امریکہ میں مارشل لاء؟

امریکہ میں مارشل لاء؟
امریکہ میں مارشل لاء؟

  

تازہ خبروں کے مطابق اب تو امریکی صدر نے نیشنل گارڈز کو بھی واشنگٹن کے بازاروں اور چوراہوں سے واپس بلا لیا ہے لیکن دوچار روز پہلے وزارتِ دفاع کے سینئر افسروں اور صدر ٹرمپ کے مابین اس بات پر توتو میں میں ہو گئی تھی کہ ٹرمپ، بعض امریکی شہروں (بالخصوص دارالحکومت واشنگٹن) میں فوج طلب کرنے کا عندیہ دے چکے تھے۔ وجہ وہی تھی جو آپ دیکھ، سن اور پڑھ چکے ہیں۔ ایک کالے امریکی کو ایک گورے امریکی پولیس والے نے مینا پولیس میں گردن پر گھٹنا دے کر مار ڈالا تھاجس پر امریکہ بھر میں مظاہرے شروع ہو گئے تھے۔ یہ 25مئی کا واقعہ ہے لیکن پھر مظاہروں کی یہ لہر یورپ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ تک پہنچ گئی۔ اب خبریں مل رہی ہیں کہ مظاہروں کا زور تھم رہا ہے۔ گزشتہ سوموار کو ٹرمپ نے جب فوج طلب کرنے کا اشارہ دیا تھا تو وزیر دفاع مارک ایسپر (Esper) کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف، جنرل ملی (Milley) نے بھی اس کی مخالفت کی تھی اور کہا تھا کہ ریگولر فوج کو سڑکوں پر لانے کا مطلب یہ ہوگا کہ لوگ سمجھیں گے کہ حکومت مارشل لاء لگانے کا سوچ رہی ہے۔ وزارتِ دفاع میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ ریگولر فوج کو اس وقت طلب کیا جانا چاہیے جب حالات اتنے گھمبیر ہو جائیں کہ نیشنل گارڈز بھی کنٹرول نہ کر سکیں۔(امریکہ میں نیشنل گارڈز کا مطلب نیم مسلح فوجی دستے ہیں جیسے ہمارے ہاں رینجرز ہیں)……

امریکی آئین کے مطابق صدر کو اختیار ہے کہ وہ اگر یہ دیکھے کہ صورتِ حال بغاوت کی طرف جا رہی ہے اور حالات پولیس اور نیشنل گارڈز کے کنٹرول میں نہیں آ رہے تو ریگولر فوج کو طلب کیا جا سکتا ہے۔ اس قانون کو ”1807ء کا قانونِ انسدادِ بغاوت (Anti-Insurrection) ایکٹ“ کا نام دیا جاتا ہے۔ آج سے 213 برس پہلے ایک امریکی صدر تھامس جیفرسن نے یہ ایکٹ پاس کیا تھا اور تب سے لے کر آج تک کئی بار اس ایکٹ کے تحت مختلف برسوں میں مختلف صدور کی طرف سے فوج کو بغاوت اور سرکشی کو کچلنے کے لئے طلب کیا جاتا رہا ہے۔ لیکن اب وزارتِ دفاع کے سینئر اراکین نے محسوس کیا کہ موجودہ حالات اتنے ابتر نہیں ہوئے کہ ان کا ”بہانہ“ بنا کر ریگولر آرمی کے دستے طلب کئے جائیں۔ دنیا جانتی ہے کہ موجودہ صدر امریکہ مسٹر ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج اپنے پیش رو صدور سے کافی مختلف ہے۔ ان کی سیماب صفتی اب ایک مثال اور محاورہ بن چکی ہے۔ ان کی طبیعت میں وہ ٹھہراؤ، استقلال اور پختگی دیکھنے میں نہیں آئی جو ان کے پیش رو صدور کا وتیرہ رہی ہے اور جو ان کے ارفع منصب کے شایانِ شان ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر بگڑ جانا، بلکہ سیخ پا ہو جانا، اعلیٰ فوجی اور سویلین مشیروں اور وزیروں کو سیک کر دینا اور بعد میں اپنے کئے پر نادم نہ ہونا ان کی عادات کا حصہ ہے۔

صدر امریکہ، آئین کے مطابق ملک کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں۔ وہ جسے چاہیں فارغ خطی دے سکتے ہیں اور گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں وہ کئی بار ایسا کر بھی چکے ہیں۔

ویسے تو امریکہ ایک ایسی قوم ہے جو ”ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی“ پر یقین رکھتی ہے۔ ہر شعبے میں نیا پن اور جدّت اس کا شعار ہے۔ کسی ایک شعبہ میں ٹِک کر کام کرنا، امریکیوں کی فطرت نہیں۔ وہ کسی بھی شعبے میں کیرئر آفیسری کے خلاف ہیں اور اس تناظر میں ہم پاکستانیوں سے بالکل برعکس میلانِ طبع کے حامل ہیں۔ آج ریلوے کے محکمے میں ہوں گے تو کل پولیس میں اور پرسوں کسی زرعی یونیورسٹی میں کسی الگ اور نئے شعبے میں کام کرتے نظر آئیں گے۔ان کو ایک جگہ جم کر کام کرنے سے گویا ایک چِڑ سی ہے۔ صرف ایک محکمہ ایسا ہے جس میں لوگ زیادہ دیر تک ٹکتے ہیں اور وہ فوج ہے۔ ان کے ہاں فوج میں آج جو لوگ اعلیٰ عہدوں پر فائز نظر آتے ہیں وہ گویا روائت سے بغاوت کی وجہ سے ہیں۔

روائت یہ ہے کہ کوئی بھی فوجی ایک جگہ دل لگا کر کام نہیں کرتا۔ ان کا دل بہت جلد اچاٹ ہونے لگتا ہے اور وہ کوئی نئی فیلڈ، کسی نئے شعبے اور کسی نئے میدان کا رخ کرتے ہیں۔ خود موجودہ وزیر دفاع ایسپر بھی اسی روائت کے مقلّد ہیں۔ 1986ء میں ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈیمی سے کمیشن حاصل کیا اور 101ائربورن ڈویژن میں تعینات کئے گئے۔ امریکہ کا یہ دوسرا چھاتہ بردار (Air borne) ڈویژن ہے جو دوسری عالمی جنگ کے دوران قائم کیا گیا تھا۔پہلا ائر بورن ڈویژن 82ائربورن ہے، اس ڈویژن کے بیشتر حصے واشنگٹن کے آس پاس تعینات ہیں۔ عوامی مظاہرین کو کنٹرول کرنے کے لئے اس ڈویژن کی خدمات کی بھی ایک تاریخ ہے۔ اور وزیر دفاع چونکہ 101ائربورن ڈویژن میں رہ چکے ہیں۔ اس لئے ان کو معلوم ہے کہ باغی مظاہرین کو قابو کرنے میں جو ٹیکٹکس اور حربے استعمال کئے جاتے ہیں وہ عوام الناس میں کافی نامقبول ہیں۔ ایسپر21برس تک فوج میں رہے (1986ء تا 2007ء) اور لیفٹیننٹ کرنل کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔خود ریٹائر نہیں ہوئے بلکہ ریلیز لے لی اور پھر فوج کے لئے کنٹریکٹروں کی ایک تنظیم میں شرکت کی۔ فوجی بھرتی کے لئے کنٹریکٹروں کی اس تنظیم کا متبادل کسی اور ملک میں شاذ ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ برسبیلِ تذکرہ اس کا کچھ مزید ذکر نامناسب نہ ہوگا……

چونکہ امریکہ دنیا بھر میں مختلف ممالک میں اپنی افواج بھیجتا رہتا ہے اس لئے ٹروپس کی ضرورت ”ہرآن“ رہتی ہے۔ اس ضرورت کا توڑ امریکی جدّت پسندوں نے یہ نکالا ہے کہ ریگولر فوج کی بھرتی ٹیم کے مماثل ایک اور بھرتی ٹیم بنائی ہے جو کنٹریکٹر کہلاتی ہے۔ اس کا باقاعدہ بجٹ ہے جو غیر سرکاری اداروں، کارخانوں اور اشخاص کی جانب سے ادا کیا جاتا ہے۔ یہ ٹھیکے دار باقاعدہ فوجی افسروں اور جوانوں کو تیار کرتے ہیں۔ ان کی باقاعدہ تدریس درسگاہیں (Training Academies) اور تربیتی مراکز ہیں جن میں مختلف ہلکے اور بھاری ہتھیاروں پر اس ”پرائیویٹ آرمی“ کی ٹریننگ کی جاتی ہے اور یہ سب کچھ وزارتِ دفاع کی مرضی سے انجام پاتا ہے۔ اس تنظیم کے لوگ انٹیلی جنس اکٹھی کرنے، خطرناک فوجی مشن انجام دینے اور اس طرح کے دلیرانہ ایکشن بروئے عمل لانے کا فریضہ انجام دیتے ہیں۔ آج افغانستان اور عراق وغیرہ میں جو امریکی ٹروپس برسرپیکار ہیں ان میں سے ہر چوتھا سپاہی کنٹریکٹر ہے…… پاکستان میں بھی ماضیء قریب میں یہ تنظیم کام کرتی رہی ہے…… یہ ایک مبسوط اور طویل موضوع ہے جو بالعموم ہم پاکستانیوں (اور دنیا بھر کے لوگوں) کی نگاہوں سے اوجھل ہے۔ سیکیورٹی کنٹریکٹرز پر ایک طویل آرٹیکل کی ضرورت ہے۔

ہم کہہ رہے تھے کہ امریکہ کے طول و عرض میں جو ہنگامے جاری ہیں ان پر قابو پانے کے لئے صدر ٹرمپ نے جو ریگولر فوجوں کی طلبی کی دھمکی دی ہے وہ فوج کی سینئر لیڈرشپ کو ناگوار گزری ہے۔ ٹرمپ، حسبِ سابق اپنے وزیر دفاع اور پینٹاگون میں تعینات دوسرے ٹاپ کے افسروں کو سیک کر سکتے ہیں۔ لیکن فی الحال وہ ایسا نہیں کریں گے۔ وزیر دفاع مارک ایسپر کا تعلق صدر کی پارٹی (ری پبلکن) سے ہے اور چونکہ 5،6 ماہ بعد امریکہ میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں اس لئے وہ ایسپر کو فائر کرنے سے گریز کریں گے۔ مظاہرین کے بارے میں متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ ایک خبر تو وہی ہے جو کالم کی ابتداء میں لکھی ہے کہ نیشنل گارڈز کو سٹینڈ ڈاؤن کیا جا رہا ہے جبکہ دوسری طرف بعض خبریں یہ بھی ہیں کہ یہ ہنگامے ابھی اس شدت سے جاری ہیں جس میں فوج طلب کرنے پر سوچا جا رہا تھا۔

امن و امان کی صورتِ حال جب خراب ہو جائے تو امریکہ ہی نہیں، دنیا بھر کے ممالک کے دستوروں میں فوج طلب کرنے کی شق موجود ہے۔ پاکستان میں تو اس کی ایک طویل تاریخ ہے اور آج بھی بعض اخباروں کی شہ سرخی تھی: ”ایس او پیز (SOPs) پر عملدرآمد کے لئے فوج اور رینجرز طلب کرنے کی تجویز“…… حکومت آرڈرز ایشو کرتی ہے کہ فاصلہ رکھا جائے اور ماسک کا استعمال کیا جائے۔ لیکن عوام کالانعام ہیں کہ ان احکام کو خاطر میں نہیں لاتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ملک میں کورونا سے اموات کی تعداد میں بتدریج اور بدستور اضافہ ہو رہا ہے۔ اعدادوشمار لکھنے کی ضرورت نہیں۔ میڈیا پل پل کی خبریں دے رہا ہے۔ سندھ کی صورتِ حال بہت ابتر ہے۔ وہاں آئسولیشن، وارڈوں میں کوئی Bedخالی نہیں۔ وینٹی لیٹر تو شائد ہوں گے۔ ان کے آپریٹرز موجود نہیں۔ نرسنگ سٹاف کی ایک بڑی تعداد خود وائرس کا شکار ہو چکی ہے اور موت کے منہ میں جا رہی ہے۔ ایسے میں حکومت کے پاس اس کے سوا چارہ نہیں کہ فوج طلب کرے اور ان طریقہ ہائے کار (SOPs)کی پابندی کروائے جو کئی روز سے میڈیا پر آ رہی ہیں …… لاک ڈاؤن تو کھول دیئے گئے ہیں کہ ایسا کرنا مجبوری تھی لیکن جو لوگ ایس او پیز کی پابندی نہیں کر رہے اور بازاروں، گلیوں، محلوں اور مارکیٹوں میں بے دھڑک کاندھے سے کاندھا ملا کر معمول کے کاروبار میں مصروف ہیں، ان کو کون سمجھائے؟…… اگر پاکستان میں بھی بعض گروہ یہ واویلا مچائیں کہ فوج اور رینجرز کی طلبی نفاذِ مارشل لاء کا پیش خیمہ ہے تو حکومت کے پاس اس کا جواب کیا ہوگا؟اگر فوج کی طلبی کو ایک دھمکی تصور کیاجائے تو اس کو آزمانے میں کیا ہرج ہے؟…… اور یہی بات امریکی صدر ٹرمپ نے بھی کہی ہے کہ باز آ جاؤ ورنہ فوج منگوالوں گا!…… بقولِ شاعر یہ انتباہ ناگزیر ہے:

عجز و نیاز سے تو وہ آیا نہ راہ پر

دامن کو اس کے آج حریفانہ کھینچئے

مزید :

رائے -کالم -