سوشل میڈیا اور میمرز کی ذمہ داریاں

سوشل میڈیا اور میمرز کی ذمہ داریاں
سوشل میڈیا اور میمرز کی ذمہ داریاں

  

دنیا عالمگیریت کی طرف جا رہی ہے۔ یعنی وہ ایک چھوٹا سا گھر بنتی جارہی ہے جہاں تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ یہ سب انٹرنیٹ کی ایجاد کے بعد ہی ممکن ہوا۔ اب کسی بھی ملک میں کوئی سانحہ یا واقعہ پیش آتا ہے تو چند ہی منٹ میں پوری دنیا کو پتا چل جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے بعد کئی سوشل میڈیا پلیٹ فارم بنے جن کا مقصد یہی تھا کہ سب لوگ دنیا کے حالات سے آگاہ ہو سکیں۔ یعنی ایک شحص خواہ وہ کسی بھی ملک میں ہو پوری دنیا کے کسی بھی کونے میں پیش آنے والے حالات سے واقف ہو سکتا ہے۔ اب یہاں پر عجیب اور حیرت انگیز واقعات رونما ہونے شروع ہوئے۔ لوگوں نے سوشل میڈیا پر پوسٹیں ڈال کر اپنی نفرتوں کا مظاہرہ شروع کر دیا،مثال کے طور پر ان لوگوں کی پوسٹوں نے نسل پرستی، تشدد اور اسلاموفوبیا کی پہلے سے ہی جلتی آگ میں مزید ایندھن انڈیلنے کا کام کیا۔ پھر سوشل میڈیا پر“میمز”متعارف ہوئی۔ میم دراصل ایک ایسی تصویر یا ویڈیو ہوتی ہے جس کے ساتھ ایک مضحکہ خیز جملہ لکھا جاتا ہے اور پھر وہ لطیفہ بن جاتی ہے۔ شروع میں تو لوگوں نے میمز کو بڑا پسند کیا۔ لوگوں نے میمز کے پیجز اور چینل بھی بنائے جن کی اب کروڑوں میں فالوئنگ ہے۔ مثال کے طور پر انسٹاگرام کا میم پیج جس کا نام ”فنی“ ہے اسی کی صرف ایک کروڑ بہتر لاکھ فالوئنگ ہیں۔ 2016ء میں لفظ میم گوگل پر سب سے زیادہ سرچ کیے جانے والا لفظ تھا۔

اب شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جس کا اپنا کوئی میم پیج نہ ہو۔ میم پیج لوگوں کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ بہت بری طرح گمراہ بھی کر رہے ہیں۔ اس بات کو اچھی طرح سمجھنے کے لئے پہلے آپ سبجیکٹیوٹی (داخلی کیفیت) اور اوبجیکٹیوٹی (معروضی طور پر) کے درمیان کا فرق جانیے۔ سبجیکٹیوٹی سے مراد ہے کسی بھی بات کے دونوں پہلو دیکھنا اور پھر اس سے متعلق اپنا تبصرہ پیش کرنا اور اوبجیکٹیوٹی سے مراد ہے بات کا وہی پہلو دیکھنا جو قابل پیمائش حقائق ہو۔ سبجیکٹیوٹی میں آپ اپنی رائے دیتے ہیں اور اوبجیکٹیوٹی میں آپ سیدھا فیصلہ ہی سنا دیتے ہیں۔ اب اگر ایک پیج کسی ایک ذات یا برادری مثلاً جٹ، گجر، آرائیں، راجپوت یا مغل کے حوالے سے بنا دیا جائے جس میں ساری عوام اسی ذات کی ہو تو اس پیج کو چلانے والے کے ذہن میں کہیں نہ کہیں یہ خیال ہوگا کہ اس پیج کی برادری سب سے بہترین قوم ہے۔ اب جو اس پیج کو فالو کرینگے وہ بھی زیادہ تر اسی ذات کے ہوں گے۔ اب پیج چلانے والا اپنے فالوئرز کو خوش کرنے کے لئے اپنی ذات کی تعریفیں کرے گا اور ساتھ ساتھ باقی ذاتوں کی برائی کرے گا اور لوگ باقاعدہ خوش ہو کر اسے سپورٹ کریں گے اور جس کسی کی ذات کی بے عزتی ہوگی وہ انھیں چھیڑنے کے لئے پوسٹ بھیجیں گے۔ اس سے ایک عام انسان کے ذہن میں بھی اپنی ذات کے حوالے سے غرور آجائے گا۔ اس طرح یہ بات بڑھ کر مختلف مذاہب تک جا پہنچتی ہے جو کہ کسی بھی صورت میں قابل قبول نہیں۔

سوشل میڈیا سب سے زیادہ 18 سال سے 24 سال کے نوجوان استعمال کرتے ہیں اور زیادہ تر میم پیجز بھی انہی کے ہوتے ہیں۔ ایک میم سے دو طبقوں میں لڑائی کرواکر یہ لوگ مشہوری حاصل کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر کبھی سابق وزیر اعظم نواز شریف پر طنز کر کے یہ لوگ موجودہ حکومت کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کبھی وزیر اعظم عمران خان کا مذاق بنا کر اپوزیشن والوں کو خوش کرتے ہیں۔ میم پیجز کے پیچھے ایک لابی ہے جو انہیں چلا رہی ہے۔ کیونکہ جب کوئی ایک بڑا پیج کسی کا مذاق بنا کر اپ لوڈ کرتا ہے تو فوراً ہی دوسرا کیوں کر دیتا ہے؟۔ بعض گروپوں نے غیر ملکی بلاگروں کی خدمات بھی حاصل کر رکھی ہیں۔ حالیہ دنوں میں قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے والی سنتھیا رچی اسی کی زندہ مثال ہے۔ یہ کام باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہی ہوسکتا ہے۔ ٹرینڈ تو اچھی چیز کا بھی چلایا جا سکتا ہے تو بری ہی کو کیوں پکڑا جاتا ہے؟۔ پچھلے دنوں جب عظمیٰ خان کے سکینڈل کی ویڈیو لیک ہوئی تو پورے ملک کے میم پیجز ہاتھ دھو کر اس کے پیچھے لگ گئے۔ اس سے پہلے ٹک ٹاک بنانے والوں پر دھڑا دھڑ میمز بنائیں۔ ان کو چاہیے کہ خوشیاں پھیلائیں نہ کہ نفرت۔ جنوری کے مہینے میں ایران اور امریکہ کے درمیان سخت بحث چل رہی تھی اور آہستہ آہستہ بات عالمی جنگ تک جا رہی تھی۔ ٹوئٹر پر آٹھ دن مسلسل“ورلڈ وار 3”ٹرینڈ بھی کیا تھا پر میم پیجز نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کر کے اس کا بھی مذاق بنایا۔

البرٹ آئن سٹائن نے کہا تھا کہ“مجھے نہیں پتا تیسری جنگ عظیم میں کون کون سے ہتھیار استعمال ہوں گے پر چوتھی جنگ عظیم پتھروں اور ڈنڈوں سے لڑیں گے”۔ یعنی ایک مرتبہ دنیا بربادی کی داستان بن جائے گی۔ اتنی خوفناک پیش گوئی ہونے کے باوجود جنگ عظیم کا نام لے کر مذاق بنانا پرلے درجے کی ا حمقانہ حرکت ہے۔ اس کے بعد فروری میں کورونا نے ووہان کے باہر پھیلنا شروع کیا تب بھی انہوں نے بجائے سب کو سمجھانے کے کہ یہ کتنی مہلک بیماری ہے اور اس سے اپنے آپ کو کیسے بچایا جائے، مذاق بنایا اور آج پاکستان میں کورونا کے کیس ایک لاکھ سے تجاوز کر چکے ہیں۔ کچھ تو یہاں تک کہہ رہے ہیں کہ کورونا ہے ہی نہیں۔ میم پیجز کو چاہئے ذرا سنجیدگی سے کام لیں۔ ہر چیز کا مذاق نہیں بنایا جا سکتا۔ کچھ ایسے پیجز بھی ہیں جو اچھی میمز بنا رہے ہیں۔ ہنسی مذاق زندگی کا لازمی حصہ ہے اور ان دنوں اس کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ لیکن یہ بات ہر صورت مد نظر رکھنی چاہیے کہ معاشرے کے مثبت پہلوؤں کو آگے رکھیں تاکہ معاشرے میں پائی جانے والی مایوسی کا خاتمہ کیا جا سکے۔

مزید :

رائے -کالم -