اداروں کا بجٹ کٹوتی کا فیصلہ فلاحی ریاست کی جانب اہم اقدام ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اداروں کا بجٹ کٹوتی کا فیصلہ فلاحی ریاست کی جانب اہم اقدام ،ڈاکٹر ثانیہ نشتر

اسلام آباد(صباح نیوز) احساس پروگرام کی چیئرپرسن ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا ہے کہ اداروں کی جانب سے بجٹ کٹوتی کا فیصلہ فلاحی ریاست کی جانب اہم اقدام ہے ۔اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ثانیہ نشتر نے کہا کہ ایک سروے کے مطابق ملک کے 2.5فیصد افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں ، معذور افراد میں سماعت سے محروم ، نابینا اور دیگر شامل ہیں ، معذور افراد کیلئے احساس پروگرام کے تحت انصاف کارڈ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔نادرا کے تحت رجسٹرڈ معذور افراد کو سہولیات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ احساس پروگرام کے تحت نابینا افراد کو معاون چھڑی اور ٹانگوں سے معذور افراد کو وہیل چیئر اور دیگر معاون آلات فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ قانون کے مطابق معذور افراد کیلئے حکومتی ملازمتوں میں 2فیصد کوٹہ مختص ہے مگر اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔وزیراعظم نے اس کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ اس پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔ نیا پاکستان ہاﺅسنگ سکیم میں بھی معذور افراد کیلئے 2فیصد کوٹہ بھی مختص کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تحفظ پروگرام کا اجراءرواں برس اگست میں کردیا جائے گا ملک بھر کے پسماندہ اضلاع میں معذور افراد کیلئے مصنوعی اعضاءبنانے کے سنٹر بنائے جائیں گے ۔ انہوں نے کہاکہ بیروزگار افراد کے کاروبار کیلئے قرض فراہمی کی نئی سکیم لارہے ہیں ۔ ہائیر ایجوکیشن کمیشن اور کفالت پروگرام کے اشتراک سے غریب طلباءکیلئے نئی انڈر گریجویٹ سکیم لائی جارہی ہے جس کے ذریعے انڈر گریجویٹ طالب علموں کی فیس ادا کی جائے گی ۔ ہاسٹل کا خرچہ برداشت کیا جائے گا اور ان کو وظیفے دئیے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر تک سماجی تحفظ پروگرام کے تحت ایک کروڑ افراد کو مفت علاج کی سہولت دیں گے۔ احساس پروگرام میں دیہاڑی دار مزدور کے احساس کا اہم عزم شامل ہے ایسے مزدوروں کی رجسٹریشن کا عمل شروع کردیا گیا ہے رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کے بعد ایسے مزدوروں کی مالی معاونت کا آغاز کیا جائے گا جبکہ بزرگ شہریوں کی ماہانہ پنشن 6500 روپے کردی گئی۔انہوں نے مزید کہا کہ خواجہ سراﺅں کے سماجی تحفظ کیلئے بھی خصوصی اقدامات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ احساس پروگرام کے تحت مستحقین کی مالی معاونت میں شفافیت کو یقینی بنایا جائے گا۔

ڈاکٹر ثانیہ نشتر

مزید : پشاورصفحہ آخر


loading...