بروقت تشخیص سے برین ٹیومر کا علاج ممکن ہے،ڈاکٹر عرفان یوسف

  بروقت تشخیص سے برین ٹیومر کا علاج ممکن ہے،ڈاکٹر عرفان یوسف

  

لاہور(سٹی رپورٹر)دنیا بھر میں ہر سال 8جون کو برین ٹیومر سے آگاہی کا عالمی دن منایا جاتاہے، بر وقت تشخیص اور جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے اس کا کامیاب علاج ممکن ہے۔ اگر کسی کو اس کی علامات مثلاً سرمیں مستقل درد، اُلٹیاں، مرگی جیسے دورے پڑنا یا جسم کے کسی مخصوص حصے کا مستقل طور پر سن یا کمزور ہونا اور نظر کا دھندلا جانا محسوس ہوں تو ایسی صورت میں میں ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق سی ٹی سکین یا ایم آر آئی سکین ضرور کروا لینی چاہیے ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر عرفان یوسف، کنسلٹنٹ نیورو سرجن، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اینڈ ریسرچ سنٹر نے ورلڈ برین ٹیومر ڈے پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ڈاکٹر عرفان یوسف نے بتایا کہ کچھ ایسی وجوہات ہیں جن کی وجہ سے برین ٹیومر ہوسکتا ہے جیسا کہ ریڈی ایشن والی جگہ یا ماحول میں رہنے والے یا کام کرنے والے افراد میں اس بیماری ہونے کا خطرہ ہوسکتا ہے۔

ڈاکٹر عرفان نے بتایا کہ سردرد، دورے پڑنے کے علاوہ بولنے میں دقت ہونا، یادداشت کاخراب ہونا، نظر کا خراب ہونا بھی برین ٹیومر کی علامات ہوسکتی ہیں اور اس کی تشخیص کیلئے دماغ کا سی ٹی سکین یا ایم آر آئی سکین کی مدد لی جاتی ہے۔ ٹیومر ایک ایسا مرض ہے جس میں جسم کے کسی بھی حصے کے خلیے از خود بڑھنے لگتے ہیں اور جسم کے نظام کا ان پر سے کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ برین ٹیومر بھی اسی طرح کی ایک بیماری ہے جس کے انسانی جسم پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ان کی مختلف اقسام ہیں جیسا کہ بعض برین ٹیومر سست روی سے بڑھتے ہیں جبکہ کچھ انتہائی تیز رفتاری سے بڑھتے ہیں۔ میڈیکل کی زبان میں ان کو نوعیت کے اعتبار سے 1سے4 تک کے مختلف گریڈز میں بانٹا جاتا ہے۔ برین ٹیومر تشخیص ہوجانے کی صورت میں ٹیومر کی قسم اور گریڈ معلوم کرنے کیلئے بائی آپسی کا استعمال کیا جاتا ہے اور دیکھا جاتا ہے کہ یہ ٹیومر دماغ سے نکلا ہے یا جسم کے کسی اور حصے سے نکل کر دماغ تک پہنچا ہے اور ٹیومر بے ضرر یعنی بینائن ہے جسے نکال دیا جائے تو واپس آنے کا امکانا ت بہت کم ہوتے ہیں یا نقصان پہنچانے والا یعنی میلگننٹ (malignant)۔ میلگننٹ ٹیومر اگر کم گریڈ والا ہوتو متوقع زندگی زیادہ جبکہ زیادہ گریڈ ہونے کی صورت میں متوقع زندگی کم ہوسکتی ہے۔ایسے ٹیومر جو تیزی سے نہیں بڑھتے ان کو اگر نکال دیا جائے تو مریض کی زندگی بڑھ جاتی ہے۔دماغ کا سٹرکچر چونکہ بہت نازک ہوتا ہے اس لیے برین ٹیومر کا آپریشن بھی انتہائی پیچیدہ ہوتا ہے جو کہ صرف قابل اور تجربہ کار ڈاکٹرز ہی کر سکتے ہیں۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -