وہ وقت جب میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ان کے درمیان کشتی کروا کر حل کیا جاتا تھا

وہ وقت جب میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ان کے درمیان کشتی کروا کر حل کیا جاتا تھا
وہ وقت جب میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ان کے درمیان کشتی کروا کر حل کیا جاتا تھا

  

برلن(مانیٹرنگ ڈیسک) آج میاں بیوی کے مابین جھگڑے کا تصفیہ کیسے ہوتا ہے سبھی جانتے ہیں، لیکن آپ یہ سن کر دنگ رہ جائیں گے کہ قرون وسطیٰ میں یورپ میں میاں بیوی کے جھگڑے کا تصفیہ ان دونوں کے درمیان کشتی کروا کر کیا جاتا تھا۔ ویب سائٹ fscclub.com کے مطابق قرون وسطیٰ میں جرمنی سمیت دیگر یورپی ممالک میں جب کسی میاں بیوی کے درمیان کوئی تنازعہ اٹھتا تو سب سے پہلے انہیں گواہ پیش کرنے کو کہا جاتا۔ اگر دونوں کوئی گواہ پیش نہ کرپاتے تو ملزم فریق کو غلطی یا جرم کا اعتراف کرنے کو کہا جاتا۔ اگر وہ اعتراف بھی نہ کرتا تو پھر تیسری صورت یہ ہوتی کہ ان دونوں کے درمیان کشتی کروائی جاتی اور جو کشتی جیت جاتا اسے سچا قرار دے کر اس کے حق میں فیصلہ سنا دیا جاتا۔

رپورٹ کے مطابق انصاف کا یہ فارمولا صرف میاں بیوی تک ہی محدود نہیں تھا، بلکہ عام لوگوں میں بھی گواہوں کی عدم موجودگی اور مجرم کے اعتراف جرم نہ کرنے پر مدعی اور ملزم کے درمیان کشتی کروائی جاتی تھی۔ یورپ میں یہ روایت کسی نہ کسی حد تک 15ویں صدی عیسوی تک جاری رہی، تاہم اس کے بعد یہ متروک ہو گئی۔ یہ روایت بطور خاص جرمنی میں زیادہ مقبول تھی اور وہاں لگ بھگ ہر جگہ اسی پر عمل کیا جاتا تھا۔ مختلف جگہوں پر کھدائی کے دوران اس دور کی دیواروں پر بنی ایسی تصاویر بھی ملی ہیں جن میں میاں بیوی اور دیگر لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کشتی کرتے دکھایا گیا ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس