واشنگٹن احتجا ج مظاہرے میں سینیٹر مٹ رومنی کی شرکت، ٹرمپ ناراض

  واشنگٹن احتجا ج مظاہرے میں سینیٹر مٹ رومنی کی شرکت، ٹرمپ ناراض

  

واشنگٹن (اظہر زمان،بیورو چیف) ایک سیاہ فام جارج فلائیڈ کی سفید فام پولیس افسر کے ہاتھوں ہلاکت کیخلاف د و ہفتے قبل پورے ملک میں شروع ہونیوالے احتجاجی مظاہرے بدستور جاری ہیں۔ واشنگٹن ڈی سی، نیو یارک اور لاس اینجلس سمیت دیگر شہروں میں بڑی بڑی ریلیاں نکالی گئیں جہاں مظاہرین نسلی منافرت کیخلاف نعرے بازی کرتے رہے اور ہلاکت کے ذمہ دار افسروں کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے رہے۔ اب ان کی طرف سے یہ نیا مطالبہ شروع ہوا ہے کہ محکمہ پولیس کے فنڈ ختم کر کے اس کی از سر نو تشکیل کی جائے، صدر ٹرمپ نے فوری طور پر ایک ٹوئیٹر پیغام میں اسی مطالبے کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ اس کی بجائے امن و امان قائم کرنے کی ضرور ت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیمو کریٹک پارٹی کے انتہا پسند بائیں بازو کے ارکان احمقانہ سوچ رکھتے ہیں۔ تاہم انہوں نے مظاہرین کیخلاف تشدد کے الزام سے بچنے کیلئے نیشنل گارڈ کے دستوں کو دارالحکومت سے نکل جانے کا حکم دیا جنہیں امن و امان قائم رکھنے کیلئے پولیس کی مدد کیلئے طلب کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا ہے کہ اتوارکی شام واشنگٹن سے نکلنے والی ریلی میں سابق صدارتی امیدوار اور حکمران ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر مٹ رومنی نے بھی شرکت کی جن پر صدر ٹرمپ نے سخت نکتہ چینی کی۔ مٹ رومنی نے اس موقع پر ”این جی سی“ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا ”ہمیں نسلی منافرت کیخلاف آواز بلندکرنی چاہئے اور انہوں نے ریلیوں میں بلند ہونیوالے اسی نعرے کی بھی پرزور حمایت کی کہ ”سیاہ فاموں انسانوں کی زندگیاں بھی اہمیت رکھتی ہیں“۔ ریاست منی سوٹا کے شہر منا پولیس میں سیاہ فام باشندے کو ہلاک کرنیوالے 44سالہ سفید فام پولیس آفیسر ڈیرک چون کوحراست میں لے لیا گیا تھا اسے پہلی مرتبہ عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس پر قتل کے الزام میں مقدمہ چلے گا جبکہ اس کے باقی تین ساتھی پولیس افسروں پر قتل میں معاونت کا الزام لگایا گیا ہے۔

واشنگٹن مظاہرے

لندن، واشنگٹن (نیوز ایجنسیاں) امریکی سیاہ فام جارج فلائیڈ کی ہلاکت پر برطانیہ میں بھی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، مظاہرین نے ونسٹن چرچل کو نسل پرست قرار دیتے ہوئے سابق برطانوی وزیراعظم کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کرنے کیساتھ ان کی یادگار پر کھڑے ہوکر نعرے بھی لگائے۔ادھر امریکہ میں فوج کی تعیناتی کے معاملے پر سابق فوجی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف آہنی دیوار بن گئے جبکہ سابق امریکی وزیر خارجہ ریٹائرڈ جنرل کولن پاول بھی امریکی صدر پر برس پڑے۔تفصیلات کے مطاب سینٹرل لندن میں ہونیوالا احتجا ج پر امن رہا لیکن وزیراعظم بورس جانسن کی رہائش گاہ کے قریب ہونیوالے احتجاج میں جھڑپیں ہوئیں تاہم بعد ازاں احتجاج ختم کردیا گیا۔مظاہرین نے سابق وزیراعظم ونسٹن چرچل کونسل پرست قرار دیا اور سابق برطانوی وزیراعظم کے مجسمے کی توڑ پھوڑ کرنے کیساتھ ان کی یادگار پر کھڑے ہوکر نعرے بھی لگائے۔ مظاہرین نے گاندھی سمیت دیگر مجسموں پر پلے کارڈ ز بھی نصب کئے۔مظاہرین نے پارلیمنٹ کی جانب جانیوالے پل پر بھی ایک گھنٹہ احتجاج کیا اور جارج فلائیڈ کو انصاف فراہم کرنے کے نعرے لگائے۔برطانیہ میں نسل پرستی کیخلاف احتجاج کے دوران مظاہرین نے سترویں صدی میں انسانوں کی تجارت کرنیوالے شخص ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کو غیض و غضب کا نشانہ بنایا۔مظاہرین ایڈورڈ کولسٹن کے مجسمے کی گردن میں رسی ڈال کر گھسیٹتے ہوئے لائے اور مجسمہ کو دریا میں پھینک دیا۔دوسری طرف امریکہ میں فوج کی تعیناتی کے معاملے پر سابق فوجی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیخلاف آہنی دیوار بن گئے۔سابق امریکی وزیر خارجہ ریٹائرڈ جنرل کولن پاول امریکی صدر پر برس پڑے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ آئین سے ہٹ گئے ہیں جبکہ ہمارے پاس آئین ہے اور ہمیں آئین کے مطابق چلنا ہے۔ امریکی صدر کیخلاف جو سابق آرمی افسران نے کہا اس پر فخر ہے۔اس سے قبل امریکہ میں فوج کی تعیناتی پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیر دفاع میں اختلافات سامنے آئے تھے۔امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے فوج کی تعیناتی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا تھا کہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فوج بلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ سکیورٹی صورتحال میں فوج کی تعیناتی آخری حل ہونا چاہیے۔امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ مارک ایسپر کے بیان کے بعد انکا عہدہ غیر محفوظ ہو گیا ہے،تاہم وائٹ ہاؤس نے مارک ایسپر کی تبدیلی کی خبروں کی تردید کر دی۔سابق امریکی وزیر دفاع جیمزمیٹس نے بھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدامات پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ میری زندگی میں پہلا صدر ہے جو امریکیوں کو متحد نہیں کر سکا، اپنے ہی شہروں کو میدان جنگ بنانے کی سوچ مسترد کرنی ہو گی، ہم نے تصور نہیں کیا تھا کہ آئین کی پاسداری کا حلف لینے والے فوجیوں کو خلاف ورزی کا حکم ملے گا۔ آئین سے کھلواڑ کرنیوالوں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔ ڈونلڈ ٹرمپ امریکہ کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

جارج فلائیڈ معاملہ

مزید :

صفحہ اول -