکومت یا کمیونسٹ پارٹی نے جب بھی یہ جملہ استعمال کیا ہے، اس کے بعد کوئی نہ کوئی بہت بڑا تاریخی واقعہ ضرور رونما ہوا ہے۔امریکی وزیر تجارت وِلبر رَوس کے بقول امریکا کے لیے مجموعی طور پر 35 دھاتیں اور خام زمینی مادے ایسے ہیں، جنہیں وہ اپنی اقتصادی اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی فیصلہ کن تصور کرتا ہے۔ اس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ ان میں وہ 17 نایاب زمینی دھاتیں بھی شامل ہیں، جو امریکی کمپنیاں زیادہ تر چین سے درآمد کرتی ہیں۔ چین کو اس شعبے میں تقریبا عالمگیر اجارہ داری حاصل ہے۔کئی ماہرین کے بقول امریکا جن کیمیائی مادوں کو اپنی اقتصادی اور قومی سلامتی کے لیے فیصلہ کن اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے، ان میں سے تقریبا نصف اگر نایاب زمینی دھاتیں ہیں، تو واشنگٹن کے لیے اس سے بھی زیادہ پریشانی کی بات یہ ہے کہ امریکا اپنے ہاں ان دھاتوں کا 80 فیصد تک حصہ درآمد کرتا ہے۔ مزید یہ کہ ان میں سے 14 نایاب زمینی مادے تو امریکا صرف اور صرف چین سے درآمد کرتا ہے۔نایاب زمینی دھاتوں کے بارے میں یورپی ممالک کی صورت حال یہ ہے کہ وہ بھی اپنے ہاں یہ انتہائی ناگزیر صنعتی دھاتیں درآمد کرتے ہیں اور تقریبا صرف چین سے ہی۔ اس طرح اس جنگ میں یورپ بھی امریکا کی کوئی مدد نہیں کر سکے گا۔یورپ ایسا کر بھی کیسے سکتا ہے؟ پوری دنیا میں نایاب زمینی دھاتوں کے قدرتی ذخائر کا ایک تہائی سے زیادہ تو صرف چین میں ہی پایا جاتا ہے۔ باقی ممالک جہاں یہ ذخائر پائے جاتے ہیں، زیادہ تر اس ٹیکنالوجی سے بھی محروم ہیں، جس کی مدد سے ان دھاتوں کو صاف کر کے قابل استعمال بنایا جا سکتا ہے۔

مزید : عالمی منظر


loading...