معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،بجٹ سے فارغ ہوتے ہی شہباز شریف کو جواب دینا ہوگا :معاون خصوصی برائے احتساب

معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،بجٹ سے فارغ ہوتے ہی شہباز شریف کو جواب ...
معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں،بجٹ سے فارغ ہوتے ہی شہباز شریف کو جواب دینا ہوگا :معاون خصوصی برائے احتساب

  


اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر نے کہاہے کہ ملکی معاشی صورتحال کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے، ڈیڑھ لاکھ سے زائد اکائونٹس کے اعداد و شمار 26 ملکوں سے لے لیے گئے ہیں، گزشتہ دنوں برطانیہ  کے ساتھ خصوصی معاہدہ ہوا ہے  ،معاہدے کے تحت منی لانڈرنگ سے متعلق معلومات  کا تبادلہ کیا جا سکے، گا اثاثہ جات سکیم بزنس کیمونٹی کا دیرینہ  مطالبہ تھا،بجٹ سیشن سے فارغ ہوتے ہی شہباز شریف کو سوالوں کے جواب دینا ہوں گے، ان کیلئے مناسب ہی ہوگا کہ وہ سوالوں کے جواب دیں۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں فردوس عاشق اعوان کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہزاد اکبر نے کہاہے کہ ایمنسٹی سکیم کے تحت تمام متعلقہ افراد کو 30 جون تک ایک موقع فراہم کیاجا رہا ہے، اس کو سنہری موقع سمجھا جائے ،30 جون کے بعد تاریخ نہیں بڑھائی جائے گی، حکومت کے پاس تفصیلات موجود ہیں، 30 جون کے بعد کارروائی  ہو گی، سکیم کے تحت سرکاری عہدیدار اس سے استفادہ نہیں کر سکتے، 1985ء کے بعد سے سرکاری عہدہ رکھنے والوں پر سکیم کا اطلاق نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانیوں کے 12ارب ڈالر کے اثاثو ں کا پتہ چلا ہے ، ڈیڑھ لاکھ سے زائد اکاونٹس کے اعدادوشمار 26 ملکوں سے لے لیے گئے ہیں، گزشتہ دنوں برطانیہ کیساتھ خصوصی معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت منی لانڈرنگ سے متعلق معلومات کا تبادلہ کیا جا ئے گا۔ 

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف واپس آگئے ہیں، اچھا ہوتا کہ صاحبزادے اور داماد کو بھی ساتھ لے آتے، کیا شہباز شریف نے لندن میں سلمان شہباز سے پوچھا منظور پاپڑ والا کون ہے؟محبوب علی ،غلام سرور،قدیر کون ہے جو لاکھوں ڈالر ٹی ٹی کی صورت میں بھجواتے رہے؟ کون لوگ ہیں جو شریف فیملی کو لاکھوں ڈالر ٹی ٹی کے ذریعے بھجواتے رہے؟ شریف خاندان کے داماد علی عمران بھی مفرور ہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بھی سوالوں کا جواب لے کر آئے ہوں۔ان کا کہنا تھا کہ بجٹ سیشن سے فارغ ہو کر شہباز شریف کو سوالوں کے جواب دینا ہوں گے، مناسب ہوگا وہ ان سوالوں کے جواب دیں۔بیرسٹر  شہزاد اکبر نے کہا کہ 12 ارب ڈالر کا کالا دھن معلوم کر لیا گیا ہے ٹیکیشن سے متعلق مقدمات پر بھی پیشرفت  ہو رہی ہے ایف آئی اے اور ایف بی آر نے ملک سے باہر چھپائے گئے اثاثوں  کی تفصیلات  اکٹھی کی ہیں

مزید : قومی /اہم خبریں


loading...