مون سون، کورونا اور خواتین!

مون سون، کورونا اور خواتین!

  

اس بار مون سون کی آمد پر وہ روایتی استقبال نہیں،جس کا مظاہرہ دھوپ سے جھلسے ہوئے لوگ سرمئی بادلوں کے دکھائی دینے پر کیا کرتے تھے۔ ساون بھادوں آم کے مہینے ہیں،اس طرح آم کا پھل مون سون کا ایک لازمی جزو ہے،لیکن حالات اب ویسے نہیں رہے۔انسانی عجلت نے بہت سی روایات کو اُلٹ پلٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ اب آم پنجابی مہینے جیٹھ میں بھرپور فصل کے ساتھ نمودار ہوتا ہے اور لوگ ساون کی پہلی بارش کا انتظار کئے بغیر اس پر ٹوٹ پڑتے ہیں اور پھر پیٹ کی خرابی، معیادی بخار اور پھوڑے پھنسیوں کو موسم کا شاخسانہ قرار دیتے ہیں۔

تاہم اس بار مون سون کی رُت میں وہ پہلے سا رچاؤ بھی نہیں ہے کہ کورونا وائرس کی وبا نے لوگوں کے بہت سارے ارمانوں کا گلا گھونٹ دیا ہے۔ مون سون میں لڑکیاں بالیاں اپنے پہناوؤں کا خاص خیال رکھتی تھیں۔ کپڑوں کی بناوٹ اور رنگوں کے امتزاج کا بطورِ خاص دھیان رکھا جاتا تھا۔ ایسے لباس کو ترجیح دی جاتی تھی جو موسم میں نمی کے باعث بدن کے ساتھ چمٹ نہ جائیں۔لباس کی تراش خراش میں اِس بات کا خیال رکھا جاتا کہ پہناوا آرام دہ، ڈھیلا ڈھالا، سبک اور ہلکا ہو۔ لباس کی مناسبت ہی سے پرس، عینک اور چھاتے کا اہتمام کیا جاتا تھا، جو سرمئی ماحول کی ہلکی پھلکی بارش میں بھلے دکھائی دیتے تھے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگوں کی ترجیحات بدلنے لگیں، موسموں کے مزاج سے آشنا اور اس سے لطف اندوز ہونے سے لوگ محروم ہونے لگے، تب زندگی کی قدروں کے رنگ پھیکے پڑ گئے اور ماحول سے جنم لینے والی خوشیاں معدوم ہوتی چلی گئیں۔

مون سون بہرحال ایک خوش کش ماحولیاتی تبدیلی ہے۔ اس برس یکم جون سے بھارت کے جنوبی علاقے کیرالہ سے مون سون کا آغاز ہو چکا ہے،جو مغربی گھاٹ سے شمال مغرب کی طرف حرکت کر رہا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس بار مون سون کی بارشیں ہمارے ملک میں معمول سے قدرے زیادہ ہوں گی اور اس کا زور سندھ اور کشمیر میں بھی موسم کو متاثر کرے گا۔البتہ خطرہ اِس بات کا ہے کہ مون سون کورونا کی وبا میں شدت پیدا نہ کرے، اِس لئے اس موسم میں احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ بہتر ہے کہ لوگ باہر گھومنے کے بجائے اپنے گھروں میں وقت گذاریں اور خود کو جان لیوا وبائی مرض سے محفوظ رکھیں،کیونکہ اس موسم میں نزلہ و زکام، ملیریا اور ڈینگی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، لہٰذا اس بار گھروں میں رہیں اور طاقت بخش غذاؤں سے اپنی قوتِ مدافعت کو مضبوط بنائیں۔

مَیں حیران و پریشان ہوتی ہوں، جب لوگوں کو سماجی فاصلہ رکھنے سے اجتناب کرتے دیکھتی ہوں۔ اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ جن میں خواتین کی اکثریت ہے،اس طرح کا رویہ اپنائے ہوئے ہیں کہ ان کی تعلیم اور قابلیت پر شک ہونے لگتا ہے۔صوبائی دارالحکومت لاہور میں لاک ڈاؤن میں معمولی سی نرمی برتی گئی تو کورونا کے مریضوں میں یکدم اضافہ ہو گیا۔لوگ اس احساس سے عاری دکھائی دیتے ہیں کہ ان کی بے احتیاطیوں سے کورونا متاثرین کی تعداد میں خوفناک حد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

بہرحال بات ہو رہی تھی مون سون کے موسم کی۔ دیسی مہینوں جیٹھ اور ہاڑ کی جان لیوا گرمی کے بعد دو مہینے ساون اور بھادوں انسانی روح کی طراوت کے لئے ایک بہت بڑا خدائی عطیہ ہیں۔ شدید گرمی سے ستائے لوگ آسمان پر جب امڈتے ہوئے کالے بادل دیکھتے ہیں تو اُن کی روح ایک دم کھل اُٹھتی ہے۔ دیکھتے ہی دیکھتے موسم کی سختی نرماہٹ میں بدل جاتی ہے۔ طبیعت کا بوجھ اُتر جاتا ہے اور بدن ایک انجانی راحت اور آسودگی سے سرشار ہو جاتا ہے۔تاہم مون سون کے تیور اگر بگڑ جائیں، بارشیں موسلادھار اور بلا تعطل برسنے لگ جائیں اور ندی نالے بپھر جائیں تو سیلاب کی آمد کا خدشہ ایک نئی مصیبت کھڑی کر دیتا ہے اور اگر بارشیں معمول سے کم ہوں تو زمین کی سیر یابی متاثر ہوتی ہے اور قحط کا اندیشہ سر اٹھانے لگتا ہے۔ موسموں کی تبدیلی پر مَیں ربِ ذوالجلال سے عافیت کی دُعا مانگتی ہوں۔ وہ ذات ہر شے پر قادر ہے اور اُسی کے ہاتھ میں بہتری اور بھلائی ہے۔

کورونا وائرس کے اس وبائی دور میں کہ جس سے پوری دُنیا میں صفِ ماتم بچھ چکی ہے، برصغیر میں مون سون کی آمد پر ہم ربِ کریم و رحیم سے دُعا گو ہیں کہ وہ ہمارے وطن ِ عزیز پر رحم فرمائے اور بدلتے موسموں کو ہمارے حق میں بہتر بنا دے۔ زندگی ربِ کریم کی عطا کردہ ایک امانت ہے۔ اس امانت کے تقاضوں کو پورا کرنا ہمارا فرض ہے اِس لئے لازم ہے کہ ہم زندگی اس طرح گذاریں کہ امانت میں خیانت نہ ہو اور اس کے تقاضے بہ احسن و خوبی پورے ہوں۔

بس دُعا ہے کہ مون سون اپنی نعمتوں کے ساتھ ہم پر وارد ہو اور ہم اس کے لطیف اور مفید پہلوؤں سے لطف اندوز ہو سکیں۔

مزید :

ایڈیشن 1 -