پاکستان، مافیا کی جنت؟

پاکستان، مافیا کی جنت؟
پاکستان، مافیا کی جنت؟

  

ایسے ہی ایک خوش گمانی تھی کہ کورونا وبا کی وجہ سے معاشرے میں خوف خدا بڑھ جائے گا، انسانیت جاگ جائے گی حرص دولت کم ہو گی، غریبوں، مفلسوں اور مریضوں کا خیال رکھنے والے جاگیں گے مگر کہاں صاحب، یہ ملک ہے ظالم لوگوں کا، جو مجبوری کا فائدہ اٹھانے میں پوری دنیا سے آگے ہیں یہاں مافیاز طاق میں رہتے ہیں کہ کب موقع ملے اور لوگوں کو دبوچ کر ان کے لہو کا آخری قطرہ تک نچوڑ لیں کیا ہم سب یہ مناظر نہیں دیکھ رہے۔ کیا کہیں آپ کو خوفِ خدا کا دور دور تک گزر نظر آتا ہے ایسے دنوں میں بھی کہ جب لوگ کورونا سے مر رہے ہیں کیا ڈاکٹرز، کیا افسران، کیا تاجر کیا سیاستدان سب اس کی نذر ہو رہے ہیں مگر حرصِ دنیا ہے کہ پوری نہیں ہو رہی۔ کسی کو قبر یاد آ رہی ہے اور نہ زندگی کی بے ثباتی پر یقین ہے۔ ذرا غور فرمائیں کہ جو چیز بھی کورونا کے علاج سے تھوڑی بہت منسلک ہو جاتی ہے، اسے کستوری بنا دیا جاتا ہے۔ کورونا مریضوں کو انتہائی نگہداشت میں لگنے والا نجکشن، جو 95 ہزار روپے تھا، آج تین لاکھ روپے کا بھی نہیں مل رہا۔ ایک جڑی بوٹی سنامکی کا ذکر شروع ہوا تو اس کی قیمت کئی سو گنا بڑھا دی گئی۔ اس سے پہلے ماسک، گلوز، سینی ٹائزر حتیٰ کہ ڈیٹول جیسی عام شے بھی مارکیٹ سے گم کر کے اربوں رپوے کمائے گئے۔ یہ کیسے لوگ ہیں کہ جن کا دین ایمان پیسہ بن گیا ہے۔ ایک غریب آدمی تو دو وقت کی روٹی نہیں کھا سکتا وہ کورونا سے بچاؤ کے لئے اتنی مہنگی چیزیں کیسے خریدے گا۔

لوگوں کی موت پر سوداگری کرنے والے کیا انسان کہلانے کے حقدار ہیں، کیا منافع کمانے کے لئے ایسی اشیاء کا سٹاک کر لینا جو کسی کی جان بچا سکتی ہیں کوئی انسانیت کا سودا ہے۔ یہ تو کھلم کھلا سفاکیت اور درندگی ہے، آپ گولی یا خنجر سے لوگوں کو قتل نہیں کر رہے مگر آپ اپنے لالچ میں انہیں صرف مار رہے ہیں۔ پچھلے ایک ہفتے سے ملک بھر میں پٹرول نایاب ہے۔ لوگوں کو یا تو بلیک میں مل رہا ہے یا پھر وہ سواری نہ ہونے کیو جہ سے گھروں میں بیٹھ گئے ہیں حیرت ہے کہ اتنے دن گزر جانے کے باوجود کوئی حکومتی ادارہ متحرک نہیں ہوا اور پٹرول کی اس قلت پر کسی کے خلاف کارروائی بھی نہیں کی گئی۔ دنیا بھر میں پٹرول مفت کے بھاؤ مل رہا ہے لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں یہ پیسوں سے بھی دستیاب نہیں المیہ تو یہ بھی ہے کہ حکومتی شخصیات ہوں یا ان کے ترجمان کوئی بھی اس مسئلے پر بات کرنے کو تیار نہیں، وہ نجی کمپنیاں جو ہر سال اربوں روپے کا منافع کما کر ملک سے باہر لے جاتی ہیں ضد باندھ کے بیٹھی ہیں کہ انہوں نے سستا پٹرول فراہم نہیں کرنا۔ یہی کمپنیاں جب پانچ چھ روپے قیمت بڑھتی تھی تو اپنے اسٹاک پر اربوں روپے اضافی کما لیتی تھیں، اب کم قیمت پر انہیں نقصان کا اندیشہ تھا تو انہوں نے اسٹاک ہی نہیں منگوایا۔ سارے ملک کا پہیہ جام ہو چکا ہے، پی ایس او کے جن پٹرول پمپوں پر پٹرول دستیاب ہے، وہاں لمبی لمبی قطاریں لگی ہوئی ہیں کورونا وائرس کے دنوں میں جب لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے کو کہا جا رہا ہے، پٹرول پمپوں پر یہ رش سارے ایس او پیز کو تہس نہس کر رہا ہے مگر مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک بھی رینگی ہو۔

عوام کو کورونا وبا سے ڈرایا جا رہا ہے، اور دوسری طرف مافیاز کو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے بیس کلو والا آٹے کا تھیلہ آٹھ سو روپے سے گیارہ سو روپے کر دیا گیا ہے۔ سب لسی پی کر سوئے ہوئے ہیں وزیر اعظم عمران خان اکثر کہتے ہیں غریبوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گے حالانکہ انہوں نے غریبوں کا ساتھ دیا ہی کب ہے کل ہی عثمان بزدار نے یہ حکم دیا ہے کہ نان اور روٹی کی قیمت ہرگز نہ بڑھنے دی جائے، حالانکہ انہیں آٹے کی قیمت نہ بڑھنے پر زور دینا چاہئے تھا، کیونکہ آٹا سستا ملے گا تو نان اور روٹی خودبخود سستی ہو جائے گی، پھر نوے فیصد گھروں میں تو آٹا درکار ہوتا ہے، وہاں خواتین خود روٹی پکاتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب فلور ملوں کو سرکاری ریٹ پر گندم سپلائی ہو رہی ہے اور حکومت یہ دعویٰ بھی کرتی ہے کہ پنجاب میں گندم وافر مقدار میں موجود ہے تو پھر آٹے کے نرخوں میں اضافے کا کیا جواز ہے۔ دو چار دکانداروں کی پکڑ دھکڑ کر کے یہ ظاہر کیا جائے گا کہ حکومت مہنگائی مافیا کے سخت خلاف ہے۔ حالانکہ دکاندار مہنگا نہیں کرتے۔ جب پیچھے سے مہنگا ملتا ہے تو آٹا بازار میں بھی مہنگا ہو جاتا ہے۔ حکومت کی رٹ دور دور تک کہیں نظر نہیں آتی۔ مافیاز بے لگام ہیں اور من مانی کا سلسلہ جاری ہے۔ اب اس چینی اسکینڈل کو ہی دیکھیں۔ باقی معاملات رہے تو ایک طرف یہ چینی کس کے لئے اتنی مہنگی بک رہی ہے، جب انکوائری رپورٹ میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ شوگر مافیا کارٹلز بنا کر قیمت بڑھا دیتا ہے، جس کا کوئی جواز نہیں ہوتا تو پھر چینی 90 روپے اور اس سے زیادہ پر کیوں فروخت ہو رہی ہے۔

سب سے پہلا کام تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ شوگر ملز مالکان کو سرکاری ریٹ دے کر اس پر چینی فروخت کرنے کا پابند بنایا جاتا۔ چینی انکوائری کمیشن یہ فیصلہ دے چکا ہے کہ تمام اخراجات کا تعین کر کے چینی کا ریٹ مقرر کیا جائے تو اسے 60 روپے کلو سے زیادہ نہیں بکنا چاہئے مگر اس نکتے کو تو کسی نے دیکھا ہی نہیں، سب یہ ڈھول بجاتے نظر آئے کہ دیکھو انکوائری کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آ گئی، رپورٹ نہ ہوئی قوم کے لئے امرت دھارا ہو گئی۔ اگر اس میں حکومتی شخصیات ملوث نہیں تو سب سے پہلا کام یہ کیا جانا چاہئے کہ چینی کی قیمت پرانی سطح پر لائی جائے۔ کیونکہ اضافہ بلا جواز کیا گیا ہے، ٹیکسوں میں اضافہ ہوا ہے اور نہ گنے کی قیمت میں اضافہ، کاسٹ آف پروڈکشن بڑھی ہے اور نہ چینی کی پیداوار ملکی ضرورت سے کم ہے، پھر یہ یکایک 35 روپے فی کلوگرام اضافہ کس مد میں کیا گیا ہے اور اب تک عوام کی جیبوں سے اربوں روپے نکلوائے جا چکے ہیں مگر نہیں صاحب یہ کام بھی نہیں ہوگا۔ صرف بیانات آئیں گے، دعوے ہوں گے، بڑھکیں ہوں گی، جن کا عوام صرف اچار ڈال سکتے ہیں، انہیں عملاً حاصل وصول کچھ نہیں ہوگا۔

یہ وہ بدقسمت ملک ہے کہ جہاں مافیاز حکومت کو چلاتے ہیں حکومت کی صفوں میں گھس کر عوام کے سینے پر مونگ دلتے ہیں ہمیشہ موقع کی تاڑ میں رہتے ہیں کب عوام پر اپنے مفادات کی چھری چھلائیں۔ جتنے مرضی انکوائری کمیشن بیٹھ جائیں۔ جتنی چاہیں رپورٹیں سامنے آ جائیں مافیاز سے ایک پیسہ برآمد نہیں ہو سکتا۔ سو بھائیو! یہ کورونا وبا ہی نہیں معاشرے میں موجود ہر موقع کو پیسہ بنانے کے جواز میں تبدیل کرنے والے .کورونے. عوام پر عذاب بن کر ٹوٹتے رہیں گے۔ اس کا علاج کسی حکمران کے پاس نہیں کیونکہ یہی مافیاز تو حکمران بنانے کے ٹھیکیدار ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -