ٹیکسٹائل صنعت سے محنت کشوں کو جبری نکالنے کا عمل برداشت نہیں،اعجاز حسین

ٹیکسٹائل صنعت سے محنت کشوں کو جبری نکالنے کا عمل برداشت نہیں،اعجاز حسین

  

لاہور(جنرل رپورٹر،لیڈی رپورٹر) کورونا وبا کی آڑ میں محنت کشوں کو ٹیکسٹائل انڈسٹری سے جبری نکالنے کے عمل کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ لیبر منسٹر نوٹس لیں۔ مطالبات تسلیم نہ ہوئے تو ملک بھر میں دما دم مست قلند ر ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار پاسبان لیبر موومنٹ پاکستان کے مرکزی صدر میاں اعجاز حسین نے مرکزی و صوبائی عہدیداروں کے ہمراہ لاہور پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر نیشنل لیبر فیڈریشن پنجاب کے صدر امین منہاس پاسبان یونین کے عہدیداران مدثر طور،شیخ فہیم الدین، رانا بابر عمران، ملک نثار، عبدالرحمن، عارف شاہ و دیگر موجود تھے۔میاں اعجاز حسین نے کہا کہ لاکھوں نوکریاں دینے کے دعویداروں کی حکومت میں مبینہ طور پر قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے صنعت کار فیکٹریوں اور ٹیکسٹائل انڈسٹری سے لاکھوں محنت کشوں کو بے روزگار کررہے ہیں۔ جس پر حکومت کی خاموشی سوالیہ نشان ہے۔

مستقل ورکرز کو نکال کر ڈیلی ویجز پر ورکرز کو بھرتی کیا جارہا ہے۔حکومت نے سرمایاداروں کو نوازنے کیلئے ملز اور فیکٹریوں کے کروڑوں روپے کے بجلی بل اور ٹیکس معاف کردیے۔مگر صنعت کا پہیہ چلانے والے غریب محنت کشوں کو نظرانداز کیا گیا۔ ابھی تک محنت کشوں کو کرونا ریلیف وائرس فنڈز سے کسی قسم کی کوئی امداد نہیں ملی۔تحریک انصاف اور ابراہیم فائبر کے تعلقات نے غریب محنت کشوں کوبے روزگارکردیا ہے جس کے خلاف ہر فورم پر آواز بلند کریں گے۔محنت کشوں کی بحالی تک آہنی و جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔ اپوزیشن جماعتیں اس اہم معاملہ میں اپنا کردار ادا کریں۔ لیبر پالیسی محض فائلوں تک محدود ہوگئی ہے۔لیبر ڈیپارٹمنٹ صنعت کاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہیں۔ 80فیصد فیکٹریاں رجسٹرڈ ہی نہیں۔سوشل سیکورٹی کارڈز، EOBIکارڈز،میر ج گرانٹ،ڈیتھ گرانٹ و دیگر سہولیات سے محنت کشوں کو محروم کیا جارہا ہے۔ انہوں نے آمدہ بجٹ کے حوالہ سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت اگر محنت کشوں کو ریلیف دینے میں سنجیدہ ہے تو مزدور کی کم از کم 30ہزارروپے تنخواہ مقرر کی جائے۔ اسی طرح اجرتوں میں کم از کم 60فیصد اضافہ ہونا چاہیے۔ محنت کشوں کو نظرانداز کرکے ملکی معیشت مضبوط نہیں ہوسکتی۔ لہذا حکومت توجہ دے۔ملز اور فیکٹریوں ورکرز کو بحال نہ کیا گیا تو راست اقدام اٹھائیں گے پھر کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کی ذمے داری ہم پر نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کی ذمہ دار حکومت اور انتظامیہ ہوگی۔

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -