حج نہیں ہوگا، مقامی حضرات فریضہ ادا کریں گے؟

حج نہیں ہوگا، مقامی حضرات فریضہ ادا کریں گے؟

  

انڈونیشیا کے بعد بھارت نے بھی اپنے ملک سے حج کے خواہش مند عازمین کو نہ بھیجنے کا فیصلہ اور اعلان کر دیا ہے۔ پاکستان کے عازمین بھی مایوس ہیں اور اب تک چھ سو درخواست دہندہ بنکوں سے اپنی رقوم بھی حاصل کر چکے ہیں۔ ہمارے نمائندہ خصوصی کی اطلاع کے مطابق اس سال فریضہ حج کی معمول کے مطابق ادائیگی ممکن نہیں ہوگی، سعودی حکومت اب اس امر پر غور کررہی ہے کہ مقامی افراد کی ایک منتخبہ تعداد کو حج کی اجازت دی جائے۔ حج ایک دینی رکن ہے اور سالانہ اجتماع بہت بڑا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان ہر سال یہ فریضہ ادا کرتے ہیں۔ ان ممالک میں انڈونیشیا، پاکستان، بھارت، ترکی اور ملائیشیا سرفہرست ہیں جبکہ برصغیر سے بنگلہ دیش سے بھی بھاری تعداد جاتی ہے۔ اس میں ہر سال اضافہ ہوتا ہے، گزشتہ سے پیوستہ برس حاجیوں کی تعداد 20لاکھ تک پہنچ گئی تھی، گزشتہ برس اور بڑھی اور اس مرتبہ اس میں مزید اضافہ ہونا تھا، تاہم فروری میں ووہان(چین) سے شروع ہونے والے کورونا وائرس نے دنیا کے دیگر ممالک کی طرح سعودی عرب کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا اور حکومت نے حرمین شریفین سمیت تمام مساجد ہی بند کر دی تھیں، خانہ کعبہ اور مسجد نبویؐ میں محافظ اور خدمت گار نمازیں ادا کرتے رہے۔ اب مسجد نبویؐ اور دیگر مساجد کو سخت قواعد کے تحت عبادت کے لئے کھولا گیا تو حج کی بھی توقع پیدا ہوئی، تاہم کورونا کی وبا اب تک ختم نہیں ہوئی اس لئے خبر کے مطابق سعودی حکومت جلد ہی مقامی طور پر حج کا فیصلہ کرے گی۔ یوں باہر سے کوئی عازم نہ جا سکے گا، پاکستان میں سرکاری اور نجی شعبہ باہمی طور پر حجاج کرام کو بھیجتے ہیں، اس مرتبہ سرکاری طور پر درخواستیں وصول ہو کر قرعہ اندازی بھی مکمل ہو چکی تھی، اسی طرح نجی ٹریول کمپنیوں کی طرف سے بھی بکنگ ہو گئی تھی۔ روایت اور کاروباری نوعیت کے مطابق وزارت حج اور حج آپریٹرز نے عمارتیں، بسیں اور ہوائی سفر کے لئے ہوائی کمپنیوں کے ساتھ حجاج کی آمد و رفت کے معاہدے بھی کر لئے تھے۔ کورونا نے عمرہ کی ادائیگی منسوخ کرائی تو اب حج بھی نہیں ہوگا، یوں ایک نیا معاشی بحران اس شکل میں سامنے آئے گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -