پاکستان ٹاپو ٹاپ جا رہا ہے

پاکستان ٹاپو ٹاپ جا رہا ہے
پاکستان ٹاپو ٹاپ جا رہا ہے

  

پاکستان میں ٹرک ڈرائیور عام طور پر رات کو سفر کرتے ہیں۔ اور بڑے بڑے لمبے روٹ پر سامان لیکر جاتے ہیں۔ اکثر ٹرک کے اندر ایک تربیت یافتہ ڈرائیور ہوتا ہے اور ایک یا دو مددگار(helper) ہوتے ہیں۔ یہ جو فالتو مددگار ہوتے ہیں ان کا کام ٹرک اور ڈرائیور کی دیکھ بھال ہوتا ہے اور ڈرائیور کو استاد جی کہتے ہیں۔ استاد جی ان مددگاروں کو ڈرائیونگ میں بھی ہاتھ سیدھا کرواتے ہیں۔ اور بوقت ضرورت ان کو ڈرائیونگ سیٹ پر بٹھا کر خود آرام بھی کر لیتے ہیں۔ ان مددگاروں میں جو استاد جی کی زیادہ خدمت اور تابع فرمانی کرتا ہے اس کو استاد جی جلدی سیکھا دیتے ہیں۔

ایک ایسا ہی ٹرک ایک رات لمبے سفر پر تھا۔ کسی مقام پر ایک ریسٹورنٹ میں رک کر ڈرائیور اور اس کے شاگرد نے کھانا کھایا اور اس کے بعد چرس کے کش لگائے۔ استاد جی نے اپنے شاگرد کو کہا کہ ذرا گاڑی کو ایک نظر چیک کر لو اور اس کے بعد تم ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھو اور میں کچھ دیر آرام کر لوں گا۔ شاگرد نے دیکھا کہ ایک ٹائر میں ہوا کم تھی یا پنکچر تھا تو اس نے جیک لگا کر ٹائر تبدیل کیا اور چرس کے کش لگاتے ہی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گیئر لگا لیا اور پاوں ریس کے پیڈل پر رکھ دیا۔ جب دو گھنٹے گزر گئے ڈرائیور کی آنکھ کھلی تو استاد جی نے پوچھا کدھر پہنچے ہیں؟ شاگرد بولا استاد یہ تو پتا نہیں کہ کہاں پہنچے ہیں لیکن میں دو گھنٹے سے ٹاپو ٹاپ جا رہا ہوں۔ میں نے اسپیڈ کے پیڈل پر پاوں دبا کر رکھا ہوا ہے۔ ڈرائیور نے باہر دیکھا ایک ریسٹورنٹ ہے اور ان کا ایک بندہ باہر پھر رہا تھا ڈرائیور نے پوچھا بھائی یہ کونسی جگہ ہے۔ تو اس نے جواب دیا یہ وہی جگہ ہے جہاں سے آپ لوگوں نے کھانا کھایا تھا اور ہم سمجھے کہ آپ کا ٹرک خراب ہو گیا ہے کیونکہ آپ کھڑے ٹرک کو زوردار ریس دے رہے تھے اور ٹرک کا دھواں ہمارے پورے ریسٹورنٹ میں بھر گیا ہے۔ تب جا کر ڈرائیور نے دیکھا کہ ٹرک کے نیچے جیک لگا ہوا ہے اور شاگرد ادھر ہی کھڑے ٹرک کو گیئر لگاتا رہا اور ریس دبا کر اپنی طرف سے ٹاپو ٹاپ چلتا رہا۔

ہمارے ملک کا حساب بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ ہم 73 برس سے ملک کو ٹاپو ٹاپ چلا رہے ہیں۔ لیکن ابھی تک وہی کے وہی ہیں۔ پاکستان کے ڈرائیور دیکھتے رہتے ہیں کہ کونسا مددگار یا شاگرد زیادہ تابع فرمان ہے اسے کچھ دیر کے لیے پاکستان کا اسٹیرنگ پکڑا دیتے ہیں اور وہ ٹاپو ٹاپ ٹرک چلا دیتا ہے

لیکن یہاں ایک اور بڑا مسئلہ ہے کہ پاکستانی ٹرک کے نائیک(مالک) یا ڈرائیور ایسے ہیں جن کو خود بھی ٹرک چلانا نہیں آتا یا یوں سمجھ لیں کہ ان کی تربیت گولی چلانے کی ہے ٹرک چلانے کی نہیں، لہذا انہوں نے ٹرک کو ہمیشہ کے لیے جیک پر چڑھا کر کھڑا کیا ہوا ہے اور کبھی خود ٹاپو ٹاپ ہو جاتے ہیں اور کبھی اپنے نوکروں کے حوالے کر کے خود کچھ دیر آرام فرما لیتے ہیں۔ اور جن کے حوالے ٹرک کی ڈرائیونگ سیٹ کرتے ہیں پہلے تو انہوں نے بھی چرس کا کش لگایا ہوتا ہے اور سمجھتے ہیں کہ اس وقت ہم ہی سب سے زیادہ تیز رفتاری سے ٹرک چلا سکتے ہیں۔ لیکن کچھ ہی عرصے بعد جب یہ جان جاتے ہیں کہ ہمارا ٹرک تو سڑک کی بجائے جیک پر کھڑا ہے اور یہ جیک ہمارا ہے نہ ٹرک، پھر ان کو بھی یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سیٹ ہمارے لیے مستقل نہیں ہے نائیک جب چاہیں گے ہمیں ٹرک سے باہر پھینک دیں گے، کیونکہ یہ ٹرک ہمارا نہیں ہے لہذا اس ٹرک کے پرزے نکال کر بیرون ملک بھیج دیتے ہیں تاکہ مشکل وقت میں اپنی روزی روٹی کا انتظام ہو سکے اور اپنی نسلوں کا مستقبل محفوظ ہو سکے۔

اس طرح یہ پاکستانی ٹرک 73 برس سے جیک کے اوپر کھڑا ہی ٹاپو ٹاپ رہتا ہے۔ اور باہر دھوئیں کے بادل بناتا رہتا ہے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ ہم بڑی تیزی سے ترقی کا سفر طے کر رہے ہیں۔ لیکن جب اگلا ڈرائیور بدلتا ہے تو وہ بتاتا ہے کہ نہ صرف ہم وہی کے وہی کھڑے ہیں (پاکستان نازک دور سے گزر رہا ہے) بلکہ اس ٹرک کو ناکارہ کر دیا گیا ہے۔ لہذا اب ہم پہلے اس کو مرمت کریں گے اور پھر دنیا کی دوڑ میں شامل کریں گے۔ کبھی کبھار کوئی سنتھیا جیسی مہمان سواری عارضی ڈرائیور پر یہ الزام بھی لگا دیتی ہے کہ اس ٹرک میں بیٹھے یہ چرسی مرد خواتین کی بے حرمتی بھی کر دیتے ہیں۔

اب اگر اس ٹرک کو حقیقی مالکوں کے حوالے کر دیا جائے اور ان کو یقین دلا دیا جائے کہ اب ٹرک بھی تمہارا ہے اور سڑکیں بھی آپ کی، اب عوام کو بھی چاہیے کہ وہ باصلاحیت اور تربیت یافتہ ڈرائیوروں کو منتخب کریں جو اسٹیرنگ کے ساتھ ساتھ اس ٹرک کی دیکھ بھال کا ہنر بھی جانتے ہوں تاکہ اس کو اپنی اصلی حالت میں لاکر روڈ پر چڑھایا جا سکے۔ تو پھر اس ٹرک کا ٹاپو ٹاپ بھی دیکھ لینا۔

مزید :

رائے -کالم -